ٹیوب ویلز کی پرانی مشینری،پانی کی فراہمی متاثر
بوسیدہ مشینری کم پانی دے کر زیادہ بجلی استعمال کر رہی ، انرجی آڈٹ کی سفارشات کے باوجود تبدیلی کا عمل سست روی کا شکار ،خزانے پر بوجھ بڑھتا جارہا شہر میں 601ٹیوب ویلز پانی سپلائی سسٹم کا حصہ ، 300یونٹس دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے چل رہے ، ہر سال 50یونٹس تبدیل ہورہے :ایم ڈی واسا
لاہور (شیخ زین العابدین)لاہور میں پانی کی سپلائی کا بڑا نظام پرانے ٹیوب ویلز کے سہارے چل رہا ہے ۔بوسیدہ مشینری کم پانی دے کر زیادہ بجلی استعمال کر رہی ہے ۔انرجی آڈٹ کی سفارشات کے باوجود تبدیلی کا عمل سست روی کا شکار رہا۔ بروقت اپ گریڈیشن نہ ہونے سے خزانے پر بوجھ بڑھتا جارہا ہے ،ذرائع کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں فراہمیٔ آب کا انحصار مکمل طور پر ٹیوب ویلز پر ہے ، مگر پرانی تنصیبات اب اپنی افادیت کھوتی جا رہی ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق شہر میں مجموعی طور پر 601 ٹیوب ویلز پانی سپلائی سسٹم کا حصہ ہیں۔ ان میں سے 105 نئے ٹیوب ویلز جائیکا کے تعاون سے نصب کیے گئے ، تاہم 300 سے زائد یونٹس دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے مسلسل چل رہے ہیں۔ پرانی مشینری کے باعث متعدد ٹیوب ویلز کی ڈسچارج کپیسٹی میں واضح کمی آ چکی ہے ۔ مقررہ مقدار میں پانی فراہم نہ کرنے کے باوجود یہ یونٹس زیادہ بجلی استعمال کر رہے ہیں، جس سے ادارے کے مالی اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ بجلی کے بلوں کی مد میں بڑھتے ہوئے واجبات اس عدم توازن کی نشاندہی کرتے ہیں۔ انرجی آڈٹ رپورٹ میں سفارش کی گئی تھی کہ ہر سال کم از کم 25 ٹیوب ویلز تبدیل کیے جائیں ۔ تاہم گزشتہ تین برسوں کے دوران ناکارہ ہونے والے متعدد ٹیوب ویلز کی بروقت تبدیلی نہ ہو سکی، جبکہ اوورہالنگ میں تاخیر نے بھی پانی کے اخراج کو متاثر کیا۔مزید برآں سکاڈا سسٹم کی عدم تنصیب کے باعث بجلی کے استعمال اور پانی کی پیداوار کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ ممکن نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مؤثر نگرانی نہ ہونے سے استعداد اور کارکردگی کا درست ڈیٹا دستیاب نہیں رہتا، جس سے منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے ۔ایم ڈی واسا غفران احمد کا مؤقف ہے کہ ادارہ سالانہ اپنے وسائل سے ٹیوب ویلز کی تبدیلی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے اور ہر سال تقریباً 50 یونٹس تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ تاہم زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ پیداوار میں کمی اور توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے سپلائی سسٹم پر دباؤ بڑھا دیا ہے ۔