کارانداز پاکستان کا آف لائن پیمنٹس انوویشن چیلنج

کارانداز پاکستان کا آف لائن پیمنٹس انوویشن چیلنج

اسلام آباد (بزنس رپورٹر)سال 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی ڈیجیٹل ادائیگیوں کو تیزی سے فروغ دینا ایک قومی ترجیح ہے ،تاہم غیر مستقل رابطہ سازی(connectivity) اب بھی اُن اہم رکاوٹوں میں سے ایک ہے جو اس کے دائرہ کار اور شمولیت کو محدود کر رہی ہے ۔

چیلنج کے تناظر میں، کارانداز پاکستان نے آف لائن پیمنٹس انوویشن چیلنج کے فائنل پچ راؤنڈ کا انعقاد کیا، جس کا مقصد محدود یا بغیر انٹرنیٹ رابطہ سازی والے ماحول میں راست کو استعمال کرتے ہوئے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے محفوظ اور قابلِ توسیع حل کی نشاندہی کرنا تھا۔ یہ اقدام مسئلے کی نشاندہی سے عملی حل کی تیاری کی جانب ایک اہم پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے ، جس کے تحت اختراع کاروں اور ایکوسسٹم کے مختلف اسٹیک ہولڈرز کو یکجا کیا گیا، اس چیلنج کو مالیاتی ایکوسسٹم کے مختلف حلقوں کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی، جہاں اسٹارٹ اپس، فن ٹیک اور ٹیکنالوجی انوویٹرز کی جانب سے متعدد معیاری اور اختراعی تجاویز موصول ہوئیں، جارڈن پیمنٹ اینڈ کلیئرنگ کمپنی اردن کی ڈائریکٹرلیانا الوریکات(Layanah Al-Wreikat) پرائیویٹ سیکٹر ڈیولپمنٹ ایڈوائزر، فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس کی صبیحہ احمد،ایشیائی ترقیاتی بینک کے پرنسپل پراجیکٹ آفیسر، شوزب علی، اسٹیٹ بینک کے ڈائریکٹر، ڈیجیٹل انوویشن اینڈ سیٹلمنٹ ڈیپارٹمنٹ محمد عمادالدین، سینٹر فار ڈیجیٹل ایسٹس ریسرچ، لمس (LUMS) کے پروفیسر اور سربراہ ڈاکٹر زرتاش افضل اعظمی اور کارانداز پاکستان کے چیف ڈیجیٹل آفیسرشرجیل مرتضیٰ شامل تھے ۔

تجاویز کا جائزہ مختلف نوعیت کے معیار کی بنیاد پر لیا گیا، جن میں تکنیکی مضبوطی، سکیورٹی اور رسک کنٹرولز، ریگولیٹری ہم آہنگی، قابلِ توسیع ہونے کی صلاحیت، مارکیٹ سے مطابقت، اور طویل مدتی پائیداری شامل تھے ۔ رابطہ سازی کے خلا کا براہِ راست حل پیش کرتے ہوئے کارانداز کا مقصد جدید ترین راست سے استفادہ کرتے ہوئے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کو تیز کرنا ہے ، تاکہ ایسے آسان، کم لاگت اور قابلِ استعمال ادائیگی حل متعارف کرائے جا سکیں جو ملک بھر میں حقیقی حالات کے مطابق کام کر سکیں۔

کارانداز

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں