شرح سود 10.5فیصدپر برقرار، صنعتی حلقوں میں مایوسی

شرح سود 10.5فیصدپر برقرار، صنعتی حلقوں میں مایوسی

کراچی(بزنس ڈیسک)سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر عبدالرحمان فدا نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے کو صنعتی و تجارتی حلقوں کیلئے مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ۔۔۔

 زائد شرح سود کی وجہ سے صنعتوں کی توسیع اور پیداواری سرگرمیوں کو وسعت دینا ممکن نہیں کیونکہ مہنگی بجلی و گیس نے پہلے ہی صنعتوں کی پیداواری لاگت میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے ۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک کے صنعتی شعبے کو اس وقت سہارا دینے کی ضرورت ہے ، لیکن شرح سود میں کمی نہ ہونے سے صنعتکاروں اور برآمدکنندگان کو مشکلات کا سامنا رہے گا۔ مہنگی بینک فنانسنگ کے باعث پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا جس سے مقامی صنعت کی مسابقتی صلاحیت متاثر ہوتی ہے ۔ عبدالرحمان فدا نے مزید کہا کہ اگر پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ کی سطح پر لایا جاتا تو برآمدکنندگان کو سستی فنانسنگ میسر آ سکتی تھی جس سے وہ اپنی پیداواری صلاحیت بڑھا کر عالمی مارکیٹوں میں بہتر انداز سے مقابلہ کر سکتے تھے ۔انہوں نے کہا کہ شرح سود میں کمی سے سرمایہ کاری اور برآمدات کو سہارا مل سکتا ہے،انہوںنے مطالبہ کیا کہ آئندہ صنعت اور برآمدی شعبے کی مشکلات کو مدنظر رکھا جائے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں