پیداوار کم ، ذخیرہ اندوزی:چاول کی قیمتوں میں ہو شر با اضافہ

پیداوار  کم ،  ذخیرہ  اندوزی:چاول  کی  قیمتوں  میں  ہو  شر  با  اضافہ

فیصل آباد(نمائندہ دنیا )چاول کی قومی پیداوار میں کمی اور ذخیرہ اندوزی کے باعث مارکیٹ میں چاول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ،باسمتی چاول کی فی کلو قیمت 350 روپے سے بھی تجاوز کر گئی۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ سال کے سیلاب سے چاول کی پیداوار میں 30 فیصد کمی ہوئی جس سے رائس ایکسپورٹرز کے کاروبار اور ملکی زرمبادلہ ذخائر کو بڑا دھچکا لگا اور مارکیٹ میں بھی چاول کی قیمت بڑھ گئی۔ رائس ایکسپورٹرز نے سر پکڑ لیے ہیں کیونکہ کم قیمت پر چاول فروخت کرنے والے بھارت نے پاکستانی ایکسپورٹرز کی مشکل بڑھادی ۔پاکستان نے 2021 اور 2022 میں 4.88 ملین ٹن چاول ایکسپورٹ کر کے ڈھائی ارب ڈالر زرمبادلہ کمایا جو طویل عرصے بعد چاول کی برآمدات کا ریکارڈ تھا،اس سے قبل پاکستان کی چاول کی برآمدات 3.68 ملین ٹن تھیں۔ جولائی تا نومبر 2022 میں پاکستان کی چاول کی مجموعی برآمدات اسی عرصے میں 2021 کی نسبت 30 فیصد کم رہیں ۔ رائس ایکسپورٹرز کا کہنا ہے کہ اس سال چاول کی برآمدات گر کر 3.5ملین ٹن رہنے کا امکان ہے ،پچھلے سال چاول کی پیداوار 8.5ملین ٹن تھی اور مقامی طور پر چاول کی کھپت 3 ملین ٹن تھی ۔سندھ میں چاول کی فصل سیلاب کی وجہ سے ایک ماہ تاخیر کا شکار اور پیداوار کم ہوئی ۔رائس ایکسپورٹرز کو پیداوار میں کمی اور مقامی منڈی میں قیمت بڑھنے کے ساتھ ہندوستان سے مقابلے کا چیلنج بھی درپیش ہے ۔بھارتی چاول کی قیمت عالمی منڈی میں پاکستان کے مقابلے میں 80 سے 200ڈالر فی ٹن کم ہے ۔روپے کی قدر میں کمی نے بھی رائس ایکسپورٹرز کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے ۔رواں سال بھی مقامی مارکیٹ میں عام صارف کو مہنگے چاول دستیاب ہوں گے لیکن اس بار وجہ پیداوار میں کمی ہے ۔مقامی مارکیٹ میں قیمتیں پچھلے ڈیڑھ سال کی نسبت 60 سے 70 فیصد بڑھ چکیں ،قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ ذخیرہ اندوز مافیا بھی ہے ۔ذرائع کے مطابق مقامی مارکیٹ میں چاول کی مختلف اقسام کے ہول سیل ریٹ 90 سے 350 روپے فی کلو تک پہنچ چکے اور ریٹیل قیمتوں کی کوئی حد مقرر نہیں ۔

چاول مہنگا

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں