کنواروں کا چین

سال کے گیا ر ہویں مہینے یعنی نومبر کی گیارہ تاریخ کو چین میں کنوارے مرد اور عورتیں ایک جشن برپا کر دیتے ہیں اور اس طوفانی جشن کی وجہ ہر سال 11نومبر کو منایا جانے والا کنواروںکا دن (Singles Day ) ہے۔ آپ اس تہوار کو مکمل طور پر چین کی نئی نسل سے منسوب کر سکتے ہیں کیونکہ اس کا آغاز یونیورسٹی کے طلبا نے کیا اور آج کی اس انٹر نیٹ نسل نے اس کو اتنا مقبول بنا دیا کہ اس سال اس دن کے چوبیس گھنٹوں کے دوران ای کامرس کی دنیا کے ایک بہت بڑے ادارے علی بابا گروپ (Alibaba Group) نے اس ایک دن میں کی جانے والی آن لائن شا پنگ کے نئے ریکارڈز قائم کر دیے۔ دل تھام کر پڑھئے گا کہ ان چوبیس گھنٹوں میں چینی باشندوں نے اس ویب سائٹ پر نو ارب تیس کروڑ ڈالر یعنی دس کھرب روپے کے لگ بھگ آن لائن شاپنگ تحائف کی مد میںکر ڈالی۔ اگلے روز اس ویب سائٹ کے دفترمیں، جو چین کے شہر ہانگ چو میں واقع ہے، ایک جشن کا سماں تھا اور یہاں کے ملا زمین کی جشن مناتی تصاویر اخبارات میں نمایاں طور پر شائع ہوئیں۔یہ تو صرف آن لائن شاپنگ کی رقم ہے خود ہی اندازہ لگا لیں کہ اس دن ہونے والی پارٹیوں پر کتنا خرچ کیاگیا ہو گا۔ یہاںپہنچ کر ذہن تو کیا کیلکو لیٹر بھی جواب دے سکتا ہے۔اتنی بڑی معاشی سرگرمی اور وہ بھی ایک دن میں، اسی لئے تو پاکستان سمیت دنیا بھر میں چینوں چین ہو رہا ہے۔
موجودہ دنیا میں کنوارے ہونے کے لیے زیادہ جوان ہونا ضروری نہیں رہ گیا ہے۔ تیز رفتار ترقی اور بہترکیریئرکی تلاش میںاکثرلوگ شادی کو اپنی پہلی ترجیح نہیں بنا رہے اور یہ رجحان چین میں بھی یہاں کی معاشی ترقی کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔یہاں مسابقت (Competition) کی اس فضا میں اچھے کیرئیراور معاوضوں کی جنگ اتنی بڑھ چکی ہے کہ زیادہ پُر عزم لوگ شادی کو کوئی فوری ضرورت نہیں سمجھتے۔ وہ اپنی آمدنی اور ترقی کے ساتھ ایک آزاد اور پُر تعیش زندگی کے عادی ہو جاتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میںکام کے بعد دوستوں یاروں کے ساتھ موج مستی(Happy Hours)والا معاملہ اور برانڈڈ لائف اسٹائل۔ یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ دوسرا رخ نچلی سطح کا وہ طبقہ ہے جن کی کم آمدنیاں ان کو شادی اور گھر داری جیسے معاملات شروع کرنے کا حوصلہ نہیں دیتیںاور وہ شادی کی ٹینشن لینے کے بجا ئے مقامی ماڈل کانیا اسمارٹ فون لے کر خوش ہو جاتے ہیں۔ تصویر کا تیسرا رخ ( جی ہاں چین کو سمجھنے کے لئے تصویر کے سینکڑوں رخ دیکھنے پڑتے ہیں) بہت دلچسپ اور چٹ پٹا ہے اور وہ ہیں ان کنواروں کے والدین جو اپنے بچوں کے رشتوں کے لئے ہمہ وقت مصروف رہتے ہیںبلکہ اتنے زیادہ کہ ہمارے ہاں کی رشتے کروانے والی خواتین بھی اپنے کان پکڑ لیں۔یہ تو یہاں کے کنواروں کی خوش قسمتی ہے کہ اکثر یت اپنی نوکریوں یا کاروبار کے باعث والدین سے دور رہتی ہے اور سالانہ تعطیلات میں ہی ملاقات ہو پاتی ہے جس کا سارا وقت یہ کنوارا گروپ اپنے ماں باپ سے متوقع آمدنی اور ممکنہ شادی کے متعلق مشورے سنتا رہتا ہے۔ اس اعتبار سے ہم پاکستانی اور چینی والدین کو ایک صف میں کھڑا کر سکتے ہیں۔ فرق صرف بچوں کی تعداد کا ہے یعنی چینی ایک یا دو بچے اور پاکستانی یہی کوئی ایک سے دس بارہ تک۔غیر شادی شدہ چینی خواتین رشتوںکے معاملے میں خصوصی دبائو اور سلوک کا سامنا کرتی ہیں جو بعض اوقات خاصے تلخ ہوتے ہیں۔ یہاں مردوں کی آبادی کا تناسب خواتین سے کافی زیادہ ہونے کے باوجود ایک چینی عورت کے لئے خواہ وہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتی ہو،مناسب شوہر کی تلاش کسی چیلنج سے کم نہیں۔بات صرف یہاں پر نہیں ٹھہرتی بلکہ یہ عورتیں جو کسی شعبے میں مردوں سے کم نہیں ہیں، ایک اور سماجی طعنے کا سامنا کرتی ہیں جو ان کی عمروں سے متعلق ہے۔ وہ عورت جو اٹھائیس تیس برس کی عمر تک پہنچ کر بھی غیر شادی شدہ ہو اس کو طنزیہ طور پر شنگ نیو (Shang Nu)کہہ کر لیبل کر دیا جاتا ہے جس کا مطلب باقی رہ جانے والی عورتیں) (Left oversہے۔ میں نے جب یہ اصطلاح پہلی بار سنی تو اس کی معنوی سفاکی پر افسوس ہوا۔ بات صرف عورتوں تک ہی محدود نہیں، مردوں کے لئے بھی اپنی دلہن تلاش کرنا کچھ آسان نہیںرہا ۔ خاندانی یا روایتی معا ملات کمزور ہونے کی وجہ سے اب شادی بیاہ کا معاملہ بہت زیادہ کمرشل ہوتا جا رہا ہے۔ مختلف ادارے اور آن لا ئن سروسز ان اجنبی جوڑوں کی پہلی ملاقاتوں (Blind Dates) اوراسپیڈ ڈیٹنگ (Speed dating) وغیرہ کا اہتمام کرتے ہیں۔ درمیانے درجے کی آمد نی رکھنے والے ایک مرد کے بقول میری آمدنی کی ساری بچت تو لڑکیوں کو ڈنر ڈیٹس پر لے جانے اور تحائف دینے میں ہی خرچ ہو جاتی ہے۔ شادی کے پیسے کیسے اکٹھے کروں؟
اسی سلسلے میں شادی کے لئے باقاعدہ نمائش یا میلے (Fairs) تک منعقد کیے جاتے ہیں جہاں ان کنواروں سے زیادہ ان کے متجسس والدین گھومتے پائے جاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک فیئرمیں ان والدین کے ٹی وی پر انٹرویوز دیکھنے کا اتفاق ہوا جو اپنی اولادوں کے بائیو ڈیٹا اور پوسٹر سائز تصاویر لے کر یہاں پہنچے ہوئے تھے اور خاصے پُر جوش تھے کہ آج تو کسی مناسب جوڑ کو ڈھو نڈ کر ہی دم لیں گے۔ ادھراکثر کی اکلوتی اولادیں غائب یعنی مدعی سست گواہ چست والا معاملہ۔ہماری واقف کار ایک لڑکی جو اپنی یونیورسٹی گریجویشن کے بعد شنگھائی میں کچھ عرصے سے کام کر رہی تھی، نے ایک روز منہ بسورتے ہوئے اطلاع دی کہ اس کے والدین نے اس کے آبائی شہر میں جو یہاں سے زیادہ فاصلے پر نہیںتھا، اس کے لئے نہ صرف رشتے بلکہ چٹ منگنی پٹ بیاہ کا انتظام کر لیا ہے۔ اس کے خیال میں یہ انتہائی غیر رومانوی منصوبہ تھا جس کا مقصد ستائیسویں سالگرہ سے قبل اس کو دلہن بنا دینا تھا۔ موصوف دولہاکی تصویر دیکھ کر اور پیشہ ورانہ قابلیت سن کر ہمیں تو وہ ایک مناسب جوڑ لگا جس سے لڑکی نے بھی اصولی اتفاق تو کیا لیکن اس روایتی انداز کے رشتے میں اسے کوئی رومانس نہیں نظر آرہا تھا۔بہر حال وہ جلد ہی اپنے شہر روانہ ہوئی کہ شادی کی تقریب سے پہلے کوئی ہفتہ دس دن کا وقت ایمرجنسی ڈیٹس کے ساتھ رومانس کا کریش کورس ہی ہو جائے۔
گزشتہ بیس پچیس برسوں میں کروڑوں باشندے اپنے آبائی علا قوں سے شہروں میں منتقل ہوئے ہیں۔ دیہات سے نئے شہروں اور صنعتی علاقوں میں کی گئی اتنی بڑی اور برق رفتار ہجرت کی دنیا کی تاریخ میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ اس تبدیلی نے یہاں کے لوگوں کی معاشی تقدیر تو بدل دی لیکن خاندانوں اوررشتوں کی تقسیم کی قیمت پر۔ پوری دنیا چین کی مصنوعات سے بھری تو پڑی ہے لیکن اس پر عزم اور خاموش قوم نے اس کی قیمت نہ صرف اپنے خون پسینے بلکہ رشتوں ناتوں کی قربانی دے کر حاصل کی ہے۔ آج بازاروں میں خریداری کرتے ہوئے جب ہم لوگ انتہا ئی مناسب دام دے کر چینی اشیا خریدتے ہیں اور بسا اوقات ان کی کم قیمتوں پر سستا (Cheap) ہونے کی پھبتی (Taunt) بھی کس دیتے ہیں لیکن ہمیں بالکل بھی اندازہ نہیںکہ اس کے بنانے والوں نے اپنی کون کون سی خوشیاں دائو پر لگا کر دوسروں کی راحت کاسامان کیا ہے۔ یہاںکے اس نئے معاشرتی منظر نامے میں روایت اور جدت کی کشمکش جاری ہے ۔ تبدیلیوں کی رفتار بہت تیز ہے اور ان کے اس قوم پر کیا اثرات پڑ رہے ہیں یہ ایک ایسی داستان ہے جو ابھی لکھی جا رہی اور ایک طویل عرصے تک لکھی جانی ہے ۔ اصل لطف تو اس داستان کا حصہ بننے میں ہے کیونکہ جس ملک کے کنوارے ایک دن میں اتنی ہلچل مچا سکتے ہیں، وہ پورا ملک کیا کچھ نہیں کر سکتا ۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں