ٹیکسٹائل صنعت کے فروغ کیلئے کپاس کی 14اعلیٰ اقسام تیار

ٹیکسٹائل صنعت کے فروغ کیلئے کپاس کی 14اعلیٰ اقسام تیار

فائبر معیار، گرمی برداشت، سنڈی کے خلاف مزاحمت جیسی خصوصیات شامل

اسلام آباد(اے پی پی)پاکستان نے 2021 سے 2025 کے دوران کپاس کی 14 نئی اقسام کی منظوری دی ہے جن میں بہتر فائبر معیار، زیادہ جننگ آٹ ٹرن(جی او ٹی)، گرمی اور خشک سالی برداشت کرنے کی صلاحیت اور گلابی سنڈی کے خلاف مزاحمت جیسی خصوصیات شامل ہیں جس سے ملک کے کپاس کے بیجوں کے ذخیرے کو تقویت ملے گی اور ٹیکسٹائل ویلیو چین کو فروغ حاصل ہوگا۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ اقسام دو بڑے تحقیقی اداروں، سینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ(سی سی آر آئی) ملتان اور سینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ(سی سی آر آئی) سکرنڈ، سندھ نے تیار کی ہیں۔ سی سی آر آئی ملتان نے 11 جبکہ سی سی آر آئی سکرنڈ نے 3 اقسام تیار کیں۔سی سی آر آئی ملتان کی تیار کردہ منظور شدہ اقسام میں بی ٹی سی آئی ایم-663، بی ٹی سی آئی ایم-678، بی ٹی سی آئی ایم-785، بی ٹی سائٹو-535، سائٹو-226، سی آئی ایم-775، سی آئی ایم-343، سائٹو-537، سائٹو-511، بی ٹی سی آئی ایم-775 اور بی ٹی سی آئی ایم-990 شامل ہیں، جبکہ سی سی آر آئی سکرنڈ کی تیار کردہ اقسام بی ٹی کریس-682، بی ٹی کریس-674 اور کریس-644 ہیں۔دستاویزات کے مطابق نئی اقسام میں جننگ آٹ ٹرن(جی او ٹی) 38.2 فیصد سے 42.3 فیصد، فائبر کی لمبائی 29.6 ملی میٹر تک اور فائبر کی مضبوطی 33.5 تک ریکارڈ کی گئی۔دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ کپاس کے معیار کا تعین صرف پیداوار سے نہیں بلکہ مائیکرونائر، فائبر کی مضبوطی اور جننگ آٹ ٹرن جیسے اشاریوں سے بھی کیا جاتا ہے ، جو اسپننگ ملز، جننگ فیکٹریوں اور ٹیکسٹائل صنعت کیلئے انتہائی اہم ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...