سیاست‘ ترسیلاتِ زر اور ممکنہ ڈیزل بحران

پاکستان میں اہم تعیناتی کا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو گیا ہے۔ میں نے پچھلے کالم میں یہ ذکر کیا تھا کہ اس حوالے سے معاملات طے پا گئے ہیں اور صدرِ مملکت بھی کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔ یہ خبر درست ثابت ہوئی۔ لگتا ہے کہ تحریک انصاف ماضی سے سیکھ چکی ہے۔ تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے لیے تحریک انصاف کی قیادت نے جو طریقہ کار استعمال کیا تھا‘ اس سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوا‘ بلکہ اُلٹا نقصان ہوا تھا۔ اگر وہی غلطی اب بھی دہرائی جاتی تو سیاسی حالات مزید کشیدہ ہو سکتے تھے۔ اب تحریک انصاف حکومتی معاملات میں کوئی بڑی رکاوٹ ڈالنے کا سبب بنتی دکھائی نہیں دیتی۔ جماعت کی قیادت یہ جانتی ہے کہ الیکشنز وقت پر ہی ہوں گے۔ اس وقت اس کا مقصد فوری الیکشن کروانا نہیں بلکہ اگلے الیکشنز تک اپنی پاپولیرٹی قائم رکھنا ہے۔ شنید ہے کہ اس مقصد کے لیے وہ حقیقی آزادی کی تحریک کو زندہ رکھنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اب سیاسی معاملات کو زیادہ وقت دینے کے بجائے معاشی صورتحال بہتر کرنے کے لیے اقدامات کرے۔
حالات کافی نازک ہو چکے ہیں۔ سٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ مزید ایک فیصد بڑھا دیا ہے جس سے معاشی سرگرمیاں مزید سست روی کا شکار ہو سکتی ہیں۔ کاروبار کرنے کے بجائے بینکوں میں پیسہ رکھ کر منافع کمانے کا رجحان مزید بڑھ سکتا ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری میں مزید کمی آ سکتی ہے اور ترسیلاتِ زر مزید کم ہو سکتی ہیں۔ جولائی سے اکتوبر 2022ء تک ترسیلاتِ زر میں 9.9 ارب ڈالرز کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو مالی سال 2022-23ء کے اختتام پر ترسیلاتِ زر 30ارب ڈالرز تک ہی محدود رہیں گی۔ پاکستان کوامریکہ‘ برطانیہ‘ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے حاصل ہونے والی ترسیلات مجموعی ترسیلات کا تقریباً 67 فیصد ہیں۔ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات اور برطانیہ سے آنے والی ترسیلاتِ زر میں بڑی واضح کمی آئی ہے۔ برطانیہ سے وصول ہونے والی ترسیلات میں پچھلے سال جولائی سے اکتوبر کی نسبت اس سال تقریباً ساڑھے آٹھ فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ برطانیہ میں ہونے والے تاریخی مہنگائی بھی اس کی وجہ ہو سکتی ہے۔ متحدہ عرب امارات سے وصول ہونے والی ترسیلاتِ زر میں 9.2 فیصد کمی آئی ہے جس کی وجہ مطلوبہ ماہر ورکرز کا نہ ہونا ہے۔ 2019ء میں دو لاکھ گیارہ ہزار دو سو ستر پاکستانی متحدہ عرب امارات گئے تھے جبکہ 2020ء اور 2021ء میں یہ تعداد صرف اکاسی ہزار ایک سو اٹھارہ ہے۔ اس کمی کی وجہ کورونا بھی ہو سکتی ہے لیکن اطلاعات ہیں کہ متحدہ عرب امارت پاکستانیوں کی نسبت بھارتی ورکرز کو ترجیح دے رہا ہے۔ اسی طرح جولائی سے اکتوبر کے درمیان سعودی عرب سے وصول ہونے والی ترسیلات دو ارب 78 کروڑ ڈالرز سے کم ہو کر دو ارب پینتالیس کروڑ ڈالرز رہ گئی ہیں۔ 2019ء میں تین لاکھ بتیس ہزار سات سو چونسٹھ پاکستانی سعودی عرب گئے جبکہ 2020-21ء میں جانے والوں کی تعداد صرف دو لاکھ بانوے ہزار دو سو تریپن ہے۔ سعودی عرب میں ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں اور پوری دنیا سے لوگ روزگار کی تلاش میں وہاں جا رہے ہیں لیکن پاکستانیوں کی تعداد میں کمی کی وجہ مطلوبہ ماہر لیبر کا نہ ہونا ہے۔ اس میں حکومت پاکستان کی بھی نااہلی شامل ہے۔
دوسری طرف بیرونِ ملک پاکستانی بینکنگ چینلز اور دیگر قانونی ذرائع کے ذریعے ڈالرز بھیجنے میں ہچکچاہٹ کا شکار نظر آ رہے ہیں کیونکہ یہاں ریٹ کا بہت زیادہ فرق موجود ہے۔ ہنڈی حوالے میں ڈالر کا ریٹ 245 روپے ہے جبکہ انٹربینک میں ڈالر 223 روپے کا مل رہا ہے۔ اس کے علاوہ منی ٹرانسفر کمپنیز 216 روپے میں ڈالر خرید رہی ہیں اور تقریباً 10سے 20ڈالر فی ٹرانزیکشن چارجز لے رہی ہیں۔ اس حساب سے ہنڈی کے ذریعے ڈالرز بھیجنے پر تقریباً 30 روپے زیادہ منافع مل رہا ہے۔ اس لیے آج کل ہنڈی کا کاروبار عروج پر ہے اور بیرونِ ملک پاکستانی بینکنگ چینلز کے بجائے ہنڈی کے ذریعے پیسہ بھیجنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ سے پیسہ پاکستان بھیجنے کے لیے خصوصی ریٹ دے۔ اگر حکومت روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں آنے والے ڈالرز کا ریٹ مارکیٹ سے تین روپے بڑھا دے تو اس سے بیرونِ ملک پاکستانی منی ٹرانسفر کمپنیوں کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہوں گے اور ترسیلات میں اضافہ ہو سکے گا۔ ڈالر کا موجودہ ریٹ غیرحقیقی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کے لیے بیرون ملکوں کے بینک آٹھ فیصد کنفرمیشن چارجز وصول کر رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہ ڈالر کی قیمت 245روپے لگا رہے ہیں جو کہ حقیقی ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان اور ایران بارڈر کے ذریعے ڈالر سمگلنگ روکنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
عوامی سطح پر یہ رائے بھی تقویت اختیار کرتی جا رہی ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کو شاید موجودہ حکومت پر اعتماد نہیں ہے۔ بر سر اقتدار خاندان منی لانڈرنگ کے الزامات کی زد میں ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جب سے نئی حکومت آئی ہے‘ ترسیلاتِ زر میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ تحریک انصاف کے دور میں بیرون ملک پاکستانیوں نے انڈسٹری لگانے کیلئے اربوں ڈالرز پاکستان بھیجے کیونکہ پچھلے وزیراعظم عالمی فورم پر پاکستان کا کیس کامیابی سے لڑتے تھے جس سے بیرون ملک پاکستانیوں کا پاکستان پر اعتماد بڑھا تھا‘ موجودہ حکومت نے بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق بھی نہیں دیا ہے۔ شاید اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا پیسہ پاکستان میں محفوظ نہیں ہے۔ موجودہ حکومت کی ایسی پالیسیوں کی وجہ سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ڈالرز قانونی طریقے سے بھیجنے کے بجائے غیر قانونی طریقے سے بھیجنے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ پچھلے دور حکومت میں تقریباً تیس ارب ڈالر اضافی بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے قانونی طریقے سے بھیجے تھے اور انہیں اچھا منافع بھی مل رہا تھا کیونکہ پالیسیز حقیقت پر مبنی تھیں۔ یہ نیشنل ازم کا دور نہیں بلکہ گلوبلائزیشن کا دور ہے۔ جہاں منافع بخش پالیسیز نظر آئیں گی‘ پاکستانی ہو یا امریکی‘ وہ اپنا سرمایہ وہیں منتقل کرے گا۔ قصور وار حکومت ہے‘ بیرون ملک مقیم پاکستانی نہیں۔
اس کے علاوہ شنید ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں بتدریج کمی کی وجہ سے پٹرولیم مصنوعات خصوصاً ڈیزل کی درآمد کیلئے 400ملین ڈالرز کا فنڈ قائم کرنے یا تیل کمپنیوں کو ایڈوانس رقم دینے سے معذرت کر لی ہے جس کے باعث ملک میں پٹرولیم مصنوعات خصوصاً ڈیزل کی درآمدات میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں جس سے ملک میں ڈیزل کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کم ہونے اور دیوالیہ ہونے کے خطرے کے پیش نظر بیرونی ممالک کے بینکوں نے ایل سی کھولنے کیلئے 8فیصد کنفرمیشن چارجز کا مطالبہ کر دیا ہے جبکہ نارمل حالات میں یہ چارجز صرف 0.5 فیصد لیے جاتے ہیں۔ پٹرولیم سیکرٹری نے سٹیٹ بینک کو خبردار کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی درآمد میں رکاوٹ سے صنعت‘ ٹرانسپورٹ‘ زراعت اور پاور سیکٹرز کیلئے ڈیزل میسر نہیں ہو سکے گا اور ملک نئے معاشی بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ آٹھ فیصد پر درآمدات سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید بڑھ جائیں گی۔ سٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ وزارتِ خزانہ گلف کے دوست ممالک کو ادائیگی کیلئے اسلامک ڈویلپمنٹ فنڈ سے بات کرے اور ایل سیز کھلوائے۔ وزارتِ خزانہ نے سٹیٹ بینک کو بتایا کہ پاکستان کی غیریقینی معاشی صورتحال کے باعث آئی ڈی ایف نے بھی ایل سیز کھولنے سے انکار کر دیا ہے‘ یہ صورتحال تشویشناک ہے۔
میں کئی مرتبہ پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں کہ یہ وقت جلسے جلوس کرنے کا نہیں بلکہ میثاقِ معیشت کا ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں بیٹھ کر یہ طے کریں کہ ملک کو معاشی بحران سے کیسے نکالنا ہے۔ پندرہ سال کیلئے ایک مستقل معاشی پالیسی بنانا اور حکومتوں کے تبدیل ہونے سے اس کا تبدیل نہ ہونا شاید وقت کی اہم ضرورت ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں