پنجاب بجٹ میں ڈیجیٹل سبسڈی نظام متعارف کرانے کی تجویز
ترقیاتی منصوبوں کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل اپنایاجائے ،محمد یٰسین
لاہور(بزنس ڈیسک)انسٹیٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی سی ایم اے پاکستان)کے نائب صدر اور ریسرچ اینڈ پبلیکیشنز کمیٹی کے چیئرمین محمد یاسین ایف سی ایم اے نے پنجاب حکومت کے مالی سال 2026-27 کے پری بجٹ مشاورتی اجلاس میں ادارے کی نمائندگی کی۔ اجلاس کی صدارت وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے کی۔مشاورتی اجلاس میں مالیاتی ترجیحات، ترقیاتی منصوبہ بندی، عوامی شعبے میں اصلاحات، محصولات میں اضافہ، زرعی پیداوار، صنعتی ترقی اور عوامی وسائل کے مؤثر استعمال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر محمد یاسین نے شفاف، جوابدہ اور نتائج پر مبنی بجٹ سازی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کی رقوم صرف اخراجات تک محدود نہیں ہونی چاہئیں بلکہ انہیں قابلِ پیمائش نتائج، معاشی پیداوار، روزگار کے مواقع اور عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچانے سے منسلک ہونا چاہیے ۔
محمد یاسین نے تجویز دی کہ بیجوں اور زرعی ادویات پر دی جانے والی سبسڈیز کو ڈیجیٹلائز کیا جائے اور انہیں ایک مؤثر ڈیجیٹل نظام کے ذریعے فراہم کیا جائے ۔ اس طریقہ کار سے شفافیت کو فروغ ملے گا، بدعنوانی اور ضیاع میں کمی آئے گی، نگرانی بہتر ہوگی اور مستحق افراد کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔مزید برآں محمد یاسین نے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے منصوبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل متعارف کرانے کی سفارش کی تاکہ منصوبوں پر عملدرآمد کی صلاحیت بہتر بنائی جا سکے ، نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے اور ترقیاتی اسکیموں کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جا سکے ۔