روئی کی قیمتیں دو سال کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں
فی من قیمت 4 ہزار بڑھ کر 20 ہزار 500 روپے کی سطح تک پہنچ گئی
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)خلیج جنگ سے متعلق امریکا ایران مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہونے کے باعث روئی کی درآمدی سرگرمیوں کی عدم بحالی سے اس کی قیمتیں دو سال کی نئی بلند ترین سطح تک پہنچ گئیں ۔ پاکستانی کاٹن مارکیٹس میں نئی فصل کی کپاس اور روئی کی بلند قیمتوں پر پیشگی سودے ہونے سے رواں سال پاکستان میں کپاس کی کاشت میں ریکارڈ اضافہ بھی متوقع ہے ۔چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ خلیج جنگ کے باعث روئی کی درآمدات معطل ہونے ، اندرون ملک معیاری روئی کی انتہائی محدود دستیابی اور پولیسٹر فائبر کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے سے پاکستان میں گزشتہ چھ ہفتوں سے روئی کی قیمتوں میں زبردست تیزی کا رحجان برقرار ہے جس سے فی من روئی کی قیمت 4ہزار روپے کے خطیر اضافے سے 20ہزار 500روپے کی سطح تک پہنچ گئی۔انہوں نے بتایا کہ روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں تیزی کے رحجان کی وجہ سے مقامی مارکیٹوں میں روئی اور پھٹی کے ایڈوانس سودوں کا بھی بڑی تیزی سے آغاز ہوا ہے ، سندھ کے علاقے ٹنڈو باگو میں ایک بیوپاری نے کپاس کے چار ٹرکوں کا ایڈوانس سودا 15 تا 25 مئی ڈلیوری کی بنیاد پر خانیوال کی ایک کاٹن جننگ فیکٹری کو 10ہزار روپے فی چالیس کلو گرام جبکہ ڈگری علاقے کے ایک بیوپاری نے 20 تا 30 مئی ڈلیوری کی بنیاد پر خانیوال کی ہی ایک فیکٹری کو 10ہزار 500روپے فی چالیس کلو گرام کے حساب سے فروخت کی ہیں،اسی طرح سانگھڑ کی ایک جننگ فیکٹری نے روئی کی 200گانٹھوں کے ایڈوانس سودے بھی 20مئی ڈلیوری کی بنیاد پر 21ہزار 700 فی من کے حساب سے فروخت کی ہیں۔