نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- حضوراکرم ﷺنےخواتین،بیواؤں اورغلاموں کوحقوق دیئے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ہمیں عظیم قوم بنناہےتواسلامی اصولوں پرچلناہوگا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ملک کانظام تب درست ہوگاجب قانون کی حکمرانی ہوگی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- وزیر اعظم عمران خان کارحمت اللعالمین ﷺکانفرنس سےخطاب
  • بریکنگ :- نوجوان نسل کونبی کریم ﷺکی سیرت کاعلم ہوناچاہیے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- آپ ﷺکی تعلیمات سےہمیں رہنمائی لینےکی ضرورت ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- اللہ نےسب کچھ دیا،ملک میں کسی چیز کی کمی نہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- مدینہ کی ریاست ہمارےلیےرول ماڈل ہے،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- آپ ﷺدنیامیں تلوارکےذریعےنہیں،اپنی سوچ سےانقلاب لائے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ریاست مدینہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ ہرمعاشرےکیلئےمثالی نمونہ بنی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- اگرہمیں عظیم قوم بنناہےتواسلامی اصولوں پرچلناہوگا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- انصاف ہمیشہ کمزورکوچاہیے،طاقتورخودکوقانون سےاوپرسمجھتاہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- انصاف اورانسانیت کی وجہ سےقوم مضبوط ہوتی ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ہماری جدوجہدملک میں قانون کی بالادستی کیلئےہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- بزدل انسان کبھی لیڈرنہیں بن سکتا،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- آپ ﷺنےاپنی سیرت مبارکہ کےذریعےانصاف کادرس دیا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- آپ ﷺنےمعاشرےمیں اچھےبرےکی تمیزرکھی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- صرف اسلام نےیہ حق دیاکہ کئی غلام حکمران بن گئے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ریاست مدینہ میں میرٹ کاسسٹم تھا،باصلاحیت افراداوپرآتےتھے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- عزت،رزق اورموت صرف اللہ تعالیٰ کےہاتھ میں ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- اسلام نےپہلی بارخواتین کووراثت میں حقوق دیئے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- پناماکیس میں کیابتاؤں کس طرح کےجھوٹ بولےگئے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- کیس برطانوی عدالت میں ہوتاتوان کواسی وقت جیل میں ڈال دیاجاتا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- برطانوی جمہوریت میں ووٹ بکنےکاتصوربھی نہیں کیاجاسکتا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- سب کوپتہ ہےکہ سینیٹ انتخابات میں پیسہ چلتاہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- برطانیہ میں چھانگامانگاجیسی سیاست نہیں ہوتی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- اخلاقیات کامعیارنہ ہوتوجمہوریت نہیں چل سکتی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- قانون کی بالادستی کےبغیرخوشحالی کاخواب پورانہیں ہوسکتا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- دنیامیں امیراورغریب کافرق بڑھتاجارہاہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- سالانہ ایک ہزارارب ڈالرچوری ہوکرآف شورکمپنیوں میں چلاجاتاہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- انصاف کانظام نہیں ہوگاتوخوشحالی نہیں آئےگی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- طاقتوراورکمزورکیلئےالگ الگ قانون سےقومیں تباہ ہوجاتی ہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- 50سال پہلےپاکستان خطےمیں تیزی سےترقی کررہاتھا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ہمیں اپنی سمت درست کرنی ہے،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- ملکی ترقی کیلئےنظام درست کرنےکی ضرورت ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- قانون کی حکمرانی کیلئے آوازبلندکرتارہوں گا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- طاقتورکوقانون کےنیچےلاناہوگا،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- فلاحی ریاست بنانےکےلیےکوشاں ہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- احساس پروگرام کےتحت سواکروڑخاندانوں کوسبسڈی دیں گے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- معاشرےمیں جنسی جرائم کابڑھنابہت خطرناک ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- نوجوانوں کوسود کےبغیرقرضےدیں گے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- اپنے نوجوانوں کوبےراہ روی سےبچاناہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ہالی ووڈکلچرہمارےنوجوانوں کوتباہ کرے گا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- خاندانی نظام میں بہتری لانےکی ضرورت ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ٹی وی چینلزکےپروگراموں کومانیٹرکرنےکی ضرورت ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- بچوں سےموبائل نہیں چھین سکتےکم ازکم تربیت توکرسکتےہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- مغرب کونہیں پتاہم اپنےنبی ﷺسےکتنی محبت کرتےہیں،وزیراعظم
Coronavirus Updates
"KNC" (space) message & send to 7575

ٹیکس یا زکوٰۃ؟

انسان نے اپنی مرضی سے غلامی کے جو طوق پہنے‘ اُن میں سے ایک ٹیکس کا موجودہ نظام بھی ہے۔
جمہوریت کا آغاز ایک نعرے سے ہوا تھا جو ایک عوامی تحریک میں ڈھل گیا۔ یہ نعرہ تھا: No taxation without representation اس کا مفہوم یہ ہے کہ ٹیکس عائد کرنے کا اختیار عوام کے منتخب نمائندوں یعنی ایوانِ نمائندگان کو ہونا چاہیے‘ کسی ہاؤس آف لارڈز کو نہیں۔ اس اختیار کو پھر اس طرح استعمال کیا گیا کہ انسان اس نظام کا معاشی غلام بن کے رہ گیا۔ اب اس کے پاس فرار کا کوئی راستہ نہیں کہ اس پر ٹیکس کوئی غیر یا آمر نہیں‘ اس کے ووٹوں سے منتخب نمائندے عائد کر رہے ہیں۔ یہ کسی ایک حکومت کی نہیں‘ جمہوریت کی کوکھ سے جنم لینے والے نظام کی عطا ہے۔
اس باب میں البتہ ہماری اور مغرب کی جمہوریتوں میں ایک نمایاں فرق ہے۔ مجھے اس وقت اپنی جمہوریت سے غرض ہے یا یوں کہیے کہ جمہوریت کے نام پر اس ملک میں جو نظام نافذ ہے‘ مجھے اس سے سروکار ہے۔ مغرب میں شہری جو ٹیکس دیتا ہے‘ اس کو اطمینان ہوتا ہے کہ اس کا بڑا حصہ‘ بالواسطہ اس کی فلاح و بہبود پر خرچ ہو رہا ہے؛ تاہم‘ اس کے باوجود یہ ایک ظلم ہے جو انسانوں پر روا رکھا جا رہا ہے۔ مکرر عرض ہے کہ میرا مسئلہ تو وہ نظام ہے‘ میں جس کا اسیر ہوں۔
پاکستان میں‘ آج ٹیکسوں کا ایک ظالمانہ نظام نافذ ہے۔ عوام سے نام بدل کر بار بار ٹیکس لیا جاتا ہے اور مجھے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس ملک میں دیانت داری سے ٹیکس دینا ممکن ہی نہیں۔ تنخواہ دار طبقہ مجبور ہے کہ پورا ٹیکس دے۔ اس کو ریاست یا آجر کبھی پوری تنخواہ نہیں دیتے۔ اسے ٹیکس وصول کرنے کے بعد تنخواہ دی جاتی ہے۔ اس کے بعد بھی اس کو معاف نہیں کیا جاتا۔ عام شہری کو قدم قدم پر ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ ایک فطری تقاضے کے تحت‘ وہ اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ پھر اسے جہاں موقع ملتا ہے‘ وہ ٹیکس نہیں دیتا۔
میں ایک ایسے خاندانی نظام میں رہتا ہوں‘ جس میں روزمرہ کے معاملات کی ذمہ داری مجھ پر نہیں ہے۔ سادہ لفظوں میں مجھے آٹے دانے کا بھاؤ معلوم نہیں تھا۔ چند برسوں سے لیکن صورتِ حال بدل گئی ہے۔ بعض اسباب سے میں اب بازار کے حالات سے واقف ہو چکا ہوں۔ مہنگائی کا بڑھنا پہلے میرے لیے اخبار کی ایک خبر تھی۔ آج میراذاتی تجربہ ہے۔ یہ مہنگائی ظاہر ہے کہ ٹیکسوں کی بھرمار کی وجہ سے ہے۔
چند دن پہلے میں نے گھر آنے والے سودا سلف کی لسٹ دیکھی۔ اس لسٹ کے مطابق‘ جو اشیا خریدی گئیں‘ ان میں سے ہر ایک پر‘ قیمت کے ساتھ‘ الگ سے ایک ٹیکس‘ جسے جی ایس ٹی کہا جاتا ہے‘ وصول کیا گیا۔ یہ بل بیس اکیس ہزار کا تھا۔ مجموعی بل کے ساتھ‘ پچیس سو دس روپے‘ ٹیکس کی مد میں وصول کیے گئے۔ میں نے بل دیکھا تو سر پیٹ کے رہ گیا۔ میں نہیں جان سکا کہ جب ہر چیز پر ٹیکس دیا جا چکا تو پچیس سو دس روپے کا جرمانہ کیوں؟ کیا یہ پاکستانی ہونے کی سزا ہے؟ مجھے پر ٹیکس کا یہ ظالمانہ نظام ایسی حکومتوں نے نافذ کیا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ عوام کے منتخب نمائندوں کے ہاتھ میں ہیں۔
اسی طرح کی صورتِ حال کا مجھے ہر سال سامنا کرنا پڑتا ہے جب میں اپنی ٹیکس ریٹرن جمع کراتا ہوں۔ میری آمدن میں ایک پیسہ ایسا شامل نہیں جس پر ٹیکس ادا نہ کیا گیا ہو۔ میرے اکاؤنٹ میں جو پیسہ آتا ہے‘ اس کا ٹیکس پہلے ہی کٹ چکا ہوتا ہے۔ اس کے باوجود جب سال کے آخر میں‘ میں اپنی ریٹرن جمع کراتا ہوں تو مجھے معلوم ہوتا ہے کہ میری مجموعی آمدن کے حساب سے مجھے اتنا ٹیکس مزید ادا کرنا ہے۔ وہی دکان کے بل کی طرح۔ جب ساری آمدن پر ٹیکس دیا جا چکا تو پھر مزید ٹیکس کیوں؟
اصولاً جب میں اپنی آمدن پر ایک بار ٹیکس ادا کر چکا تو پھر مجھ سے مزید ٹیکس نہیں لینا چاہیے۔ ایسا لیکن ہوتا نہیں۔ میں قدم قدم پر ٹیکس دیتا ہوں اور یہ تمام ٹیکس میرے منتخب نمائندے مجھ پر عائد کرتے ہیں۔ ہر حکومت کھلم کھلا دھوکہ دیتی ہے کہ نئے ٹیکس سے عوام پر اثر نہیں پڑے گا۔ واقعہ یہ ہے کہ ہر ٹیکس کا اثر عوام ہی پر پڑتا ہے۔ جس سٹور پر حکومت نے ٹیکس عائد کیا‘ اس نے پچیس سو روپے کی صورت میں‘ وہ ٹیکس مجھ سے‘ ایک عام صارف سے وصول کیا۔ کچھ پیسے ممکن ہے اس نے مزید دیے ہوں لیکن اس کا بڑا حصہ مجھ سے لیا گیا۔
ہر حکومت یہ سوچتی ہے کہ سرکاری آمدن بڑھانے کے لیے کس طرح زیادہ سے زیادہ ٹیکس جمع کیا جائے۔ اس لیے اسے بطور کارکردگی پیش کیا جاتا ہے کہ ہم نے پچھلے سال کی نسبت‘ اس سال زیادہ ٹیکس جمع کیا۔ گویا اس نظام نے ظلم کو کارنامہ بنا دیا۔ اب عام آدمی کا معاملہ یہ ہے کہ اس کی آمدن سکڑ رہی ہے اور اس کے اخراجات بڑھ رہے ہیں۔ اس ملک کے عوام نے چونکہ ظلم کے ساتھ بقائے باہمی کا معاہدہ کر لیا ہے‘ اس لیے آمدن اور اخراجات کے فرق پر ان کی سوچ کا زاویہ ہی بدل دیا ہے۔ اب عام آدمی اس پر احتجاج کے بارے میں نہیں سوچتاکہ اس پر لاتعداد ٹیکس کیوں عائد کیے جا رہے ہیں۔ وہ اگر سوچتا ہے تو یہ کہ اس فرق کو کس طرح پورا کرے۔ قرض سے‘ آمدن میں اضافے سے یا ٹیکس کی چوری سے؟
کیا ہمارے پاس اس کا کوئی متبادل موجود ہے؟ اس ملک کے اہلِ علم کو اسی سوال کا جواب تلاش کرنا ہے۔ اسلام کے نقطہ نظر سے‘ ہماری تفہیم کے مطابق‘ ریاست زکوٰۃ اور عشر کے علاوہ بزور کوئی ٹیکس نہیں لے سکتی۔ کسی مشکل مرحلے پر عوام سے درخواست کر سکتی ہے۔ سود کی طرح یہ بے شمار ٹیکس‘ استحصال کی ایک صورت ہے۔ سود کے خلاف تو یہاں آواز اٹھائی جاتی ہے جو مبارک ہے لیکن ٹیکسوں کا یہ نظام‘ ہمارے اہلِ مذہب میں کبھی زیرِ بحث نہیں آتا۔
ہر حکومت ٹیکس میں اضافے کی تدبیر سوچتی ہے۔ ایسا آدمی ڈھونڈ کر ایف بی آر کا سربراہ چنا جاتا ہے جو زیادہ سے زیادہ ٹیکس جمع کرنے کی ضمانت دے۔ اصل ضرورت ٹیکس کے اس نظام میں اصلاح کی ہے۔ ایسا نظام جو امرا سے ٹیکس وصول کرے اور محروموں پر خرچ کرے۔ موجودہ نظام تو سارا بوجھ کم آمدن اور محروم طبقات کو منتقل کر دیتا ہے۔ زکوٰۃ اسی کا نام ہے کہ صاحبانِ نصاب سے لے کر سماج پر خرچ کیا جائے۔
بعض لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ زکوٰۃ سے اتنی رقم نہیں مل سکتی جو جدید ریاست کا نظام چلانے کے لیے کفایت کرتی ہو۔ اہلِ علم نے بتایا ہے کہ اگر زکوٰۃ اور عشر کو قرآن مجید اور رسالت مآبﷺ کی سنت کی روشنی میں اچھی طرح سمجھ کر نافذ کیا جائے تویہ اعتراض پیدا نہیں ہوتا۔ ٹیکس سے زکوٰۃ کی طرف سفر تدریجاً ہو گا لیکن کوئی سوچنا تو شروع کرے۔ اس کے بغیر ریاست مدینہ کا کوئی تصور امرِ واقعہ نہیں بن سکتا۔ جس طرح حکومت نے بیوروکریسی کے نظام میں اصلاحات کے لیے ایک کمیٹی بنائی تھی‘ اسی طرح کی ایک کمیٹی بننی چاہیے کہ ٹیکسیشن کے موجود نظام کا متبادل کیا ہو؟
لوگ سیدنا علیؓ کا یہ قول اکثر دہراتے ہیں کہ کفر کی حکومت قائم رہ سکتی ہے‘ ظلم کی نہیں۔ ٹیکس کا نظام ظالمانہ ہے۔ اس کے ساتھ بھی حکومتیں قائم نہیں رہتیں۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ خوئے غلامی ہماری نفسیات میں اس طرح داخل ہے کہ اس نے احتجاج کی صلاحیت ہی چھین لی ہے۔ اس لیے اب حکومتوں کے لیے کوئی خطرہ باقی نہیں رہا۔ آج اگر ایک ہزار روپے ٹیکس کے ساتھ‘ حکومت دو جوتوں کا بھی اضافہ کر دے تو عوام بخوشی 'ادا‘ کر دیں گے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں