"RS" (space) message & send to 7575

عالمی سہارے کے بغیر افغان معیشت

افغانستان میں لڑی جانے والی دو دہائیوں پر مشتمل جنگ اپنی لاگت کے اعتبار سے مہنگی ترین جنگوں میں شمار ہوتی ہے کیونکہ 20برسوں میں اس جنگ پر دو کھرب 30ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ لگ بھگ 30ممالک کے اتحاد سے لڑی جانے والی یہ جنگ جب اختتام کو پہنچی تو اپنے پیچھے ایسے نقوش چھوڑ گئی جن کے اثرات برسوں بعد بھی باقی رہیں گے۔ اس جنگ کا سب سے زیادہ نقصان افغانستان کو اٹھانا پڑا کیونکہ پورا ملک کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے۔ معاشی بدحالی اور دہشت گردی کے خطرات افغانستان کا مقدر بن چکے ہیں۔ پڑوسی ممالک خاص طور پر پاکستان بھی دہشت گردی سے شدید متاثر ہوا ہے۔ اگست2021ء میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا نے خطے کیلئے ایک خطرناک صورتحال پیدا کی۔ انخلا کے بعد امریکی فوج نے اربوں ڈالر مالیت کے جدید فوجی ساز و سامان کو پیچھے چھوڑا‘ جس میں جدید ترین ہتھیار‘ گاڑیاں اور مواصلاتی آلات شامل تھے۔ پاکستان نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا جس کی وجہ یہ تھی کہ یہ ہتھیار دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں میں جانے کے قوی امکانات تھے جو پاکستان اور خطے کے امن کیلئے خطرہ بن سکتے تھے۔ پاکستان کا یہ خدشہ بے بنیاد نہیں تھا۔ اس بات کے واضح شواہد موجود ہیں کہ ان ہتھیاروں کا استعمال دہشت گردی کی کارروائیوں میں ہو رہا ہے۔ پاکستان نے بارہا عالمی برادری کو اس صورتحال سے آگاہ کیا اور ان ہتھیاروں کو دہشت گردوں کے ہاتھوں میں جانے سے روکنے کیلئے اقدامات کا مطالبہ کیا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ یہ ہتھیار نہ صرف پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کیلئے بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔ افغانستان کی موجودہ صورتحال‘ جہاں مختلف دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں‘ پاکستان کے خدشات کو تقویت بخشتی ہے۔ ان گروہوں کے پاس جدید ہتھیاروں کی موجودگی ان کی صلاحیتوں کو بڑھاتی ہے‘ جس سے وہ زیادہ خطرناک بن جاتے ہیں۔ پاکستان نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ عالمی برادری کو افغانستان میں امن و استحکام کے لیے مل کر کام کرنا ہو گا اور یقینی بنانا ہو گا کہ یہ ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھوں میں نہ جائیں۔ پاکستان کا یہ مؤقف نہ صرف اپنی سلامتی کے لیے اہم ہے بلکہ یہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی اہم ہے۔ یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون ضروری ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کیا ہے اور اب بھی اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ وقت نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان کے خدشات درست تھے کیونکہ افغانستان میں امریکی انخلا کے بعد چھوڑے گئے ہتھیاروں کا مسئلہ اب دنیا بھر کے لیے چیلنج بن چکا ہے جسے اقوام متحدہ اور امریکہ سمیت دیگر ممالک بھی تسلیم کر رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان طالبان سے امریکی اسلحہ واپس لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کو امداد دینے پر اعتراض نہیں مگر طالبان سے امریکی اسلحہ واپس لینا ہو گا۔ امریکی صدر کے مطابق امریکہ افغانستان کو ماہانہ ڈھائی ارب ڈالر امداد دے رہا ہے‘ طالبان سے اسلحہ واپس لینا ہو گا چاہے اس کیلئے انہیں مزید رقم ہی کیوں نہ دینا پڑے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ طالبان کو امریکی گاڑیوں اور اسلحہ کے ساتھ پریڈ کرتا دیکھ کر مجھے بہت غصہ آتا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ سے اچھا اور نیا فوجی ساز و سامان طالبان کے پاس رہ گیا ہے اور طالبان ٹینکوں‘ گاڑیوں‘ ہتھیاروں اور جدید ٹیکنالوجی سمیت امریکی فوجی سامان فروخت کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے حکام پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھیں اور امریکی ساز و سامان کی واپسی کیلئے اقدامات کریں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی کئی بار افغانستان سے امریکی فوجی ساز و سامان کی واپسی کا ذکر کر چکے ہیں۔ افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی فوجی ساز وسامان میں بکتر بند گاڑیوں اور جدید ہتھیاروں کے علاوہ امریکی طیارے بھی شامل ہیں۔ پنٹاگون کے مطابق اس فوجی ساز وسامان کی مجموعی مالیت سات ارب ڈالر سے زائد ہے۔
معاشی بدحالی کا شکار افغانستان امریکی امداد کی معطلی سے مزید معاشی بحران کا شکار ہو گیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس کی اقتصادی ترقی میں سات فیصد تک کمی متوقع ہے۔ افغانستان دنیا کے ان آٹھ ممالک میں سے ایک ہے جس کی معیشت کا بڑا حصہ امریکی امداد پر منحصر ہے۔ سنٹر فار گلوبل ڈویلپمنٹ کے مطابق افغانستان کی 35فیصد غیرملکی امداد یو ایس ایڈ کی جانب سے فراہم کی جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین برس میں امریکہ نے افغانستان کو تین ارب ڈالر سے زائد مالی امداد فراہم کی اور امریکہ افغانستان کو سب سے زیادہ مالی معاونت فراہم کرنے والا ملک ہے۔ 2021ء میں افغان زرمبادلہ کے ذخائر 9.4ارب ڈالر تھے جنہیں طالبان کے قبضے کے بعد عالمی اداروں نے منجمد کر دیا تھا۔ امریکہ کی طرف سے افغانستان کی امداد معطلی کے بعد اقوام متحدہ نے بھی امداد میں 17فیصد کمی کی تصدیق کی ہے‘ جس کے افغانستان کی معیشت پر منفی اثرات پڑے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق افغان کرنسی کی قدر میں گزشتہ سات دنوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں 11فیصد کمی ہوئی ہے‘ جو معاشی بحران میں مزید اضافے کا سبب بنے گی۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران ایک امریکی ڈالر کی قیمت 64افغانی سے بڑھ کر 71افغانی تک پہنچ چکی ہے۔ جنوری 2025ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا جس کے تحت امریکہ کی تمام غیر ملکی امداد بشمول افغانستان کو امداد‘ فوری طور پر روک دی گئی ہے۔ گزشتہ سال کے اعداد و شمار کے مطابق افغانستان میں بے روزگاری کی شرح 14.39فیصد تک پہنچ چکی۔ افغان وزارتِ اقتصادیات کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ امریکی امداد کی معطلی سے افغانستان کے عوام کی زندگی پر فوری منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ امریکی امداد کی معطلی سے افغانستان کی معاشی حالت زبوں حالی کا شکار ہو چکی اور افغانستان میں معیشت کی بدحالی اور بڑھتی بے روزگاری کی اہم وجہ افغان حکومت ہے۔ طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے ملک میں اقتصادی اور معاشی ترقی کے بجائے دہشت گردی کو فروغ دیا۔ افغان حکومت کو چاہیے کہ دہشت گردی کے بجائے عوام کی فلاح اور ترقی کیلئے عملی اقدامات کرے۔ امریکی اسلحے کا دہشت گردی میں استعمال روکنا ہوگا‘ اس کے علاوہ خواتین کو تعلیم کا حق دیے بغیر عالمی امداد کا بحال ہونا مشکل ہو گا۔ بالخصوص ایسے موقع پر جب افغان قیادت اندرونی اختلافات کا شکار ہے‘ ہم پہلی بار طالبان کے اختلافات کا مشاہدہ کر رہے ہیں‘ ہبت اللہ اخونزادہ افغانستان میں سب سے طاقتور شخصیت سمجھتے جاتے ہیں مگر دبے الفاظ میں ان کی بھی مخالفت کی جا رہی ہے۔ ملا عمر کے بعد افغان طالبان میں دھڑے بندی کو نمایاں طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ جب افغان قیادت اندرونی مسائل کا شکار ہو‘ عالمی سطح پر پابندیوں کا سامنا ہو تو پاکستان جیسے پڑوسی ملک کے ساتھ تعلقات کو کشیدہ کرنا افغانستان کی مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بنے گا۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں