"RS" (space) message & send to 7575

سہ فریقی پاور ہاؤس

ایک محب وطن پاکستانی کے لیے اس سے بڑھ کر اعزاز کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ بین الاقوامی افق پر اپنے ملک کا پرچم سر بلند ہوتا دیکھے۔ جب دنیا کسی ریاست کی پالیسیوں‘ عسکری صلاحیتوں اور اس کی سفارتی حکمت عملی کو تسلیم کرتی ہے تو اس کا اثر اس ملک کے شہریوں کی توقیر پر پڑتا ہے۔ آج ہم ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں عالمی سیاست کے مراکز تبدیل ہو رہے ہیں اور طاقت کا توازن مغرب سے مشرق کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔ اس بدلتی صورتحال میں پاکستان کی اہمیت جغرافیائی خطے تک محدود نہیں رہی بلکہ پاکستان ایسی کلیدی قوت بن کر ابھرا ہے جسے نظر انداز کرنا کسی عالمی طاقت کے لیے ممکن نہیں رہا۔ پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون محض ایک اتفاقی پیش رفت نہیں بلکہ یہ برسوں کی سفارت کاری اور مشترکہ مفادات کا ثمر ہے۔ ستمبر 2025ء میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا دفاعی معاہدہ اس اتحاد کی مضبوط بنیاد تھی۔ اب اس میں ترکیہ کی شمولیت نے اسے ایک ایسا ''سہ فریقی پاور ہاؤس‘‘ بنا دیا ہے جو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے دہانے تک اثر انداز ہو گا۔ وزیر دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام کے بیانات اس بات کی توثیق کرتے ہیں کہ اس عظیم اتحاد کا مسودہ تیار ہو چکا ہے اور اس کی تشکیل جدید دور کے تقاضوں کے مطابق کی جا رہی ہے۔ اس اتحاد کی سب سے خاص بات ان تینوں ممالک کی اپنی اپنی منفرد خصوصیات ہیں جو ایک دوسرے کی کمی کو پورا کرتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارضِ مقدس سعودی عرب کو بے پناہ معدنی اور مالی وسائل سے نوازا ہے۔ سعودی عرب نہ صرف مسلم اُمہ کا روحانی مرکز ہے بلکہ خلیجی سیاست میں قائدانہ حیثیت رکھتا ہے۔ مسلم ممالک میں سعودی عرب کو نہایت احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس کی مالی معاونت اور اقتصادی ویژن اس اتحاد کو مستحکم مالی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ اسی طرح ترکیہ ایسی قوت ہے جو ایشیا اور یورپ کے سنگم پر واقع ہے۔ اس کے پاس جدید ترین ڈرون ٹیکنالوجی‘ بحری بیڑے بنانے کی صلاحیت اور نیٹو کے تجربہ کار عسکری ڈھانچے کی مہارت ہے۔ ترکیہ کا اس اتحاد میں شامل ہونا مسلم دنیا کے لیے جدید دفاعی صنعت تک رسائی کا راستہ کھول سکتا ہے جبکہ پاکستان عالم اسلام کی واحد ایٹمی قوت ہے جس کی پیشہ ورانہ افواج کی صلاحیتیوں کا اعتراف دنیا کرتی ہے۔ گزشتہ برس مئی میں بھارت کے خلاف معرکہ حق میں جب پاکستان نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو دھول چٹائی تو دنیا پر واضح ہو گیا کہ پاکستان کا دفاعی نظام ناقابلِ تسخیر ہے۔ پاکستان اس اتحاد کو وہ ایٹمی چھتری اور افرادی قوت فراہم کر سکتا ہے جو کسی بھی بڑے معرکے کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ہم دنیا کے نقشے پر نظر دوڑائیں تو مذکورہ تینوں ممالک دنیا کے اہم ترین تجارتی اور فوجی راستوں پر بیٹھے ہیں۔ ترکیہ مغرب کے دروازے پر واقع ہے‘ سعودی عرب خلیج اور بحیرۂ احمر کے سنگم پر واقع ہے جبکہ پاکستان جنوبی ایشیا میں بحیرۂ عرب اور وسطی ایشیا کے راستوں کا امین ہے۔ یہ اتحاد ایک ایسا جغرافیائی مثلث بناتا ہے جو مشرق اور مغرب کو ملانے میں پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ہمارا سہ فریقی اتحاد اس وقت سامنے آ رہا ہے جب نیٹو جیسے پرانے اتحاد اندرونی خلفشار کا شکار ہیں۔ گرین لینڈ کے معاملے پر نیٹو کے اختلافات نہ صرف کھل کر سامنے آئے ہیں بلکہ ماضی کے اتحادی اب ایک دوسرے کے مد مقابل نظر آ رہے ہیں۔ اس دوران مسلم ممالک کے نئے بلاک کا سامنے آنا دنیا کیلئے خاص پیغام رکھتا ہے۔ پاکستان کے چین کے ساتھ برادرانہ تعلقات اور ایران کے ساتھ بہتر روابط اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان ایک علاقائی ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اگرچہ افغانستان کے ساتھ کچھ سرحدی کشیدگی موجود ہے لیکن قوی امید ہے کہ یہ عارضی ہے اور جلد ہی پیچیدہ معاملات بات چیت کے ذریعے حل ہو جائیں گے جس کے بعد پورا خطہ ایک مربوط معاشی زون بن جائے گا۔ اس لیے یہ سہ فریقی اتحاد محض سرحدوں کی حفاظت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ امت مسلمہ کے لیے ایک طاقتور پلیٹ فارم بھی ثابت ہو گا۔ ماضی میں مسلم ممالک عالمی سطح پر منتشر ہونے کی وجہ سے اپنا مقدمہ مؤثر انداز میں پیش نہیں کر پاتے تھے۔ اب پاکستان کی عسکری مہارت‘ ترکیہ کی سفارتی جرأت اور سعودی عرب کے اثر و رسوخ کے یکجا ہونے سے مسئلہ فلسطین ہو یا کشمیر‘ مسلم دنیا کی آواز کو دبانا ممکن نہیں رہے گا۔ یہ ممالک اب اس پوزیشن میں ہوں گے کہ وہ عالمی طاقتوں کے سامنے اپنا مؤقف برابری کی بنیاد پر رکھ سکیں۔
اس اتحاد کا ایک اہم پہلو دفاعی پیداوار میں خود کفالت ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان جے ایف 17تھنڈر‘ ٹینک سازی اور بحری جہازوں کی تیاری میں پہلے ہی تعاون موجود ہے۔ سعودی عرب کی سرمایہ کاری کے ساتھ تینوں ممالک مل کر ایسی دفاعی صنعت کھڑی کر سکتے ہیں جو انہیں مغربی ممالک کے اسلحے پر انحصار سے نجات دلا دے۔ یہ اقتصادی طور پر بھی گیم چینجر ثابت ہو گا کیونکہ دفاعی بجٹ کا ایک بڑا حصہ اپنے ہی ممالک کی صنعتوں میں گردش کرے گا جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی ممکن ہو سکے گی۔ یقینا اس طرح کے عظیم اتحاد کی راہ میں رکاوٹیں بھی کھڑی کی جائیں گی۔ عالمی طاقتیں کبھی نہیں چاہیں گی کہ مسلم دنیا کے تین اہم ستون ایک مرکز پر اکٹھے ہوں۔ راستہ روکنے کے لیے پروپیگنڈا‘ اقتصادی ناکہ بندی کی دھمکیاں اور اندرونی خلفشار پیدا کرنے کی کوششیں کی جائیں گی‘ تاہم جس بصیرت کا مظاہرہ حالیہ قیادت نے کیا ہے اس سے نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یہ رکاوٹیں ریت کی دیوار ثابت ہوں گی۔ پاکستان اب اپنی اہمیت منوا چکا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب پاکستان نہ صرف اپنے معاملات بلکہ دیگر ممالک کے تنازعات کو حل کرانے والے عالمی منصفوں میں شامل ہو گا۔
مستقبل کی عالمی بساط پر وہی ریاستیں اپنا سکہ جمانے میں کامیاب ہوں گی جو تنہائی پسندی کی روش کو تیاگ کر عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ محض افرادی قوت یا جغرافیائی وسعت کسی قوم کی بقا کی ضمانت نہیں ہوتی۔ آنے والا دور اُن ممالک کا ہے جو آپس میں اتحاد‘ اتفاق اور جدید ٹیکنالوجی کو اپنا شعار بنائیں گے۔ آج کے تیز رفتار دور میں مصنوعی ذہانت‘ دفاعی خودمختاری اور ڈیجیٹل معیشت وہ ہتھیار ہیں جن کے بغیر دفاع وطن کا تصور ادھورا ہے۔ جب پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ جیسے برادر ممالک اپنے عسکری اور اقتصادی وسائل کو یکجا کریں گے اور سائنسی علوم کی ترویج کو اپنی ترجیح بنائیں گے تو اس کے نتیجے میں ایک ایسا ناقابلِ تسخیر بلاک وجود میں آئے گا جس کی بنیاد باہمی اعتماد اور ترقی پسند ویژن پر ہو گی۔ یہ اتحاد نہ صرف مسلم اُمہ کو عالمی استعمار کے مالیاتی جبر سے نجات دلائے گا بلکہ ہمیں اس قابل بنائے گا کہ ہم عالمی فورمز پر اپنی شرائط پر بات کر سکیں۔ اتحاد کی طاقت اور ٹیکنالوجی کی برتری ہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر ہم آنے والی نسلوں کو باوقار‘ مستحکم اور خوشحال مستقبل فراہم کر سکتے ہیں جہاں ہماری پہچان محض ہماری تاریخ نہیں بلکہ ہماری جدید ترین صلاحیتیں ہوں گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں