معاشی بحران اورکرپشن

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اطمینان ہے کہ پاکستان معاشی بحران سے نکل چکا ہے۔ ممکن ہے کہ وزیراعظم درست فرما رہے ہوں لیکن اگر یہ بھی بتا دیا جائے کہ پاکستان کون سے معاشی بحران سے نکل آیا ہے تو عوام کو سمجھنے میں آسانی ہو ۔ معاشی بحران کئی طرح کے ہیں۔ ملک میں بیروزگاری بڑھ رہی ہو‘ غربت میں اضافہ ہو رہا ہو‘ مطلوبہ بیرونی سرمایہ کاری نہ آ رہی ہو‘ ایف بی آر کے ٹیکس اہداف حاصل نہ ہو رہے ہوں اور ہر قسط کے ساتھ آئی ایم ایف کی مزید سخت شرائط سامنے آ رہی ہوں تو بھی ملک معاشی بحران کا شکار ہو تا ہے۔ وزیراعظم شاید مہنگائی اور شرحِ سود میں کمی اور ڈالر ریٹ میں استحکام کا ذکر کر رہے ہوں گے۔ یہ اشاریے معاشی بہتری کی علامت ہو سکتے ہیں لیکن معاشی بحران سے نکلنے کیلئے محض یہ اشاریے مثبت ہونا کافی نہیں۔ ان اعدادوشمار میں بہتری فارمولوں میں تکنیکی ردوبدل کے باعث بھی ظاہر کی جا سکتی ہے۔ ایک خبر کے مطابق ڈالر ریٹ کو مستحکم رکھنے کیلئے حکومت نو ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کر چکی ہے۔ اسے مستحکم کرنا کہا جائے گا یا کنٹرول کرنا؟ اس وقت آئی ایم ایف سے قرض کی نئی قسط مل گئی ہے۔ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھی قرضوں کی منظوری دے دی ہے۔ آئی ایم ایف نے ایک ارب بیس کروڑ ڈالرز کی ادائیگی کی ہے‘ ایشیائی ترقیاتی بینک نے 54 کروڑ ڈالر کے دو منصوبوں کی منظوری دی ہے جبکہ ورلڈ بینک نے 40 کروڑ ڈالر فنانسنگ کی منظوری دی ہے۔ جب آئی ایم ایف قرض کی قسط ادا کر دے تو دیگر عالمی اداروں کی جانب سے قرض اور گرانٹس ملنے کی رفتار تیز ہوجانا معمول کی بات ہے۔ ممکن ہے کہ آئی ایم ایف سے قرض ملنے کو ملک کے معاشی بحران سے نکلنے کا گرین سگنل سمجھا جا رہا ہو لیکن عام آدمی کیلئے معاشی بحران اُس کے روزگار سے جڑا ہے اور پاکستان میں بیروزگاری 7.3فیصد تک بڑھ چکی ہے‘ جو گزشتہ 21 سال میں سب سے زیادہ ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور سب سے زیادہ روزگار اور برآمدات ٹیکسٹائل سے جڑی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں ٹیکسٹائل سے متعلقہ تقریباً 50 فیصد فیکٹریاں یا تو بند ہو چکی ہیں یا غیر فعال ہیں۔ آئی ایم ایف کی 1.2 ارب ڈالر کی قسط ملنے کے باوجود پاکستان کے پاس زرمبادلہ کے کُل ذخائر تقریباً 19.6 ارب ڈالر ہیں۔ اس وقت سٹیٹ بینک میں زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 14 ارب 58 کروڑ ڈالر ہیں‘ جن میں سے لگ بھگ 70 فیصد دوست ممالک کے قرضوں پر مشتمل ہیں۔ بیرونی سرمایہ کاری اس وقت پچاس سال کی کم ترین سطح پر ہے۔تین سالوں سے حکومتی اتحاد ان مسائل پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن مطلوبہ کامیابی نہیں مل پا رہی۔ اگرچہ یہ درست ہے کہ معیشت کو درست کرنے کیلئے تین سال کی مدت کوئی طویل عرصہ نہیں ہوتا لیکن جس ملک میں ہر پانچ سال بعد حکومت اور پالیسی بدل جاتی ہو‘ وہاں تین سال بھی بہت اہمیت رکھتے ہیں۔
پاکستان میں کرپشن کے معاملات اس وقت عالمی سطح پر بھی زیر بحث ہیں۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق 5300 ارب روپے کی ریکوری اداروں میں کرپشن کی مد میں ہوئی ہے جبکہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے مطابق رواں برس 66 فیصد شہریوں نے کہا ہے کہ انہیں گزشتہ 12 ماہ کے دوران عوامی سہولتوں کے حصول کیلئے رشوت نہیں دینا پڑی۔ اس کی ایک بڑی وجہ ڈیجیٹائزیشن ہو سکتی ہے۔ چالان‘ ٹیکس اور لائسنس سمیت تقریباً تمام روز مرہ امور ڈیجیٹل کرنے کا رجحان بڑھا ہے۔ وزیراعظم اس رپورٹ سے مطمئن ہیں اور اسے حکومتی کامیابی قرار دے رہے ہیں لیکن آئی ایم ایف نے جو 5300 ارب روپے کی کرپشن ریکوری والی رپورٹ دی ہے اس پر وزیراعظم یا حکومت نے کوئی اظہارِ خیال نہیں کیا۔ زیادہ بہتر ہوتا کہ اس پر بھی قوم کو بتایا جاتا کہ ایسا کیوں ہوا ہے۔ چند سال قبل جب موجودہ وزیراعظم قائدِ حزبِ اختلاف تھے‘ اس وقت وہ خود ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی کریڈیبلٹی پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں‘لیکن اب اس کی رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں حالانکہ یہ رپورٹ کا محض ایک پہلو ہے۔ سروے کا حصہ بننے والے 77 فیصد افراد انسدادِکرپشن کی حکومتی کوششوں سے مطمئن نہیں۔ 78 فیصد افراد سمجھتے ہیں کہ اینٹی کرپشن کے اداروں کو خود نگرانی کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب آئی ایم ایف نے نئی قسط کے اجرا کے ساتھ جو مزید 11 شرائط عائد کی ہیں‘ ان میں بھی انسدادِ کرپشن کیلئے کارروائی پر زور دیا گیاہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ معمولی حد تک آئی ایم ایف کی رپورٹ کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ اس کی بڑی وجہ مارکیٹس کا فرق ہو سکتا ہے۔ البتہ کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے حکومتی کوششیں ناکافی ہونے پر دونوں کا اتفاق ہے۔ٹرانسپیرنسی رپورٹ میں پولیس کے بعد ٹینڈر اینڈ پروکیورمنٹ میں کرپشن کا تاثر سب سے زیادہ ہے‘ یعنی اداروں میں کرپشن کا ذکر کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف نے بھی اس شعبے کی کرپشن کو اپنی رپورٹ کا حصہ بنایا ہے۔ لہٰذ ا حکومت کیلئے یہ وقت مطمئن ہونے کا نہیں بلکہ بہتر حکمت عملی بنانے کا ہے تا کہ آئی ایم ایف اور دیگر اداروں کے اعتراضات کو دور کیا جا سکے۔
دوسری جانب حکومت نے ایک بار پھر عوام کی جیب پر دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن میں اضافہ کیا جائے گا‘ جس کے نتیجے میں شہریوں کو پٹرول اور ڈیزل پر مزید بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔ای سی سی نے او ایم سی مارجن 1.22 روپے فی لیٹر تک بڑھانے کی منظوری دی ہے جبکہ ڈیلرز کمیشن بھی بڑھایا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ اب ہر ایک لیٹر پٹرول یا ڈیزل پر شہریوں کی جیب سے تقریباً ڈھائی روپے زیادہ وصول کیے جائیں گے۔ یہ اضافہ فوری طور پر نہیں بلکہ دو قسطوں میں لاگو ہوگا‘ مگر اس کا اثر روزمرہ کی قیمتوں پر جلد محسوس ہو گا۔ اس وقت معیشت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے‘ مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے‘ ایسے میں پٹرول اور ڈیزل پر اضافی مارجن شہریوں کیلئے ایک نیا مالی چیلنج بن سکتا ہے۔ حکومت کیلئے یہ فیصلہ کرنا آسان ہے کہ او ایم سیز اور ڈیلرز کے منافع کی شرح بڑھائی جائے‘ لیکن نقصان تو عام شہریوں اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کو پہنچے گا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف ڈرائیورز اور چھوٹے تاجروں کیلئے مسائل پیدا کرے گا بلکہ روزمرہ اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں‘ کیونکہ ہر چیز کی ترسیل پر پٹرول اور ڈیزل خرچ ہوتا ہے۔حکومت کو چاہیے کہ مارجن بڑھانے کے ساتھ پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز کی شرح میں کمی لانے کے اقدامات بھی کرے تاکہ مہنگائی کا دائرہ مزید نہ بڑھے۔
ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری کے ساتھ آبادی کی شرح میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ملکی آبادی سالانہ 50 لاکھ سے زائد بڑھ رہی ہے‘ جو نیوزی لینڈ کی کُل آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ یہ اضافہ ملک کے معاشی ڈھانچے پر شدید اثر ڈال سکتا ہے‘ چاہے وہ روزگار ہو‘ تعلیم‘ صحت یا بنیادی سہولتیں۔یہ بوجھ اگر مضبوط پالیسیوں‘ مناسب منصوبہ بندی اور انفراسٹرکچر کی فراہمی کے ساتھ سنبھالا نہ گیا تو معیشت دباؤ میں آ سکتی ہے اور عام شہری کا معیارِ زندگی مزید ابتر ہو سکتا ہے۔ بڑھتی آبادی کو ایک چیلنج کی طرح دیکھنا چاہیے نہ کہ ایک فخر کے طور پر۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے کہا ہے کہ آبادی میں اس تیز ی سے اضافہ عنقریب ملک میں پانی کی قلت پیدا کر دے گا۔ اس وقت بھی تقریباً 80 فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔پاکستان کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت عالمی معیار سے بہت کم ہے جبکہ اب فی کس دستیابی بھی 908 مکعب میٹر تک رہ گئی ہے جو کم از کم عالمی حد 1000 مکعب میٹر سے بھی کم ہے۔ پاکستان میں پانی کا زیادہ استعمال شعبہ زراعت میں ہوتا ہے۔ اگر آبادی کی رفتار اور پانی کے ضیاع میں فوری کمی نہ کی گئی تو ملک میں نہ صرف پانی بلکہ پھل‘ سبزیوں اور زرعی اجناس کا بھی شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں