برآمدی منڈیاں متاثر، شعبہ آم کو رواں سال چیلنجز درپیش

برآمدی منڈیاں متاثر، شعبہ آم کو رواں سال چیلنجز درپیش

پنگریو(این این آئی)سال 2026 میں پاکستان کے آم کے شعبے کو غیر معمولی چیلنجز کا سامنا ہے ۔

 ملک بھر میں آم کے باغات صحت مند ہیں اور بور کا معیار بہتر دکھائی دے رہا ہے ، تاہم افغانستان کی بڑی برآمدی منڈی بند ہونے اور ایران کی طرف تجارتی راستوں کی غیر مستحکم صورتحال نے مارکیٹ میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا کر دی ہے ۔ بیشتر زمیندار اس سال اپنے باغات خود سنبھال رہے ہیں اور برآمدات کے حوالے سے بے یقینی نے تاجروں اور ٹھیکیداروں کو محتاط کر دیا ہے ۔زرعی ماہرین کے مطابق پاکستان میں مجموعی پیداوار تقریبا 1.8 ملین ٹن ہے جس میں پنجاب تقریبا 63 فیصد اور سندھ 37 فیصد حصہ دار ہے ۔ تاہم موسمیاتی تبدیلی اور پانی کی قلت کے باعث پیداوار میں 15 سے 20 فیصد کمی کا خدشہ موجود ہے ۔سندھ میں آم کے کل باغات تقریبا 58,828 ہیکٹر میں پھیلے ہوئے ہیں اور متوقع پیداوار 386,923 ٹن تخمینہ جاتی ہے ، اہم اضلاع میرپورخاص، ٹنڈو اللہ یار، سانگھڑ، حیدرآباد، خیرپور اور نوشہرو فیروز ہیں۔باغبانوں نے کہا کہ بور کی حالت اچھی ہے اور بڑی بیماریوں کا اب تک کوئی اثر نہیں ہوا، مگر برآمدی غیر یقینی صورتحال نے زمینداروں کو محتاط کر دیا ہے ۔پنجاب میں آم کے رقبے اور پیداوار سندھ کے مقابلے میں زیادہ ہے ۔ پنجاب سے اندازا 63 فیصد پیداوار حاصل ہوتی ہے ، جس میں ملتان، بہاولپور، ڈی جی خان، مظفرگڑھ اور خانیوال کے باغات شامل ہیں۔ متوقع پیداوار تقریباً 9لاکھ ٹن ہے ، جہاں موسمی اثرات اور پانی کی فراہمی بڑا چیلنج ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں