سیالکوٹ: 25 سال سے سکول بند عماعت کھنڈر
نشئی دروازے اور کھڑکیاں اکھاڑ کر لے گئے ‘اندرونی حصے میں جھاڑیاں‘کوڑا کرکٹ کے ڈھیر‘علاقہ مکینوں کا سکول فعال اور اپ گریڈ کرنیکا مطالبہ
سیالکوٹ (نمائندہ دنیا )تحصیل پسرور کے نواحی گاؤں سرائے شاہ فتاح میں واقع گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول گزشتہ تقریباً 25 برس سے بند پڑا ہے جو محکمہ تعلیم اور حلقہ NA 72 پسرور اور PP 48 پسرور کے سیاستدانوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ،عرصہ دراز سے عدم توجہی کے باعث سکول کی عمارت کھنڈر کا منظر پیش کر رہی ہے ۔ نامعلوم نشئی سکول کے دروازے اور کھڑکیاں تک اکھاڑ کر لے گئے جبکہ اندرونی حصے میں جھاڑیاں، کوڑا کرکٹ اور گندگی کے ڈھیر لگ چکے ہیں۔اہل علاقہ کے مطابق گاؤں میں اس وقت سرکاری سطح پر بوائز کے لیے کوئی تعلیمی ادارہ موجود نہیں جس کے باعث بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے قریبی دیہات یا پسرور شہر کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔ دور دراز سفر، سفری اخراجات اور سکیورٹی خدشات کے باعث متعدد والدین بچوں کو سکول بھیجنے سے قاصر ہیں جس سے شرح خواندگی متاثر ہو رہی ہے ۔
مقامی شہریوں نے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی اور پسرور کے سیاستدانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر بند سکول کی بحالی کے اقدامات کیے جائیں، عمارت کی مرمت کروا کر اساتذہ تعینات کئے جائیں اور سکول کو پرائمری سطح سے اپ گریڈ کر کے کم از کم مڈل یا ہائی سکول کا درجہ دیا جائے تاکہ گاؤں سرائے شاہ فتاح کے بچے اپنے ہی علاقے میں معیاری تعلیم حاصل کر سکیں۔ اہل دیہہ نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ تعلیم جیسے بنیادی حق کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور گاؤں کے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کیے جائیں۔