انشورنس سیکٹر کی ترقی کیلئے نیا قانون اسمبلی میں پیش
غیر ملکی انشورنس کمپنیوں کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت دینے کی تجویز
کراچی(رپورٹ:حمزہ گیلانی)حکومت نے انشورنس سیکٹر میں مسابقت، شفافیت اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے بڑے پیمانے پر اصلاحات متعارف کرانے کا فیصلہ کرلیا ہے جسکے تحت قومی اسمبلی میں انشورنس بل 2026 پیش کر دیا گیا ہے ۔ مجوزہ قانون سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی نگرانی میں تیار کیا گیا ہے اور اس کا مقصد 25 سال پرانے انشورنس آرڈیننس کی جگہ ایک جدید اور بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ فریم ورک متعارف کرانا ہے۔
بل کے اہم نکات کے مطابق انشورنس سیکٹر کو بیرونی سرمایہ کاری کیلئے مکمل طور پر کھولنے کی تجویز دی گئی ہے جس کے تحت غیر ملکی انشورنس اور ری انشورنس کمپنیوں کو برانچ اسٹرکچر کے ذریعے پاکستان میں کام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف جدید مہارت اور سرمایہ ملک میں آئے گا بلکہ مقامی مارکیٹ میں مسابقت بھی بڑھے گی جس سے صارفین کو بہتر خدمات میسر آئیں گی۔ واضح رہے کہ مجوزہ قانون میں انشورنس کلیمز کی ادائیگی کو تیز بنانے اور تنازعات کے فوری حل کیلئے سخت ٹائم لائنز مقرر کرنے کی تجویزبھی شامل ہے۔
ایس ای سی پی کے مطابق پالیسی ہولڈرز کے حقوق کے تحفظ کیلئے مس لیڈنگ سیلز کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں گے جبکہ لائسنسنگ کے نظام کو بھی آسان بنایا جا رہا ہے تاکہ کمپنیوں کو بار بار لائسنس کی تجدید کے عمل سے نجات مل سکے اور مستقل لائسنسنگ کا نظام رائج کیا جا سکے ۔ دوسری جانب بل میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیتے ہوئے انشورٹیک مصنوعات اور ڈیجیٹل ڈسٹری بیوشن ماڈلز کو قانونی حیثیت دینے کی تجویز دی گئی ہے ۔اسکے علاوہ سرکاری املاک کی انشورنس میں نجی شعبے کو شامل کرنے اور لازمی ری انشورنس کے شعبے میں نجی کمپنیوں کو برابر مواقع فراہم کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان اصلاحات سے پاکستان کے انشورنس سیکٹر میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلیں گے۔