تعمیراتی شعبے کی بحالی کیلئے متنازع ٹیکسز ختم کرنے کا مطالبہ
ٹیکسز کی بھرمار سے ہاؤسنگ و کنسٹرکشن سے وابستہ 80صنعتیں بند ہوچکیں معیشت کو فعال بنانے کیلئے سرمایہ کاری و صنعتوں کا چلناناگزیر، ایس ایم تنویر
کراچی(بزنس رپورٹر)یونائیٹڈ بزنس گروپ کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم تنویر نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے عائد کیے گئے ٹیکسز کی بھرمار سے ملک میں ہاؤسنگ اور کنسٹرکشن سے وابستہ 80 سے زائد صنعتیں بند ہوچکی ہی۔ فائلر اور نان فائلر کی تفریق سمیت سیکشن 236 سی، 7 ای اور دیگر ٹیکسز نے تعمیراتی شعبے کو شدید نقصان پہنچایا اور سرمایہ کاری کا ماحول تباہ کردیا ۔یہ بات انہوں نے یونائیٹڈ بزنس گروپ کے صدر زبیر ایف طفیل کی سربراہی میں آبادہاؤس کے دورے کے موقع پر کہی۔وفد میں ایف پی سی سی آئی کے سابق سینئر نائب صدر اور یو بی جی سدرن ریجن کے سیکریٹری جنرل حنیف گوہر ودیگر یوبی جی رہنما بھی شامل تھے ۔ایس ایم تنویر نے کہا کہ بینکوں میں پیسہ رکھنے سے کاروبار نہیں چلتے ، معیشت کو فعال بنانے کیلئے سرمایہ کاری اور صنعتوں کا چلنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ یوبی جی نے معاشی بہتری کیلئے اکنامک تھنک ٹینک قائم کیا جو آئندہ بجٹ کے حوالے سے تجاویز دے رہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں پراپرٹی پر اوسطاً 4 فیصد ٹیکس لیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں ایڈوانس ٹیکس کے نام پر قوم کے ساتھ فراڈ کیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یوکرین اور روس کی جنگ کے باعث اگر تیل مہنگا ہوا تو اس میں ہاؤسنگ سیکٹر کا کیا قصور تھا؟ ایس ایم تنویر نے امید ظاہر کی کہ بجٹ میں سیکشن 236 سی، 7 ای اور دیگر متنازع ٹیکسز ختم کردیے جائینگے جبکہ دبئی جانے والا سرمایہ بھی اب رک گیا ہے جو ملکی معیشت کیلئے مثبت اشارہ ہے۔