نیویارک کے نومنتخب میئر زہران ممدانی‘ جو اپنی منفرد شناخت اور ترقی پسند نظریات کے باعث عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں‘ جب قرآن کریم پر ہاتھ رکھ کر اپنے عہدے کا حلف اٹھا رہے تھے تو وہ صرف ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ ایک فعال اور مضبوط بلدیاتی نظام کی فتح کی عکاسی کر رہے تھے۔ زہران ممدانی کا نیویارک کے 112ویں میئر کے طور پر انتخاب اس بات کی گواہی ہے کہ وہاں کا نظام فرد کی شناخت سے زیادہ اس کی کارکردگی اور عوامی خدمت کے جذبے کو اہمیت دیتا ہے۔ ممدانی نے اپنی انتخابی مہم میں کھل کر اپنی شناخت کا دفاع کیا اور سابق صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کے باوجود عوام کی بھرپور حمایت حاصل کی۔ یہ اس سیاسی بلوغت کا ثبوت ہے جو صرف ایک مستحکم جمہوری ڈھانچے میں ہی ممکن ہے۔ نیویارک کی صدیوں پر محیط بلدیاتی تاریخ میں انتخابات کبھی سیاسی مصلحتوں کی نذر نہیں ہوئے۔ امریکی نظامِ انتخاب میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخیں پہلے سے طے شدہ ہوتی ہیں اور وہاں کا قانون کسی بھی حکومت یا عہدیدار کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ اپنی مرضی سے الیکشن ملتوی کرے۔ نیویارک کی تاریخ میں صرف ایک بار ایسا ہوا تھا۔ نائن الیون کو جب نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹرز پر حملہ ہوا‘ اسی روز نیویارک کے میئر کے انتخاب کیلئے پارٹی کے اندرونی انتخاب ہو رہے تھے۔ حملے کے وقت پولنگ جاری تھی لیکن ہنگامی صورتحال اور جانی نقصان کے باعث گورنر نے ووٹنگ چند گھنٹوں بعد روک دی۔ اتنے بڑے حادثے کے باوجود ان انتخابات کو منسوخ کرنے کے بجائے صرف دو ہفتوں کیلئے ری شیڈول کیا گیا۔ یہ واقعہ مغربی نظام میں جمہوری تسلسل اور قانونی بالادستی کو اجاگر کرتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں وفاقی کابینہ نے بلدیاتی انتخابات کو ایک بار پھر ملتوی کر دیا ہے۔ یہ دو تصویریں دنیا کے دو مختلف سیاسی رویوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایک وہ جہاں اقتدار کی بنیادیں عوام کے درمیان پیوست ہیں اور دوسرا وہ جہاں اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ عام آدمی کو بااختیار بنانے سے خائف نظر آتے ہیں۔
مغربی ممالک کی بے مثال ترقی کا راز صرف انکی جدید ٹیکنالوجی یا بڑی معیشت میں نہیں بلکہ انکے نچلی سطح کے مضبوط انتظامی ڈھانچے میں پنہاں ہے۔ امریکہ‘ برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ایک اہم فریضہ سمجھا جاتا ہے جسے کسی سیاسی مصلحت‘ حلقہ بندیوں کی تبدیلی یا حکومتی تبدیلی کے بہانے ملتوی نہیں کیا جا تا۔ وہاں میئر کا عہدہ محض علامتی نہیں ہوتا بلکہ وہ شہر کا سیاہ و سفید کا مالک ہوتا ہے جس کے پاس بجٹ‘ پولیس‘ ٹرانسپورٹ‘ تعلیم اور صحت کے مکمل اختیارات ہوتے ہیں۔ وہاں کے عوام بھی جانتے ہیں کہ انکی گلی کی صفائی سے لے کر شہر کی سکیورٹی تک کے مسائل کا حل وائٹ ہاؤس میں نہیں بلکہ سٹی ہال میں بیٹھے نمائندے کے پاس ہے۔ مغربی ممالک کی ترقی کی اصل وجہ یہی بلدیاتی نظام ہے‘ جہاں ترقیاتی کام سیاسی نعروں کے بجائے ضرورت کی بنیاد پر اپنے وقت پر انجام پاتے ہیں۔
پاکستان میں بلدیاتی نظام کی تاریخ انتہائی تلخ اور تضادات سے بھرپور رہی ہے۔ یہاں آمرانہ ادوار میں تو بلدیاتی نظام کو کسی حد تک فعال کیا گیا‘ لیکن جمہوری حکومتوں کے دور میں اسے ہمیشہ پس پشت ڈالا گیا۔ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا بار بار التوا محض ایک انتظامی معاملہ نہیں بلکہ نرم سے نرم الفاظ میں اسے سیاسی مصلحت کہا جا سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کیلئے 15فروری کی تاریخ مقرر کی تھی لیکن وفاقی کابینہ نے یہ انتخابات مؤخر کر دیے ہیں۔ قبل ازیں 2022ء میں الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں 31دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے اور یونین کونسلز بڑھانے کی حکومتی استدعا منظور کر لی تھی لیکن گزشتہ تین برسوں میں اس حوالے سے کوئی عملی کام نہیں ہوا۔ اب جبکہ الیکشن کمیشن نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا تھا تو وفاقی حکومت نے لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس کے اجرا کا فیصلہ کیا ہے اور ترمیمی آرڈیننس کی سمری صدرِ مملکت کو بھجوا دی ہے۔ صدرمملکت کے دستخط کے بعد باضابطہ آرڈیننس جاری کر دیا جائے گا۔ مجوزہ آرڈیننس کے مطابق اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کیلئے پنجاب کا ماڈل اپنایا جائے گا۔ 2022ء سے اب تک مسلسل لیت و لعل سے کام لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ منتخب حکومتیں دانستہ طور پر ان پیچیدگیوں کو ختم نہیں کرتیں‘ یہاں تک کہ ان کا اپنا دورِ اقتدار ختم ہو جاتا ہے مگر عوام کو اپنا مقامی نمائندہ چننے کا حق نہیں مل پاتا۔ موجودہ حکومت کو دو برس ہونے والے ہیں لیکن اس دوران بلدیاتی انتخابات کی طرف کوئی سنجیدہ توجہ نہیں دی گئی۔
جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ جمہوری حکومتیں بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات دینے سے کیوں کتراتی ہیں‘ تو اس کی بنیادی وجہ اختیارات اور فنڈز کی مرکزیت ہے۔ پاکستان میں یہ روایت پختہ ہو چکی ہے جہاں قانون سازی کیلئے منتخب ہونیوالے ارکانِ قومی اسمبلی اور سینیٹرز اپنی بنیادی ذمہ داری یعنی پالیسی سازی کے بجائے گلیوں کی تعمیر اور دیگر مقامی ترقیاتی کاموں کو اپنی سیاست کا محور بنا لیتے ہیں۔ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ یہ خدشہ ہے کہ جب فنڈز اور انتظامی اختیارات براہِ راست بلدیاتی نمائندوں کے پاس چلے جائیں گے تو اراکینِ پارلیمان کا وہ روایتی عوامی اثر و رسوخ متاثر ہو سکتا ہے جو ان کے سیاسی تشخص اور انتخابی مہم کا بنیادی سہارا ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں تعطل کسی ایک جماعت کیساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہر دور میں اس سے کنارہ کشی اختیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ عمران خان کی طرف سے بھی بڑے بڑے دعوے کیے گئے کہ ملک میں ایک ایسا مثالی بلدیاتی نظام لایا جائے گا جو نچلی سطح پر انقلاب برپا کر دے گا مگر اقتدار کی کرسی پر بیٹھتے ہی ترجیحات بدل گئیں۔ اقتدار کی منتقلی کا یہ خوف ہی ہے جو ملک کو حقیقی ترقی سے دور رکھے ہوئے ہے حالانکہ اراکینِ پارلیمنٹ کی اولین ذمہ داری صرف قانون سازی اور قومی مفاد میں پالیسیاں بنانا ہے۔ بلدیاتی اداروں کا قیام محض ایک انتظامی ڈھانچہ کھڑا کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ اس جمہوری میثاق کی تکمیل ہے جو ریاست اور شہری کے درمیان حقوق کی منصفانہ تقسیم کا وعدہ کرتا ہے۔ اس نظام کی سب سے بڑی افادیت عوامی مسائل کا فوری حل ہے۔ بلدیاتی ادارے سیاسی قیادت کیلئے نرسری کا کام کرتے ہیں۔ زہران ممدانی جیسے نوجوان اسی لیے سامنے آتے ہیں کہ انہیں نچلی سطح پر کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔ معاشی طور پر یہ نظام وسائل کی منصفانہ تقسیم کا ضامن ہے‘ جس سے یہ شکایت ختم ہو جاتی ہے کہ شہر کے پوش علاقے تو چمک رہے ہیں لیکن مضافاتی بستیاں بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں۔ جب تک بلدیاتی نظام فعال نہیں ہو گا‘ شہری نظام متاثر رہے گا اور ترقی محض چند حلقوں تک محدود رہے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کی روح اعلیٰ ایوانوں تک محدود نہیں بلکہ اقتدار کے مرکز سے محروم طبقات تک منتقلی میں پوشیدہ ہے۔ بلدیاتی اداروں کا قیام کوئی آسائش نہیں بلکہ عوام کا وہ آئینی اور جمہوری حق ہے جسکے بغیر حقیقی ترقی کا خواب محض ایک سراب ہے۔ جب تک ہم اس حقیقت کو نہیں پہچان لیتے کہ ایک عام شہری کیلئے اس کے اپنے علاقے کا نمائندہ کسی دور بیٹھے وفاقی وزیر سے زیادہ اہم اور بااثر ہوتا ہے‘ تب تک ہم حقیقی ترقی کی منزل حاصل نہیں کر سکتے۔ ریاست کی حقیقی مضبوطی ایوانوں کی سجاوٹ میں نہیں بلکہ فعال اور بااختیار مقامی حکومتوں میں پنہاں ہے۔ جس دن ملک کا عام شہری اپنے بنیادی مسائل کیلئے اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں کی جانب حسرت سے دیکھنے کے بجائے اپنے مقامی نمائندوں کی طرف دیکھے گا ‘ اسی دن پاکستان میں حقیقی عوامی حاکمیت کا آغاز ہو گا۔ ہمیں آج ایسے توانا ذہنوں اور پختہ سیاسی ارادے کی ضرورت ہے جو بلدیاتی نظام کو محض ایک انتظامی ضرورت نہیں بلکہ ایک قومی فریضہ سمجھیں تاکہ ایک ایسا سیاسی کلچر جنم لے سکے جہاں عوامی خدمت کو عبادت اور جوابدہی کو سیاست کا اصل جوہر تسلیم کیا جائے۔