ٹریفک پولیس کی چالان مہم ، شہریوں کو مشکلات

 ٹریفک پولیس کی چالان مہم ، شہریوں کو مشکلات

پہلے سلام پھر کلام کو بھول کر پہلے چالان پھر کلام کی پالیسی اپنالی ، لائسنس، رجسٹریشن بک اور دیگر دستاویزات ہونے کے باوجود مختلف اعتراضات لگا کر جر مانے

فیصل آباد (عبدالباسط سے )سٹی ٹریفک پولیس فیصل آباد کی جانب سے نظامِ ٹریفک کو منظم اور محفوظ بنانے کے بجائے مبینہ طور پر اپنی تمام تر توجہ چالان مہم کو کامیاب بنانے پر مرکوز کر دی گئی ہے ، جس کے باعث شہری شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔شہریوں کے مطابق موٹر سائیکل سواروں کے پاس ہیلمٹ موجود ہونے اور دیگر گاڑیوں میں سفر کرنے والوں کے پاس ڈرائیونگ لائسنس، رجسٹریشن بک اور دیگر قانونی دستاویزات مکمل ہونے کے باوجود انہیں مختلف نوعیت کے اعتراضات لگا کر بھاری مالیت کے چالان کیے جا رہے ہیں، جو معمول بنتا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سٹی ٹریفک پولیس اپنے پہلے سلام پھر کلام   کے سلوگن کو بھول کر مبینہ طور پر  پہلے چالان پھر کلام کی پالیسی پر عمل پیرا ہو چکی ہے ۔ ذرائع کے مطابق ٹریفک پولیس حکام کی جانب سے فیلڈ سٹاف کو روزانہ کی بنیاد پر بھاری مالیت کے چالان کرنے کے اہداف دیے جا رہے ہیں، جنہیں پورا کرنے کے لیے شہر کے مختلف مقامات پر ناکہ بندی پوائنٹس قائم کر کے ہر آنے جانے والے شہری کو روکا جا رہا ہے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس کی جانب سے ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے اور شاہراہوں کو رواں رکھنے پر توجہ نہیں دی جا رہی، جس کے باعث شہر بھر میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔

مختلف شاہراہوں پر طویل ٹریفک جام معمول بن چکے ہیں اور شہریوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے میں شدید دشواری کا سامنا ہے ۔شہریوں نے مزید کہا کہ حالیہ مہنگائی کے دور میں جہاں عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہو چکا ہے ، وہاں بلاجواز بھاری مالیت کے چالان کسی اضافی سزا سے کم نہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بلاوجہ چالانوں کا سلسلہ بند کیا جائے ، عوامی مشکلات کم کی جائیں اور ٹریفک پولیس کو چاہیے کہ وہ اپنے اصل فرائض کی انجام دہی کرتے ہوئے شہر میں ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں