گندم خریداری مراکز کو فعال رکھنے کا حکم
عملے کی موجودگی کو بھی یقینی بنایا جائے گا ، باردانہ کی شفاف اور منصفانہ تقسیم کے لیے پٹواریوں اور نمبرداروں کو متحرک کر نے کی ہدایت ،غفلت برداشت نہیں:ڈی سی
فیصل آباد (سٹی رپورٹر)حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق ضلعی انتظامیہ گندم کے کاشتکاروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہے ۔ اس ضمن میں کسانوں سے براہِ راست گندم خریدی جا رہی ہے تاکہ مڈل مین کا کردار ختم ہو اور کاشتکاروں کو ان کی محنت کا مکمل صلہ مل سکے ۔یہ بات ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) ندیم ناصر نے گندم خریداری مہم سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو، اسسٹنٹ کمشنرز، ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر، محکمہ زراعت اور کسان نمائندوں نے شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ گندم کی سرکاری قیمت 3500 روپے فی من کے مطابق خریداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی اور اس عمل میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ضلع بھر میں خریداری مراکز کو مکمل فعال رکھنے اور عملے کی موجودگی ہر وقت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ باردانہ کی شفاف اور منصفانہ تقسیم کے لیے پٹواریوں اور نمبرداروں کو متحرک کیا جائے جبکہ کسان کارڈ ہولڈرز کو ترجیحی بنیادوں پر باردانہ فراہم کیا جائے۔
ڈپٹی کمشنر نے اسسٹنٹ کمشنرز کو فیلڈ میں متحرک رہ کر کسانوں کے مسائل فوری حل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ وہ نمبردار کنونشنز کے ذریعے کاشتکاروں سے براہِ راست رابطہ قائم کریں۔ انہوں نے محکمہ زراعت کو بھی ہدایت کی کہ سوشل موبلائزرز اور فیلڈ عملہ کو فعال کر کے آگاہی مہم تیز کی جائے ۔ غلہ منڈیوں میں آڑھتیوں کے ساتھ اجلاس کر کے انہیں بھی سرکاری خریداری مہم میں شامل کیا جائے ۔مزید کہا گیا کہ موٹرویز اور اہم شاہراہوں پر چیک پوسٹس قائم کر کے گندم کی غیر قانونی نقل و حمل کو روکا جائے ، چھوٹے کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور یونین کونسل سطح پر اعلانات کے ذریعے کسانوں کو پالیسی سے آگاہ کیا جائے ۔ اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی بھرپور آگاہی مہم چلانے کی ہدایت کی گئی۔