حلقہ پی پی 36 کے دیہات پسماندگی کا شکار، مخصوص علاقوں میں ترقیاتی کام

حلقہ پی پی  36 کے دیہات پسماندگی کا شکار، مخصوص علاقوں میں ترقیاتی کام

دیہات کی رابطہ سڑکیں تباہ ،سیوریج نکاسی کا خاطر خواہ انتظام نہ ہو سکا ، فنڈز کی من پسند افراد کو غیر منصفانہ تقسیم،ترقیاتی کام نہ ہونے پرمتاثرہ مکینوں کاوزیر اعلیٰ سے نوٹس کامطالبہ

احمد نگر چٹھہ(نمائندہ دنیا)حلقہ پی پی 36 کے درجنوں دیہات پسماندگی کا شکار،من پسند افراد کے ذریعے فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم سے ترقیاتی کام مخصوص علاقوں میں ہونے لگے ۔ عدنان افضل چٹھہ ایم پی اے اور بلال فاروق تارڑ ایم این اے کے حلقہ میں درجنوں دیہات احمد نگر چٹھہ،کلاسکے منڈی،ورپال چٹھہ، لدھے والہ چیمہ،ککہ کولو،کھیوے والی ،جامکے چٹھہ، دلاور چیمہ،منصور والی،گنیا والہ،کوٹ جعفر حجام والہ،بیگھہ سمیت درجنوں دیہاتوں میں رابطہ سڑکیںٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ،سیوریج نکاسی کا انتظام نہ کیا جا سکا۔ علاقہ مکینوں کے مطابق ترقیاتی کام علی پور چٹھہ شہر ،گکھڑ اور وزیرآباد تک ہی محدود ہو چکے ہیں ، من پسند افراد ترقیاتی کام کروا رہے ہیں ۔عرصہ دراز سے کلاسکے اور احمد نگرچٹھہ بائی پاس مکمل نہیں کیا جا سکا ٹھیکیدار غائب ہے ۔ متعدد دیہات میں بااثر افراد کی طرف سے چھپڑوں پر قبضے سے نکاسی آب کا نظاد درہم برہم ہو چکا ہے۔ فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم اورترقیاتی کام نہ ہونے پرعلاقہ مکینوں نے وزیراعلی ٰسے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں