"TSC" (space) message & send to 7575

شہنشاہِ ظرافت اورجانشین

اپریل1976ء کی بات ہے ۔ان دنوں میں گجرانوالہ عطا محمد اسلامیہ ہائی سکول میں زیر تعلیم ہوا کرتاتھا۔مجھے آج بھی یاد ہے کہ یہ 29اپریل کادن تھا جب میں اورمیرا بڑا بھائی طیب سرورمیر دونوں باتیں کرتے ہوئے سکول جارہے تھے ۔ گجرانوالہ کچا دروازہ میں واقع مسجد کے عین سامنے پہنچے تو وہاں ایک شخص کے ہاتھ میں اخبار دیکھا جس کے باٹم (زیریںحصے) پر 6کالمی سرخی تھی کہ ''برصغیر کے عظیم مزاحیہ فنکار منورظریف انتقال کرگئے‘‘۔دل چاہاکہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ لاہور پہنچوں جہاں ان گنت لوگوں کے محبوب فنکار کی آخری رسومات ادا کی جارہی ہیںلیکن اپنی کم سنی کے باعث ایسا نہ کرسکا۔ شہنشاہ ِظرافت منور ظریف ان چند ہستیوں میں شامل ہیں جنہیں میں اپنی زندگی کے ابتدائی ایام سے ہی محبوب سمجھتاہوں ۔منور ظریف کی وفات کے بعد 4اپریل 1979ء کو ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے سانحہ نے دل کے کیلنڈر پر ایک اوریوم ِسوگ کا اضافہ کردیا۔زندگی آگے بڑھی تو مرتضیٰ حسین المعروف مستانہ اور ببوبرال جیسے جگری دوست بھی اسی اپریل کے مہینے میں بچھڑ گئے۔ مستانہ گیارہ اور ببوبرال 16اپریل کو اس جہان ِفانی سے رخصت ہوئے تھے۔کبھی کبھی تولگتا ہے کہ اپریل بہار کا نہیں خزاں کا موسم ہے جس میں معین اختر جیسا ست رنگی فنکار بھی زندگی کے شجرسے ٹوٹ کر موت کی وادی میں جاگرا۔ معین اختر کا یوم وفات 22اپریل ہے، 27اپریل کو اداکار نعیم ہاشمی جاں سے گئے اور25اپریل قصوری گھرانے کے بے مثل استاد بڑے غلام علی خاں کا یوم وفات ہے۔
یاد ہے کہ مجھے بچپن سے ہی اداکاری میں منورظریف اورمزاح نگاری میں مشتاق احمد یوسفی پسند ہیں۔مشتاق احمد یوسفی کی کتابوں کا مجموعہ جس میں خاکم بدہن، چراغ تلے ، زرگزشت اورآب گم شامل ہیں‘ تحفے میں ملی تھیں۔ یہ تحفہ مجھے میرے والد کے ماموں غلام محمد مرحوم نے دیا تھا‘ جو کراچی ائیر فورس سے ریٹائرڈ ہوئے تھے ۔منور ظریف جیسا تحفہ کس نے دیا تھا؟اس سوال پر سوچوں تو سمجھ میں یہی آتا ہے کہ خدا کی اس نعمت کو سمجھنے اورانجوائے کرنے والی روح بھی اسی نے عطا کی ہے جس نے منورظریف جیسا تحفہ پیدا کیا۔ گذشتہ دنوں الحمرا آرٹس کونسل کے زیر اہتما م ایک تقریب کا انعقاد کیاگیا جس میں شہنشاہ ظرافت منورظریف ، معین اختر، مستانہ اورببوبرال کو خراج تحسین پیش کیاگیا۔ان عظیم فنکاروں پر فرداً فرداً لکھا جائے تو ''ہزار داستان ‘‘ بھی چھوٹی پڑجائے گی۔ منورظریف نے اپنے کیرئیر کاآغاز 1960ء میں فلم ''ڈنڈیاں‘‘ سے کیااورصرف پندرہ سالہ کیرئیر میں سواتین سو سے زائد فلمیں کیں ۔منور ظریف ابتدائی زمانے میں ایسی فلموںکے مناظر میں بھی دکھائی دیتے ہیںجن میں وہ بہت بڑے مجمع میں بیسیوں لوگوں میں کھڑے ہیں‘ لیکن آپ اگر مشاہدے کے لئے مجمع میں کھڑے منورظریف کوبھی دیکھیں تو ان کی باڈی لینگوئج سے لگتا ہے کہ یہ شخص ایک دن کیمروں پرچھا جائے گا۔منور ظریف جیسا فنکار ہمیں برصغیر میں دوسرا دکھائی نہیں دیتا۔ جیسا کہ میں نے عرض کیاکہ انہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز ایکسٹرا کی حیثیت سے کیاتھا لیکن بعد ازاں یہ کرشمہ بھی ہواکہ منورظریف فلم کے ہیرو اور ہیروئن سے بھی آگے نکل گئے۔ایسا اکثر ہوا کہ دوسری اور تیسری بار نمائش ہونے والی فلموں کے پوسٹرز پر منورظریف کی سب سے بڑی تصویر کے پہلو میں ہیروز اورہیروئینز دکھائی دینے لگیں۔
80ء کی دہائی کے آغاز میں میری دوستی ببوبرال سے ہوئی تو ہم گھنٹوں منورظریف کی باتیں کیاکرتے تھے۔ببوبرال پرفارم کرکے منورظریف کے مشہور ڈائیلاگ سناتے ۔کبھی کبھی میں ببوسے فرمائش کیاکرتاکہ وہ فلم ''چھو منتر‘‘ کے لئے ظریف مرحوم کا گایا گیت ''برے نصیب میرے ‘‘ سنائے۔ ببوبرال ،منورظریف کے گائے گیت بھی سنایاکرتے تھے۔ایک دن میں اور ببوبرال گجرانوالہ میں ایک پرانی بلیک اینڈ وائٹ فلم دیکھ رہے تھے جس میں منورظریف نے چوڑیاں بیچنے والے کا کردارادا کیاتھا۔منورظریف گلی محلے میں آوازیں لگاکر چوڑیاں فروخت کرتے ہیں،ایک جگہ منورظریف ایسی تان لگاتے ہیںکہ ببوبرال بے اختیار عش عش کراٹھے ۔بعد ازاں میرے سوال کرنے پر ببو برال نے مجھے کہا کہ منورظریف صاحب نے یہ ایسی تان لگائی ہے جو کسی مزاحیہ اداکار کو تو سات جنم بعد بھی نصیب نہیںہوسکتی۔ ببوبرال نے کہاکہ ایسی صاف شفاف اوربرجستہ تان بھارتی گلوکارہ آشا بھونسلے اورکلاسیکی گلوکارہ پروین سلطانہ کے گلے میں ہی پائی جاتی ہے۔ 
ببوبرال بذات خود بھی ایک انمول فنکار تھا۔ببو برال کا اصل نام ایوب اختر تھا ، اس کا تعلق اہل میراث کے برال قبیلے سے تھا جس پر اسے فخر تھا۔وہ کہاکرتاتھاکہ گانا،بجانا اورجگت کرنا ان کے خون میں شامل ہے۔اس نے مجھے کئی ایسی باتیں سنائیں کہ برسوں پہلے جب اس کے پڑدادا کو لحد میںاتارا جارہاتھاتو اس کے دادا نے آہ وبکاہ کرتے ہوئے بھی جو کچھ کہا‘اسے اگر دوسرے لوگوں کو سنایاجائے تو وہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوجائیں گے۔ ببوبرال کہاکرتاتھاکہ گانا سنانے اورہنسانے کے لئے ہمیں کوشش نہیںکرنی پڑتی ،یہ ہم سے سرزد ہوتا ہے۔ قدرت نے اسے بے پنا ہ صلاحیتوں سے نواز رکھاتھا۔ببوبرال کے بارے میں ،میںکہاکرتاہوں کہ ابھی دنیا نے ببو برال کو صرف 15فیصد ہی دیکھا اورسنا تھا کہ وہ چل بسا ، باقی 85فیصد ببو برال تو ابھی باقی تھا۔دنیائے موسیقی کے عظیم فنکار وں کا انداز گائیکی وہ یوںسنایاکرتاجیسے اس نے یہ فن صدیوں میں سیکھاہو،لیکن مجھے علم ہے کہ ببوبرال نے موسیقی کی باقاعدہ تعلیم بھی حاصل نہیںکی تھی۔سب کچھ اس کے ''فطری پیکج‘‘ میں شامل تھا۔ ببوبرال، استادوں کے استاد بڑے غلام علی خاں ،استاد سلامت علی خاں، استاد نزاکت علی خاں ، استاد امانت علی خاں، استاد فتح علی خاں، استاد عاشق علی خاں، استاد کالے خاں،استا دمبار ک علی خاں ‘استاد فتح علی خاں (راحت خاں کے دادا)، استا د گلوخاں ، طفیل نیازی ، زاہدہ پروین ،کجن بائی ، فریدہ خانم، اقبال بانو، ملکہ موسیقی روشن آرا ء بیگم، زہرہ بائی سمیت ان گنت اساتذہ فن کے گائیکی کے انداز کی نقالی کیاکرتاتھا۔
میں حیران ہوتاتھاکہ ببوبرال انسان ہے یا کوئی بہت بڑا ''میوزک آرکائیو‘‘۔ویسٹرن سٹارز میں وہ بہت ہی سریلی وٹنی ہوسٹن سمیت ایلویس پریسلے ،ماریہ کیری ، مائیکل جیکسن،جینٹ جیکسن، بونیم گروپ اور میڈونا کا سٹائل سنایاکرتاتھا۔اس وقت میرا منہ حیرت سے کھل جایاکرتاتھاجب ببوبرال دنیا کے عظیم گٹارسٹ بی بی کنگ کابہت مشکل گٹار منہ سے سنا دیا کرتا تھا۔ میوزک سے وابستہ خواتین وحضرات جان جاسکتے ہیںکہ یہ فن کے اظہار کی کون سی صنف ہے۔برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بیسیوں موسیقاروں کا انداز ببوبرال کو ازبر تھا۔کھیم چندر پرکاش ،نوشاد اعظم ،سلیل چوہدری، شنکر جے کشن، ایس ڈی برمن ، آر ڈی برمن ، لکشمی کانت پیارے لعل اورریوندر جین کے میوزک میں وائلن اورخاص طور پر ردم پیٹرن کا گراف جب وہ اپنے ہاتھوں میں تھامے ڈھولک پر سناتاتھا تو ببوبرال مجھے موسیقار اعظم دکھائی دیتا تھا۔ 
استاد نذر حسین ایک مشکل پسند غزل کمپوزر ہیں، ان کی خوبی ہے کہ ان کی کمپوز کی ہوئی غزلیں جیساکہ ''رات پھیلی ہے تیرے سرمئی آنچل کی طرح‘‘ ہے اور جسے ہر خاص وعام نے سراہاہے، تکنیکی طور پر ایک مشکل دھن ہے۔ایک مرتبہ استاد سلامت علی خاں کے پاس بیٹھے ستار نواز اکبر خاں نے کہاتھاکہ ''استاد نذر اگر چاہیں تو لتا منگیشکر جیسی عظیم گائیکہ ان کی بنائی دھن کو پورے 30دن تک ادا نہ کرسکے‘‘۔موسیقی کے شعبہ میں اس قسم کی ''خواجہ سرائی‘‘سے کون سے سفارتی اہداف حاصل کئے جاسکتے ہیں لیکن مجھے اتنا یاد ہے کہ استاد سلامت علی خاں نے کہاتھاکہ استاد نذر ایک عظیم،مشکل پسند اور بے مثل موسیقار ہے۔ببوبرال کے وسیع اورفنکارانہ پیکیج کااندازہ اس امر سے لگایاجاسکتا ہے کہ وہ استاد نذر کی دھنیں آسانی اورروانی سے یوں گایاکرتاتھا جیسے سرکاری سکولوں کے ہونہار بچے پہاڑے سنا یا کرتے ہیں۔ 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں