صحت مند دودھ کی پیداوار کیلئے 2900 ڈیری فارمز کی تربیت مکمل

صحت مند دودھ کی پیداوار کیلئے 2900 ڈیری فارمز کی تربیت مکمل

پتوکی میں سرسبز نامی ماڈل ڈیری فارم میں کسانوں وگوالوں کو دودھ حاصل کرنے اور ترسیل کے محفوظ طریقوں کی تربیت دی جاتی ہے

فارم میں اعلیٰ نسل کی 500درآمد شدہ گائے موجود ہیں جنہیں قدرتی ماحول میں رکھا جاتا ہے ،ڈاکٹر فیصل نواز کی بریفنگ کراچی(رپورٹ:عابد حسین)گائے کے دودھ کو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق کس طرح محفوظ کرکے عوام تک پہنچایا جاسکتا ہے ،ان مراحل کی تکمیل کیلئے 2016 تک 2900 ڈیری فارمرز کی تربیت کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے ،لاہور سے تقریباً80 کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع قصور کی تحصیل پتوکی میں سرسبز نامی ماڈل ڈیری فارم میں قریبی علاقوں کے کسانوں اور گوالوں کو دودھ کے حصول اور اس کی ترسیل کے محفوظ طریقوں سے آگاہ اور ان کی تربیت کا اہتمام کیا جاتا ہے ،یہ سرسبز فارم علاقے میں اسٹیٹ آف دی آرٹ کا درجہ رکھتا ہے اور اس کا انتظام نیسلے کمپنی کے پاس ہے جو ڈبہ پیک دودھ ،منرل واٹر سمیت درجنوں دیگر اقسام کی پیک اشیائے خورونوش بنانے والی مقبول کمپنی ہے ،فارم ہاؤس پر کراچی سے جانے والے صحافیوں کے ایک گروپ کو میڈیا بریفنگ میں فارم کے منیجر ڈاکٹر فیصل نواز نے بتایا کہ وقت کے ساتھ انسانی ضروریات اور خوراک کے استعمال کے طریقے تبدیل ہوتے رہے ہیں،خاص طور پر کھانے پینے کی کھلی اشیاء کی خراب ہونے کی مدت نہایت مختصر ہوتی ہے ،اگر یہ اپنے درست وقت پر استعمال نہ ہو تو اس کے خراب ہونے کی صورت میں اس کا ضیاع ہر صورت مالی لحاظ سے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے ، سرسبز فارم میں 500 اعلیٰ نسل کی درآمد شدہ گائے موجود ہیں جنہیں قدرتی ماحول میں رکھا جاتا ہے ،فارم میں درآمد شدہ گائے کی مشہور نسلیں فریزن،جرسی اور ان دونوں کی کراس نسل فریزن اینڈ جرسی رکھی گئی ہیں،کمپنی کے نمائندے اب گوالوں کو یہ باور کراتے ہیں کم دودھ دینے والی مقامی نسل کی زیادہ گائے رکھنے سے بہتر ہے کہ زیادہ دودھ دینے دینے والی اعلیٰ نسل کی غیر ملکی گائے رکھی جائیں جو کم تعداد کی وجہ سے مالی بوجھ نہیں بنیں گی اور دودھ بھی زیادہ دیں گی۔انہوں نے بتایا کہ ہم ان گوالوں سے یہاں کے مارکیٹ ریٹ کے مطابق دودھ خریدتے ہیں اور بغیر انسانی ہاتھ لگے اور سورج کی روشنی پڑے اسے پلانٹ تک پہنچادیتے ہیں،اس تمام عمل کے دوران دودھ کے ٹیسٹ کے مراحل جاری رہتے ہیں تاکہ کوالٹی پر کوئی فرق نہ آئے ،بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیر اعظم کی یوتھ اسکیم کے تحت اب تک ڈیری فارمرز کو 10 کروڑ روپے کے قرضے فراہم کیے جاچکے ہیں جبکہ ڈیری فارمرز سے کمپنی نے اب تک مجموعی طور پر 22 ارب روپے دودھ کی خریداری کی مد میں خرچ کیے ہیں،علاوہ ازیں اس دورے کے دوران میڈیا ٹیم کو رینالہ خورد کے ایک کلیکشن پوائنٹ پر بھی لے جایا گیا جہاں قریبی علاقوں سے گوالوں سے دودھ جمع کرکے اسے ابتدائی ٹیسٹ کے بعد ٹھنڈا کرکے گاڑیوں کے ذریعے مرکزی لیب تک پہنچایا جاتا ہے ۔ڈیری ڈیولپمنٹ ایگزیکٹو ڈاکٹر محمد سہیل نے یہاں کے مراحل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ڈبے کے دودھ کی افادیت اب ان دور دراز علاقوں تک بھی پہنچ رہی ہے ،ماضی میں یہ گوالے کھلا دودھ فروخت کرکے گزر بسر کرتے تھے اور گائے بھینس کو کسی سائنسی بنیاد پر پالنے کے بجائے عام انداز سے پلنے دیتے تھے لیکن جب سے ٹیٹرا پیک ملک کمپنیوں نے ان سے دودھ کی خریداری شروع کی ہے ان کی مالی حالت بھی بہتر ہونا شروع ہوگئی ہے ،فارم ہاؤس اور کلیکشن پوائنٹ کے دورے کا اہتمام کمپنی کے کارپوریٹ افیئرز ڈپارٹمنٹ نے ‘‘دیکھو اور یقین کرو’’کے اصول پر کیا تھا، کمپنی کی پبلک افیئرز کنسلٹنٹ فرح عاصم نے اس دوران میڈیا ٹیم کو کلیکشن پوائنٹ سے حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق دودھ کے حصول سے لے کر اس کی پیکیجنگ تک کے مراحل کا مشاہدہ کرایا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں