سردیاں اور چینی چائے کی چسکیاں

موسم بھی جیسے دسمبر کا انتظار کر رہا تھا کہ یکم دسمبر کا سورج طلوع ہو اوردرجہ حرارت صفر کے آس پاس پہنچنے کے لیے جدوجہد شروع کر دے۔ پچھلے دو ہفتوں میں بہت کم ہی ایسا وقت گزرا ہے کے ٹمپریچر دس ڈگری سے اوپر گیا ہو، اس سنگل ڈیجٹ سردی نے شنگھائی والوں کا روٹین اور حلیہ بدل کر رکھ دیا ہے ۔ اگر مزید شمال کی طرف کے علاقوں اور بیجنگ کو دیکھا جائے تو وہاں تو کم از کم بات منفی آٹھ نو ڈگری تک پہنچ گئی ہے۔ شنگھائی چین کے مشرق کا ساحلی شہر ہے۔ یہاں سردی کی شدت شمالی اور وسطی چین کے مقابلے میں نسبتاً کم ہوتی ہے اور برف باری بھی ہر سال نہیں ہوتی ، لیکن تقریباً چار ماہ سردی کا خوب زور رہتا ہے۔ سائیکل کی سواری جو میرا یہاں کا پسندیدہ مشغلہ ہے، ایک مہم بن جاتی ہے۔ گھر سے نکلتے وقت اتنا کچھ پہننا پڑ جاتا ہے کہ کسی کوہ پیما سے کم نہیں لگتا ، پھر بھی سائیکل چلاتے ہوئے جسم کا کوئی نہ کوئی حصہ سردی لگنے پر دبی دبی آواز میں احتجاج کرتا رہتا ہے۔ ہمارے رہائشی بلاکس کی مینجمنٹ کافی فعال ہے، اس لیے سردی میں گرم پانی اور ہیٹنگ کے انتظامات کے لیے فوراً ہدایات جاری کر دی جاتی ہیں۔ مثلاً اگر بات منفی ٹمپریچر تک آ پہنچے تو کس طرح اپنے پانی کے نلکے وقفے وقفے سے چلا کر باہر موجود پائپوں کا پانی منجمد ہونے سے بچایا جا سکتا ہے یاگرم پانی کی لائنوں کی چیکنگ قبل از وقت کرالی جائے، وغیرہ وغیرہ ۔
پچھلی سردیوں میں ہم نے گیس کی فلور ہیٹنگ کے نظام سے خوب استفادہ کیا یعنی ایک بار جو بٹن کھولا تو بند ہی نہ کیا۔ جب دو ماہ کی گیس کا بل تین سوکے بجائے تین ہزار یوآن (اڑتالیس ہزار روپے سے کچھ زائد) آیا تو دور اور قریب دونوں کی عینکیں لگانے کے باوجود اس میں کچھ کمی نہ آئی۔ اس بل کے بھرنے کے بعد سے آج تک ہم شرافت سے صرف روم ہیٹرز پر ہی گزارا کرتے ہیں۔ گرما گرم فرش اور پورے اپارٹمنٹ کی آرام دہ حرارت سے محروم ہوئے توگرم موزوں اور چند ایک سوئیٹرزکا اضافہ اور ہزاروں یوآن کی بچت کر لی۔
موسم کی سردی ہو یا حالات کی سختی ، چینی قوم اپنے مسائل کا رونا رونے سے زیادہ فوری اور موثر حل پر توجہ دیتی ہے۔ جیسے ہی سردی کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے اس سے بچائو کی ترکیبیں سامنے آجاتی ہیں۔ سائیکل اور موٹر سائیکل سوار ہینڈلز کے اوپر ہی مضبوط اورکہنیوں تک کی لمبائی والے دستانے چسپاں کر لیتے ہیں تاکہ بار بار اتارنے چڑھانے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے پنڈلیوں کو سرد ہوا سے بچانا ہو تو اس پر علیحدہ سے گرم چمڑے کے کور باندھ لیے، اور تو اور بارش سے بچائو کے لیے جو یہاں ہر ہفتہ دس دن میں ہو ہی جاتی ہے پورا جسم ڈھانپنے کے لیے خاص طور پر تیار کردہ نرم پلاسٹک کا کور بھی موجودہے۔اصل بات یہ ہے کہ کام روکنے کے لیے کوئی بہانہ نہ رہ جائے کیونکہ کام کے بغیر کسی کاگزارا نہیں۔
بات سردی کی نکل چلی ہے تو گرم ملبوسات سے گرم مشروبات کی بھی ہو جائے۔۔۔۔۔ یہاں رہنے کے دوران اگر آپ چینی چائے کی مختلف اقسام کے بارے میں ہی کچھ جان لیں تو سمجھیں چینیوں کی عادات پر ایک ڈپلومہ کورس توکر ہی لیا۔ موسم سرد ہو یا گرم اکثر لوگ نیم گرم یا سادہ پانی ہی پینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لوگوں کی ایک معقول تعداد اپنے ساتھ کام کے دوران مخصوص پتوں والی چائے کا تھرما س نما گلا س رکھتے ہیں جس سے وقتاً فوقتاً گھونٹ بھر کر اپنے جسم کو تازگی پہنچاتے ہیں۔ پاکستان میں تو چائے سے مراد عموماً کالی پتی اور دودھ کا ملاپ یا سبز چائے ہوتی ہے، لیکن یہاں ان کی نہ صرف بے شمار اقسام موجود ہیں بلکہ ان کو صحت کی مختلف ضروریات پورا کرنے کے حوالے سے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اپنی صحت سے متعلق کوئی مسئلہ بتائیں اور چینی روایتی چائے کی کوئی نہ کوئی قسم آپ کو اس مقصد کے لیے مل جائے گی۔ یہاں کسی ماہر حکیم والا دعویٰ تو نہیں کیا جا سکتا کہ یہ لیں جی چینی چائے کی یہ قسم پی لیں اور پھر دیکھیں کہ اتنے دنوں میں فلاں مرض کا نام و نشان نہیں رہے گا اور نہ ہی کسی بے تاب ساس کو یہ یقین دہانی کروا ئی جاسکتی ہے کہ اپنی بہو کو یہ چائے پلا کر دیکھیں ، جڑواں بیٹوں کو جنم نہ دیا تو پیسے واپس، البتہ یہ کہنے میں کوئی ہرج نہیں کہ یہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد مختلف اقسام کی چائے کو امراض سے شفا حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتی ہے۔ ہزاروں سال سے یہ عمل یہاں کی تہذیب کا حصہ ہے اور اسی لیے چائے کی کاشت سے لے کر اس کی تیاری تک کو چین کے لوگوں نے ایک فن کا درجہ دے دیا ہے۔ یہاں کے مختلف صوبے چائے کی کئی اقسام کی پیداوارکے لیے مشہور ہیں۔ اب اگر آپ اپنے وزن کے متعلق فکر مند ہیں توپھورہ (Pu-Erh) چائے آپ کے ہاضمے اور چربی کو کنٹرول کرنے میں مدد دے گی۔ اولونگ(Oolong) چائے جلد کو نرم اور صحت مند رکھنے کے ساتھ دانتوں کے لیے مفید ٹھہرتی ہے۔ چینی گرین ٹی سے کولسٹرول اور بلڈ پریشر ٹھیک رکھا جا سکتا ہے۔ سفید چائے آنکھوں کے لیے بہترین ہے تو سیاہ چائے کی پتیاں تھکاوٹ دور اور اعصاب مضبوط کرتی ہیں۔ یہ تو چند ایک مثالیں ہیں ، اگر آپ میری طرح شنگھائی کی تھیان شن سٹی کی ٹی مارکیٹ کا دورہ کر لیں تو سیکڑوں دوکانوں پر چائے کی انواع واقسام ، ان کو بنانے کے طریقے اور پینے کے برتن دیکھ کر منہ میں انگلیاں دبا لیں۔ یہ باتیں اگر کراچی میں میرے پسندیدہ کوئٹہ ہوٹل میں چائے بنانے والا صمد خان سن لے جو روزانہ کم ازکم سات آٹھ سو کپ چائے بنا لیتا ہے تو حیرت سے سر پکڑکر بیٹھ جائے گا۔
چین میں چائے پینے کا طریقہ بھی سیکھنا پڑتا ہے۔ چائے کی پتیاں پودینے کے پتوں کی طرح تیر رہی ہوتی ہیں ، جن کو آپ نے پینے کے دوران بڑی مہارت سے منہ میں جانے سے بچانا ہوتا ہے ۔ ایسے بھی کپ اور گلاس موجود ہیں جن میں چھلنی لگی ہوتی ہے یعنی کپ ہی کو کیتلی بھی سمجھیے جو پتیوں کو گھونٹ بھرنے کے دوران ہی روک لے۔ آج سے قریباً پونے تین ہزار سال قبل لو یو (Lu Yu) نامی چینی باشندے نے جو بدھ مذہب کا پیرو کار تھا، برسوں کی محنت اور دوردراز سفرکرکے چائے کے بارے میں ایک کتاب ترتیب دی تھی۔ اس کتاب کے بعض حصے محفوظ رہ گئے ہیں جو The classic of tea کے نام سے جانے جاتے ہیں ، یہ چائے سے متعلق قدیم ترین دستاویز ہے۔ لو یو نامی یہ صاحب چائے کے متعلق اتنی مہارت رکھتے تھے۔ انہوں نے چائے کی پتیوں کی اقسام، ان کو توڑ نے اور کاٹنے کے طریقے، خشک اور محفوظ کرنے کے انداز سے لے کر درست طریقے سے ابالنے تک سب کچھ ہی لکھ ڈالا۔ وہ تو یہ تک بتا دیتے تھے کہ کس قسم کے چشموںکے پانی سے بہترین چائے تیار ہو سکتی ہے۔ ان کے نزدیک چائے کائنا ت کی فیاضی کا ایک مظہر ہے۔ 
اس ہفتے ٹمپریچر نے منفی ڈگری تک پہنچ جانا ہے ، ہمارے باورچی خانے میں موجود کئی اقسام کی چینی چائے اپنے مختلف ذائقوں اور خوشبوئوںکے ساتھ نہ صرف سردی کا توڑ ہے بلکہ ایک قدرتی علاج بھی ہے۔ چین کے کسی بھی بڑے شہر کی طرح شنگھائی کی نت نئی کافی شاپس پر بھی لوگوں کا رش رہتا ہے۔ آج چینی بھی مغربی باشندوں کی طرح کافی کی مختلف اقسام اور ہاٹ چاکلیٹ وغیرہ سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ وقت دنیا کے ساتھ چلنے کا ہے، لیکن یہ حقیقت بھی ان سے پوشیدہ نہیں کہ دنیا میں ان کی چائے جسے چینی زبان میں 'چھا ‘ کہا جاتا ہے، چھا رہی ہے کیونکہ تہذیبوں کے ملنے کا معاملہ یکطرفہ نہیں ہوتا۔ اگر چینی باہر کے طور طریقوں سے متاثر ہیں تو باہر والے بھی یہاں کی تہذیبی دولت کے ثمرات سمیٹنا چاہتے ہیں۔ویسے بھی اگر سردی زوروں پر ہو تو کیا چائے اورکیا کافی ، بس جو ملے بھاپ اڑاتی ملے۔ 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں