کھرڑیانوالہ اراضی ریکارڈ سینٹر کی غفلت، شہریوں کا حساس ڈیٹا کوڑے میں پھینک دیا
شناختی کارڈ، بینک اکاؤنٹ اور جائیداد کے ڈیٹا کے غیر محفوظ ہونے سے فراڈ کا خدشہ،قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے :قانونی ماہرین،کاغذات غیر ضروری تھے :انچارج ریکارڈ سینٹر
فیصل آباد(ذوالقرنین طاہر سے )اراضی ریکارڈ سینٹرکھرڑیانوالہ نے شہریوں کی حساس نوعیت کی معلومات کو کوڑے کے ڈھیر میں پھینک دیا، شناختی کارڈ نمبرز، فون نمبر، بینک اکاؤنٹ تفصیلات اور جائیداد کی تقسیم سے متعلق دستاویزات کی غیر محفوظ ہینڈلنگ کے باعث شہری فراڈ، بلیک میلنگ اور مالی نقصان کے خطرے سے دوچار ہو گئے ۔تفصیلات کے مطابق اراضی ریکارڈ سینٹرکھرڑیانوالہ کی غفلت یا دانستہ لاپرواہی کے سبب شہریوں کی حساس معلومات خطرے میں پڑ گئیں ۔ سائلین سنٹر کو سرکاری اور بااعتماد ادارے کے طور پر دیکھتے ہوئے اپنی جائیدادوں سے متعلق تمام معلومات فراہم کرتے ہیں، جن میں کسی بھی فرد کے نام پر موجود اراضی کا رقبہ، مربع نمبر، کلہ نمبر، کھیوٹ نمبر، کھتونی نمبر، خسرہ، ریکارڈ سالم کھاتہ، ریکارڈ جمعبندی کے علاوہ ذاتی موبائل نمبر، بینک اکاؤنٹ اور شناختی کارڈ نمبر شامل ہوتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سینٹرکی جانب سے یہ تمام دستاویزات خالی پلاٹ میں کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دی گئیں، جہاں سینکڑوں کاغذات موجود تھے ۔ ماہرین کے مطابق یہ تمام معلومات کسی بھی شخص کے خلاف فراڈ، جعلسازی یا بلیک میلنگ کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں، اراضی کی معلومات سے جعلی انتقال اور فرد تیار ہو سکتی ہے ، جس سے اراضی کا غیر قانونی سودا یا بیانہ بھی کیا جا سکتا ہے ۔جبکہ قانونی ماہرین نے اس واقعہ کو پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی ایکٹ سمیت دیگر قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے کہا ہے کہ ان قوانین کے تحت کسی بھی سرکاری ادارے پر لازم ہے کہ شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کو محفوظ رکھا جائے یا ضائع کرنے کی صورت میں مقررہ طریقہ کار کے مطابق تلف کیا جائے ۔دوسری طرف اس معاملے پر اراضی ریکارڈ سینٹرکے انچارج اسد شاہ نے مؤقف اختیارکیا ہے کہ مذکورہ کاغذات غیر ضروری تھے ، اس لیے انہیں پھینک دیا۔