اپنی گردن آپ کاٹتے پاکستانی

خودکشی کی ایک نہیں بیسیوں وجوہ ہوا کرتی ہیں مگر ماہرین بتاتے ہیں کہ عموماً لوگ کم سے کم تکلیف دہ عمل کے ذریعے خودکشی کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ قارئین نے بھی سینکڑوں مرتبہ خودکشی کی خبریںپڑھی ہوں گی جن میں درجنوں طریقوں سے خود کشی کی کوشش کی گئی ہو۔ لیکن ایسی خبر شاید ہی پہلے آپ کی نظر سے گزری ہو کہ کسی انسان نے اپنی اذیت بھری زندگی سے جو پاکستان میں کروڑوں انسانوں کا معمول ہو چکی ہے‘ چھٹکارا پانے کیلئے انتہائی اذیت ناک اور تکلیف دہ موت کو اپنے لیے آسان سمجھا ہو۔ وہ فیصل آباد کے علاقے 344گ ب شاہ پور کی رہائشی تھی اور پاکستان میں زندگی کی پچاس ’’خزائیں‘‘ دیکھ چکی تھی۔ نام والدین نے مسرت رکھا تھا لیکن مملکت پاکستان میں مسرت بی بی کو کبھی مسرت نصیب نہ ہو سکی۔ غربت کی اذیت اور ذلت ہمیشہ اس کا نصیب رہی کہ مسرتیں اس ملک میں صرف ایک فیصد اشرافیہ کیلئے رہ گئی ہیں جو سیاست کو بزنس یونٹ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ مسرت بی بی کے لیے یہ روز کا معمول تھا۔ کبھی کھانا پکتا کبھی نہ پکتا‘ کبھی بچے بلکتے ہوئے بھوکے سو جاتے‘ کبھی نیند میں روٹی مانگتے ہوئے سسکتے رہتے۔ مسرت بی بی روز جیتی‘ روز مرتی تھی مگر ظلم سے لے کر صبر تک ہر شے کی حد ہوا کرتی ہے اگر حد نہیں ہے تو پاکستان میں پائی جانے والی اشرافیہ کی لوٹ مار کی کوئی حد نہیں۔ سو گزشتہ روز مسرت بی بی کے بچوں نے جب معمول کے مطابق کھانا مانگا اور معمول کے مطابق رونا شروع کیا تو سب کچھ معمول کے مطابق ہی تھا۔ خالی دیگچیوں میں کھانا نہ ہونا اس گھر کا معمول تھا لیکن مسرت بی بی کا صبر جواب دے چکا تھا۔ بچوں کو بلکتا دیکھنے کی اذیت اتنی شدید تھی کہ مسرت کو وہ اذیت بہت کم محسوس ہو رہی تھی جو اذیت اپنے ہی ہاتھوں اپنی جان لیتی ہوئی مسرت بی بی محسوس کر رہی تھی۔ محاورتاً نہیں حقیقتاً مسرت بی بی کے پاس زہر کھانے کو بھی پیسے نہیں تھے سو مسرت بی بی بچوں کو کھانا نہ دے سکنے کے بجائے بچوں کے سامنے اپنے ہی گلے پر چھری پھیرتی ہوئی مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی۔ مسرت بی بی اور بچوں کی چیخ وپکار سن کر محلے والے مسرت بی بی کو ہسپتال لے کر گئے مگر مسرت بی بی نے شکر ادا کیا ہو گا کہ وہ زندگی کی اذیت کی طرف دوبارہ نہ لوٹی کہ اس ملک میں خودکشی کی اذیت زندہ رہنے کی اذیت سے کہیں کم ہو چکی ہے۔ پاکستان میں کروڑوں لوگوں کے لیے اپنے ہاتھ سے اپنی جان لینا آسان اور صبح سے شام کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ایک طرف مسرت بی بی جیسے لوگ غربت کے باعث خودکشیاں کرنے پر مجبور کر دیے گئے ہیں اور دوسری طرف امریکہ، فرانس، برطانیہ، دبئی اور سوئٹزر لینڈ میں حکمرانوں کے کاروبار ، پلازوں ، ملوں اور اکائونٹس کے چرچے ہیں۔ لوگ اپنی جانیں اپنے ہاتھوں تلف کر رہے ہیں اور حکمران واشرافیہ کے معدے ہیں جو بھرنے میں ہی نہیں آرہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ جو کچھ لُوٹ کر جہاں جہاں بنایا جا رہا ہے اس کی بنیادوں میں مسرت بی بی جیسوں کی ادھ کٹی گردنوںسے رستا ہوا خون اور نرخروں سے نکلتی ہوئی چیخوں کی آوازیں شامل ہیں۔ دکھ تو یہ ہے کہ یہ سلسلہ آج سے نہیں وطن عزیز میں کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ فیض صاحب کی برسی پہ لکھنا تھا لیکن مسرت بی بی کی دہلا دینے والی خود کشی نے رونگٹے کھڑے کر دیے۔ جسم و جاں کو ہلا کر رکھ دیا۔ 70ء کی دہائی میں لکھی گئی فیض کی نظم افسوس صد افسوس کہ آج کی لگتی ہے۔ فیض چلے گئے مگر عام آدمی کے شب وروز کا جو نوحہ وہ لکھ گئے تھے وہی نوحہ فیض کی برسی پہ مسرت بی بی کے نام جسے خودکشی کرنا اس ملک میں زندہ رہنے سے کہیں آسان لگا… مسرت بی بی کے دکھ پہ فیض کی نظم
 
 
ربّا      سَچیّا      تُوں      تے      آکھیا      سی
جا  اوئے    بندیا      جگ    دا   شاہ   ہیں   تُوں
ساڈیاں      نعمتاں      تیریاں      دولتاں      نیں
ساڈا     نیب      تے     عالیجاہ     ہے      تُوں
ایس     لارے    تے    ٹور    کد     پُچھیا    ای
کِیہ      ایس     نمانے      تے     بِیتیاں      نیں
کدی    سار    وی     لئی     او    ربّ    سائیاں
تیرے    شاہ    نال    جگ    کِیہ    کِیتیاں    نیں
کِتے    دھونس     پولیس     سرکار     دی    اے
کتے      دھاندلی     مال     پٹوار     دی     اے
اینویں     ہڈّاں     وِچ     کلپے     جان     میری
جیویں     پھاہی     چ     کُونج     کُرلاندی   اے
چنگا       شاہ      بنایا     ای     رب     سائیاں
پَولے    کھاندیاں     وار     نہ     آئوندی     اے
مَینوں  شاہی    نیئں     چاہیدی     رب     میرے
مَیں    تے     عزت      دا ٹُکر    منگناں    ہاں
مینوں   تاہنگ    نیئں،    محلاں    ماہڑیاں    دی
مَیں   تے    جیون     دی     نُکر    منگنا    ہاں
میری     مَنیں     تے     تیریاں     مَیں     مَنّاں
تیری   سَونہہ     جے    اِک    وی   گل   موڑاں
جے   ایہہ    مانگ    نئیں    پُجدی    تیں    ربّا
فیر میں   جاواں   تے   ربّ   کوئی   ہور  لوڑاں

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں