کاٹن و ٹیکسٹائل صنعت تاحال مالی بحران سے دوچار
ٹیکسٹائل ملوں کی بندش سے 50 فیصد پاور لومز بدستورعدم فعال
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) ناموافق موسم سے کپاس کی پیداوار ا کم ہونے کے خدشات، چین ودیگر ممالک سے ایکسپورٹ فیسیلی ٹیشن اسکیم کے تحت کروڑوں میٹر فیبرکس کی امپورٹ میں انڈرانوائسنگ اور درآمدی کپڑے سے مطلوبہ فنشڈ پراڈکٹس کی برآمدات نہ ہونے کے باعث مقامی کاٹن و ٹیکسٹائل کی صنعت تاحال مالیاتی بحران سے نہ نکل سکی اور سینکڑوں جننگ فیکٹریاں اور ٹیکسٹائل ملوں کی بندش کے بعد پچاس فیصد کے لگ بھگ پاور لوموں کی بھی عدم فعالیت برقرار ہے ۔چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے اعدادو شمار کے مطابق 15 اکتوبر تک جننگ فیکٹریوں میں 8 فیصد اضافے سے 40 لاکھ 81 ہزار گانٹھوں کے مساوی پھٹی پہنچی، پنجاب میں یہ کپاس کی پیداوار 16لاکھ 38ہزار گانٹھ اور سندھ میں 24لاکھ 43 ہزار گانٹھ ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ سال کی نسبت بالترتیب 8فیصد اور 7فیصد زائد رہی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments