نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ڈونلڈ بلوم پاکستان میں امریکا کےنئے سفیر نامزد ،وائٹ ہاؤس
  • بریکنگ :- صدر بائیڈن نےڈونلڈ بلوم کو پاکستان میں سفیر نامزد کردیا،وائٹ ہاؤس
  • بریکنگ :- ڈونلڈ بلوم اس سےقبل تیونس میں امریکا کےسفیر تعینات رہے
Coronavirus Updates
"RBC" (space) message & send to 7575

کتابوں کی تلاش

یہ میں نے کیا لکھ دیا۔ بھلا کتابیں بھی کبھی پرانی ہوتی ہیں؟ علم تو ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ پُرانے وقتوں میں سینہ بہ سینہ آگے چلتا رہا‘ ایک سے دوسرے‘ دوسرے سے تیسرے تک اور پھر آگے‘ اگلی نسلوں تک۔ اور جب ہم نے لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تو حروف کی صورت کاغذ پر محفوظ ہونا شروع ہوا۔ دنیا میں علمی انقلاب پرنٹنگ پریس لے کر آیا۔ ایسا انقلاب کہ نہ جانے کتنے ترقی کے راستے کھلتے چلے گئے۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ ایسے دور میں آئے جب کتابیں‘ رسالے اور اخبارات میسر ہیں‘ اگر نہیں ہے تو شوق اور وقت۔ پتا نہیں کن دھندوں میں لوگ زندگیاں کھپا رہے ہیں۔ کتابوں کی دنیا ہی الگ ہے۔ ایسی کہ داخلہ مل جائے تو باہر کے سب راستے آہستہ آہستہ بند ہو جاتے ہیں۔ روشنی اور گھٹا ٹوپ اندھیروں والی بات ہے۔ ہم بھی تو وقت اور حالات کے بنے سانچوں میں سیسے کی طرح پگھل کر کوئی صورت اختیار کر لیتے ہیں اور وہی ہماری حیثیت اور شناخت بن جاتی ہے۔ بس جو بن جائیں اکثر وہی رہتے ہیں‘ اگرچہ کئی اور رویوں میں ڈھلنے کے مواقع ملتے رہتے ہیں‘ اور بدلنا کوئی مشکل بھی نہیں ہوتا لیکن جہاں جس حال میں آسودگی پائی وہاں کے ہو رہے۔ وقت کا گھوڑا ہمیں سوار کئے آخری منزل تک لے جانے میں زیادہ فرصت بھی تو نہیں دیتا۔
ہزاروں سال پہلے حصولِ علم‘ فن و ہنر اور حکمت و دانش کے سرچشموں سے فیضیاب ہونے کے لیے سفر کرتے تھے‘ ہزاروں میلوں کا‘ مگر لاہور کے درویش بابا کی کئی باتیں خموشی سے سرگوشیاں کرتی رہتی ہیں۔ حضرت علی ہجویریؒ‘ مسافرت کی داستانیں کشف المحجوب میں لکھی ہیں۔ سب سبق آموز۔ مرکزی ایشیا‘ خراسان اور ایران و عرب کے کئی علاقے۔ کسی درویش اور اہلِ علم و آگہی کے بارے میں پتا چلتا تو خدمت میں پہنچ کر فیضیاب ہوتے‘ تحریر کرتے اور تحریریں اکٹھی کرتے رہتے۔ غزنی سے لاہور آ گئے تو میرا خیال ہے کہ پھر یہیں کے ہو رہے۔ لکھتے ہیں کہ وہاں اپنی لائبریری اور ہزاروں کتابیں چھوڑ آئے۔ ہماری جدید جامعات اور نظام تعلیم ہو یا روایتی مدارس اور درسگاہیں‘ مقصد راستہ دکھانا ہوتا ہے‘ اس پر چلنا سکھانا اور آدابِ مسافرت‘ علمی دھاروں اور جو کچھ کسی بھی میدان میں ابھی تک اکٹھا کیا جا چکا ہے‘ اس سے روشناس کرانا ہوتا ہے۔ کون کتنا آگے چلنے کی ہمت رکھتا ہے اور کتنی منزلیں طے کرتا ہے‘ یہ جذبے‘ لگن اور میلانِ طبع کی بات ہے۔ ظاہر ہے کہ جدید معیشت‘ مشینی دور کے تقاضوں‘ منڈی کی ضرورت اور معاشرتی ترقی اور وسائل نے تعلیم اور علم کو پیشہ ورانہ بنا دیا ہے۔ یہ بھی علم ہے مگر اس کی بنیاد میں تاریخ‘ فلسفہ اور بشری علم کے دیگر شعبے نہ ہوں تو ہنر سکھایا جا سکتا ہے مگر علمی رنگ شاید نہ چڑھ سکے اور نہ گہرا ہو سکے۔ کتابیں پڑھنے اور خریدنے کا شوق تو ہمارے گزرے وقتوں میں کالج کے زمانے میں ہی تھا۔ پہلی غیر درسی کتاب نویں جماعت میں پڑھی تھی۔ یہ شاہد حمید مرحوم کا ڈیل کارنیگی کی کتاب کا اردو ترجمہ تھا ''پریشان ہونا چھوڑئیے‘ جینا شروع کیجئے‘‘۔ کالج میں نسیم حجازی‘ غلام احمد پرویز‘ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی‘ نیاز فتح پوری‘ سر سید احمدخان اور مولانا ابوالکلام آزاد مکمل تو نہیں‘ جو ہاتھ لگا پڑھا۔ وہ نظریاتی دور تھا اور ہم نظریاتی مباحث میں لگے رہتے‘ اس لیے زیادہ مولانا مودودی اور غلام احمد پرویز کی تصانیف کو دیکھا۔ اس کے علاوہ ان چار سالوں میں کوئی سیاسی جلسہ ایسا نہ تھا جس میں شرکت نہ کی ہو‘ اور کوئی ایسی فلم نہ تھی‘ جو سینما میں جا کر نہ دیکھی ہو۔ وہ جلسوں‘ فلموں اور سیاسی مباحث کا آزاد دور تھا۔ لاہورکی جامعہ پنجاب میں پہنچے تو یہاں کی دنیا ہی الگ تھی۔ تب ہمارے کالجوں اور جامعات‘ چند سہی‘ میں وسعت اور اساتذہ کی فراخ دلی ایسی تھی کہ کوئی خالی واپس نہ جاتا‘ سب کو داخلہ مل جاتا۔ جامعہ سے باہر لاہور کی تو اپنی ہی دنیا تھی۔ یہاں بھی کئی کئی جلسوں اور جلوسوں میں شرکت کی۔ ان کی داستان کبھی فرصت کے دنوں میں لکھیں گے۔ اتوار کے دن مٹرگشت کے لیے شہر آنا‘ جس سے مراد انار کلی اور مال روڈ ہے‘ ضروری تھا۔ پاک ٹی ہائوس کی رونقیں بھی دیکھیں‘ سگریٹوں کے دھووں کے مرغولوں اور چائے کے گرم کپوں کی گردش میں لاہور کے نامور ادیبوں‘ شاعروں اور دانشوروں کو بھی دوردور سے دیکھا۔ پاک ٹی ہائوس کے سامنے پُرانی کتابوں کا بازار تب سے قائم ہے۔ چائنیز لنچ ہوم‘ پتا نہیں اب اس عمارت میں کیا بکتا ہے‘ کے سامنے سڑک کے کناروں پر پرانے رسالے اور کتابیں خوبصورت ترتیب میں بکتی تھیں۔ اس جگہ سے ہم فقیروں کی محبت باون سال پُرانی ہے۔ ہم جوں جوں پرانے ہو رہے ہیں‘ پرانوں کی یادیں اور پرانی کتابوں سے رغبت اور بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ لاہور میں ہوں تو اکثر اتواروں کو کچھ خریدوں یا نہ خریدوں‘ چکر ضرور لگتا ہے‘ مگر کبھی ایسا ہوا نہیں کہ خالی ہاتھ لوٹا ہوں۔ میری پہلی خریداری یہاں اس دور کے کسی مشہوررسالے‘ اگر غلط نہیں تو ''نقوش‘‘ کا ''ماجدولین‘‘ نمبر خریدا تھا۔ یہ گزشتہ صدی کے اوائل میں ایک فرانسیسی مصنف الفونسو نے تحریر کیا تھا۔ اردو میں ترجمہ عربی سے کیا گیا تھا۔ اب بھی اس کی مقبولیت اور اس پر بحث میں کمی نہیں آئی۔ یہ میرے چند قیمتی اثاثوں میں سے ایک تھا‘ مگر شومئی قسمت سے کسی دوست کو یہ گوارا نہ تھا۔ پُرانی کتابیں تو لیتے ہی رہتے ہیں‘ مگر انارکلی کے اس پار ایک پبلشنگ ہائوس تھاجہاں روسی کتابوں کے اردو ترجمے‘ مارکس اور لینن کی انگریزی کتابیں سستی مل جاتیں‘ تقریباً مفت۔امریکی دنیا تو کتابوں کی دنیا ہے۔ وہاں تعلیم کے دوران وسائل بہت محدود تھے۔ درسی کتب سینکڑوں میں خرید کیں مگر ہم سب کی کوشش ہوتی کہ استعمال شدہ کتاب کہیں سے ڈھونڈیں۔ چھٹیوں کے دوران یا اتوارکے دن شہر کا بھی رخ کرتے اور پرانی کتابوں کی دکانوں پر کوئی کلاسیک تلاش کرتے۔ کہانی لمبی ہو جائے گی اگر میں کئی دہائیوں کے سفرکے بارے میں لکھوں۔ نایاب کتابیں اور رسالے پرانی کتابوں کی دکانوں اور فٹ پاتھ پر بیٹھنے والوں سے خرید کیے۔ زیادہ نہیں تو بس چند ہزار مگریہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ راولپنڈی صدر میں اتوار کے دن بازار لگتا تھا اور اسلام آباد کی آبپارہ مارکیٹ میں بھی۔
یہاں اسلام آباد میں تو بند ہو گیا مگر سنا ہے کہ صدر میں اب بھی پرانی کتابیں فروخت ہوتی ہیں۔ میری پسندیدہ میلوڈی مارکیٹ کی ''اولڈ بک شاپ‘‘ ہے‘ اگرچہ اس نام سے کئی اور بھی ابھر آئی ہیں۔ ایف ٹین مرکز میں چار ہیں۔ سب جگہ جانا ضروری ہوتا ہے۔ نوادرات ہاتھ لگ جاتے ہیں۔ چند ماہ پہلے ماریو پوزو کے تین ناولوں کے اوریجنل ایڈیشن مل گئے اور 'ٹائم‘ اور 'لائف‘ کی شائع کردہ پرانی تہذیبوں کی تقریباً مکمل سیریز۔ نیشنل جیو گرافک کے پرانے شمارے میرے پسندیدہ ہیں۔ میرے خیال میں یہ انیس سو سڑسٹھ کا شمارہ ہے۔ ٹائٹل پر طاہرہ سید کی فوٹو ہے‘ جھولے میں بیٹھی ہیں اور پاکستان اور اسلام آباد پر زبردست مضمون ہے۔ اندر تصویر اسلام آباد کی تب کی ہے جب ابھی دور سے صرف سیکرٹریٹ کی دو تین سفید عمارتیں مارگلہ کے گہرے سبز رنگ میں نمایاں ہیں۔ اس زمانے کے افغانستان کی بھی ہے۔ ظاہر شاہ کا پُرامن اور ترقی کی راہ پر گامزن افغانستان۔
یقین جانیں ان کتابوں کی رفاقت میں مزہ ہی زندگی کا اور ہے۔ ایک دن خیال آیا کہ کیوں نہ ان میں سے کچھ ایک سرکاری جامعہ میں واقع ادارے کی لائبریری کو دے دیں۔ تقریباً چھ سو نکال کر دے تو دیں مگر جدائی کا دکھ کبھی کبھار سر اٹھا ہی لیتا ہے۔ یہ وہ ذخیرہ ہے جو فقیر نے نیویارک‘ برکلے اور ویک فارسٹ سے اکٹھا کیا۔ کچھ طالب علمی کے زمانے کا ہے۔ جگہوں کی تبدیلیوں میں اور لوگوں پر اعتبار کی وجہ سے بہت ہی قیمتی کتابیں کھو بیٹھا ہوں۔ 'فال آف رومن امریکہ‘ کی دوسری جلد غائب ہے‘ ابن خلدون کا ''مقدمہ‘‘ بھی اور کس کس کا نام لوں۔ جب تک ہاتھوں میں دم اور پائوں میں سکت ہے‘ ان سب کا ازالہ ہو جائے گا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں