چلڈرن ہسپتال اجتماعی زیادتی کیس : انکوائری میں ملزم بری، سابقہ مدعیہ کیخلاف مقدمہ درج
جنوری 2025 میں نفیسہ نامی خاتون سکیورٹی گارڈ نے مقدمہ درج کروایا تھا ،عدالت میں جا کر اپنے الزامات کو غلط فہمی قرار دیدیا،پو لیس نے ملزمہ کو حراست میں لے لیا ،انکوائری میں جرم ثابت نہ ہو سکا
فیصل آباد (عاطف صدیق کاہلوں)چلڈرن ہسپتال میں ایک سال قبل خاتون سکیورٹی گارڈ کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی اور تشدد کے معاملے میں سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے انکوائری مکمل کرتے ہوئے مرکزی ملزم ڈاکٹر عماد ایوب سمیت پانچ نامزد ملزمان کو شواہد نہ ملنے پر الزامات سے بری قرار دے دیا ہے ۔دوسری جانب واقعے کے وقت ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے پولیس کو ارسال کیے گئے خط اور عدالت میں دئیے گئے مدعیہ کے بیانات کو ایک سال بعد مدنظر رکھتے ہوئے ویمن پولیس نے خاتون سکیورٹی گارڈ کے خلاف اینٹی ریپ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
جنوری 2025 میں نفیسہ نامی خاتون سکیورٹی گارڈ کی مدعیت میں تھانہ ویمن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا ڈینٹل سرجن ڈاکٹر عماد ایوب، ڈی ایم ایس ڈاکٹر طلحہ، ڈی ایم ایس ڈاکٹر علی اصغر اور سکیورٹی سپروائزرز علی اصغر ڈوگر اور دلشاد احمد کو زیادتی، ہراسمنٹ اور تشدد کے الزامات کے تحت نامزد کیا گیا تھا۔پولیس کے مطابق مدعیہ نے عدالت میں اپنے الزامات کو غلط فہمی قرار دے دیا۔سابقہ مدعیہ و موجودہ ملزمہ نفیسہ کو حراست میں لے لیا گیا ۔سکیورٹی سپروائزر اشرف، وارڈ بوائز قاسم اور عمران، ڈینٹل اٹینڈنٹس شیراز اور احمد اور بابر کو بھی بری قرار دے دیا گیا ہے ۔تاہم عوامی حلقوں کی جانب سے ایک سال بعد ویمن پولیس کی طرف سے اینٹی ریپ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیے جانے کو ابتدائی تفتیش پر سوالیہ نشان قرار دیا جا رہا ہے۔