اسٹیٹ بینک نے سالانہ مالی استحکام کی جائزہ رپورٹ جاری کردی
بینکوں، ترقیاتی مالی اداروں، بیمہ، مالی منڈیوں کی کارکردگی، رسک کا تجزیہ پیش 2025ء میں مالی شعبے کی نمو15.1فیصد، اسکی آپریشنل ومالی لچک برقرار رہی
کراچی(کامرس رپورٹر)اسٹیٹ بینک نے سالانہ مطبوعہ مالی استحکام کا جائزہ برائے 2025ء جاری کردی،جس میں مالی شعبے کے مختلف زمروں بشمول بینکوں، مائکرو فنانس بینکوں، ترقیاتی مالی اداروں، غیر بینک مالی اداروں، بیمہ، مالی منڈیوں اور مالی منڈیوں کے انفرا اسٹرکچرز کی کارکردگی اور رسک کا تجزیہ پیش کیا گیا، اس میں بینک قرضے کے ایک بڑے صارف یعنی غیر مالی کارپوریٹ شعبے کا بھی تجزیہ کیا گیا، جائزے میں بتایا گیا کہ 2025ء کے دوران مالی شعبے کی نمو15.1 فیصد رہی اور اس کی آپریشنل اور مالی لچک برقرار رہی۔ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ مالی گہرائی جسے جی ڈی پی میں اثاثوں کے تناسب سے ناپا جاتا ہے ، بڑھ کر 67.1 فیصد ہوگئی جبکہ مالی استحکام کو لاحق خطرات سال کے دوران کم ہوئے ۔ ملکی میکرو اکنامک صورتحال سال کے دوران مزید بہتر ہوئی، نپے تلے پالیسی اقدامات سے مہنگائی کم اور اسٹیٹ بینک کے ہدف کے اندر رہی۔
اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ ذخائر میں نمایاں بہتری دیکھی گئی جس کا بنیادی سبب کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ حد میں رہنا اور بین البینک بازار میں اسٹیٹ بینک کی تزویراتی خریداری ہے اس تناظر میں توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) اور آر ایس ایف کے تحت انتظامات کے جائزے کامیابی کے ساتھ مکمل ہوئے ۔ علاوہ ازیں مالی منڈیوں کے اجزا یعنی زر، زرمبادلہ اور ایکویٹی کے زمرے کسی بڑے تعطل کے بغیر مؤثرطریقے سے کام کرتے رہے ۔ اس سے قطع نظر، ملکی مالی منڈیوں میں اوسط اتار چڑھاؤ بڑھا ، جس کا اہم محرک ایکویٹی مارکیٹ تھی، جس نے تجارتی ٹیرف میں بے یقینی کی صورتحال اورجغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے کچھ واقعات کے باوجود خاصی آمدنی حاصل کی۔خصوصاً، بازار مبادلہ کے احساسات میں اعتدال رہا 2025ء کے دوران شعبۂ بینکاری نے اپنی مستحکم کارکردگی اور لچکداری کا تسلسل برقرار رکھا۔
بینکوں کی بیلنس شیٹ 17.8 فیصد بڑھی، جس میں حکومتی تمسکات میں سرمایہ کاریوں کا اہم کردار تھا۔ دوسری جانب دسمبر 2025ء تک قرضوں میں سال بہ سال کمی ہوئی، جو گزشتہ برس کے قرضوں اور ڈپازٹس کے تناسب سے منسلک ٹیکس پالیسی کے بلند اساسی اثر کا نتیجہ ہے ، ادائیگی قرض کی صلاحیت مستحکم رہی، کیونکہ شرح کفایت سرمایہ آخر دسمبر 2025ء تک بہتری کے ساتھ 20.8 فیصد تک پہنچ گئی، جو کم از کم بین الاقوامی اورملکی ضوابطی نشانیے سے خاصی زیادہ ہے ، شعبہ ٔ بیمہ نے دورانِ سال مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کیا، مالکاری لاگت میں کمی سے غیر مالی کارپوریٹ شعبے کی ادائیگی قرض کی صلاحیت بہتر ہوئی، مزید برآں، 2025ء کے دوران بینکوں کے بڑے قرض گیروں کی قرضہ جاتی اہلیت اور واپسی کی صلاحیت بھی مضبوط رہی۔ مالی استحکام کے جائزے میں 2025ء کے دوران مالی منڈیوں کے انفرا اسٹرکچرکی مستحکم کارکردگی اور آپریشنل لچک کو اجاگر کیا گیا ہے۔