ٹیکس نظام میں اصلاحات کی تجاویز، اضافی آمدن کا امکان

ٹیکس نظام میں اصلاحات کی تجاویز، اضافی آمدن کا امکان

لگژری اخراجات پر ٹیکس بڑھانے ، کسانوں کو ریلیف دینے کی سفارشات

کراچی(رپورٹ :حمزہ گیلانی)پاکستان کے بڑے تھنک ٹینک نے ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات کیلئے جامع اور جراتمندانہ تجاویز حکومت کوارسال کر دی ہیں جن پر عملدرآمد کی صورت میں وزارت خزانہ کو300 ارب روپے سے زائد اضافی آمدنی حاصل ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے ۔ رپورٹ میں اشرافیہ اور لگژری اخراجات پر ٹیکس بڑھانے جبکہ چھوٹے تاجروں اورکسانوں کو ریلیف فراہم کرنے کی حکمت عملی پیش کی گئی ہے ، جسے ماہرین ملکی معیشت کیلئے ممکنہ گیم چینجر قرار دے رہے ہیں۔ آئی سی ایم اے رپورٹ کے مطابق لگژری اشیاء پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافے سے حکومتی خزانے کو 150 ارب روپے تک اضافی ریونیو حاصل ہوسکتا ہے ،اسی طرح تمباکو اور ای سگریٹ پر 15 فیصد نئی ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس سے تقریباً 50 ارب روپے ٹیکس آمدن متوقع ہے ۔ دوسری جانب لگژری گاڑیوں کی رجسٹریشن پر5 سے 10فیصد اضافی ٹیکس لگانے کی سفارش بھی کی گئی ہے جس سے سالانہ 30 ارب روپے حاصل ہوسکتے ہیں۔ وزارت خزانہ کو ارسال کردہ رپورٹ میں چینی سے تیار کردہ مشروبات پر 10 فیصد اور الکوحل پر 25 فیصد تک ٹیکس عائد کرنے کی تجویز شامل ہے ، جس سے تقریباً 20ارب ریونیو حاصل ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے ۔ ماہرین کے مطابق صحت کیلئے نقصان دہ اشیاء پر ٹیکس بڑھانے سے نہ صرف آمدن میں اضافہ ہوگا بلکہ عوامی صحت کے حوالے سے مثبت اثرات بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں