پیپلز پارٹی کے بغیر آئینی ترمیم اور بجٹ کی منظوری ممکن نہیں، عوام پر مہنگائی کے بم گر رہے : بلاول

پیپلز پارٹی کے بغیر آئینی ترمیم اور بجٹ کی منظوری ممکن نہیں، عوام پر مہنگائی کے بم گر رہے : بلاول

قومی معاملات،آئینی ترامیم پر پیپلزپارٹی ہمیشہ ساتھ کھڑی رہی ،حکومت نے کمٹمنٹ پوری نہ کی توفیصلوں پر نظرثانی کر سکتے ہیں ،بجٹ مذاکرات کیلئے چار رکنی ٹیم تشکیل دیدی آئندہ بجٹ میں عوام کیلئے مشکلات ہونگی ،حکومت نے نئی ترمیم پررابطہ نہیں کیا ، خارجہ پالیسی درست سمت میں جار ہی :میڈیا سے گفتگو ،شازیہ مری کو مداخلت پر ڈانٹ دیا

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی حمایت کے بغیر نہ آئینی ترمیم ممکن ہے اور نہ ہی بجٹ کی منظوری، ملک کو مالی اور معاشی بحران کا سامنا ہے ،پاکستان کے عوام پرمہنگائی کے بم گررہے ہیں ۔ قومی معاملات، آئینی ترامیم اور بڑے فیصلوں پر پیپلزپارٹی ہمیشہ حکومت کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے ،حکومت نے اگر کمٹمنٹ پوری نہ کی تو پیپلزپارٹی اپنے فیصلوں پر نظرثانی کر سکتی ہے ،آئندہ بجٹ میں عوام کیلئے مشکلات ہوں گی،مشکل حالات میں حکومت کے ریلیف اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہیں تاہم عوام کو مزید ریلیف دینا ناگزیر ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں پارلیمانی پارٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہاکہ وزیراعظم نے صوبوں سے مہنگائی کے خاتمے میں وفاق کی مدد کی درخواست کی،جس پر پٹرول سے متعلق موٹرسائیکل سواروں کوریلیف دیا جا رہا ہے ، پیپلزپارٹی نے بجٹ مذاکرات کیلئے چار رکنی ٹیم تشکیل دے دی ہے جس میں راجہ پرویز اشرف، سلیم مانڈوی والا، شیری رحمن اور نوید قمر شامل ہیں، یہ ٹیم حکومت سے بجٹ تجاویز پر بات چیت کرے گی تاکہ عوامی ریلیف کو یقینی بنایا جا سکے ۔

وزیر اعظم شہباز شریف سے میری اور صد ر مملکت آصف علی زرداری کی بات ہوتی رہتی ہے ، لیکن نئی آئینی ترمیم کے حوالے سے حکومت نے آج تک پیپلز پارٹی سے کوئی رابطہ نہیں کیا، 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم میں پیپلزپارٹی کا کردار سب کے سامنے ہے ، جس کے ذریعے صوبوں کے حقوق میں اضافہ کیا گیا اور بلوچستان کی سینیٹ میں نمائندگی بہتر ہوئی۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل خطے میں امن کیلئے کوششیں کر رہے ہیں اور پاکستان کی خارجہ پالیسی درست سمت میں جا رہی ہے ۔ بھارت، امریکا اور ایران جیسے معاملات میں پاکستان نے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور تمام بڑے قومی ایشوز پر قوم متحد ہو جاتی ہے ۔انہوں نے ایران اور خطے میں کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے ۔بلاول بھٹو نے کہا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مزید مضبوط ہو رہے ہیں، جبکہ دفاعی معاہدے سے سعودی عرب کے ساتھ تعاون کے نئے دور کا آغاز ہوا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ نیب اصلاحات پر پیپلزپارٹی نے اپنا مؤقف واضح کیا ہے اور اگر حکومتی وعدے پورے نہ ہوئے تو پارٹی اپنے فیصلوں پر نظرثانی کا حق محفوظ رکھتی ہے ۔ پریس بریفنگ کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے شازیہ مری کو ڈانٹ دیا۔ایک صحافی نے کہا کہ کچھ وزرا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو صوبوں کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اس پر بلاول بھٹو زرداری نے پوچھاکس وزیر نے یہ بات کی ہے ؟، جس پر پاس بیٹھی شازیہ مری نے کہا کہ کھیئل داس کوہستانی نے یہ بات کی ہے ۔اس پر چیئرمین پیپلز پارٹی نے شازیہ مری سے کہامیں نے آپ سے نہیں پوچھا۔شازیہ مری نے بلاول بھٹو زرداری سے معذرت کی اور کہا کہ وہ تو صرف بتا رہی تھی۔اس پربلاول نے شازیہ مری کو زور سے دوبار تھینک یو کہااور صحافی کو جواب دیتے ہوئے بلاول نے کہا کہ کوئی بھی مطالبہ کرنا کسی کا بھی حق ہے ۔بعدازاں بلاول بھٹو سے آزاد کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن روبینہ خالد نے ملاقاتیں کیں، جن میں ترقیاتی امور، حکومتی کارکردگی اور عوامی فلاحی منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔دریں اثنا بلاول بھٹو نے پیپلزپارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کی،اجلاس میں خاتون اول اوررکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے بھی شرکت کی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں