واسا کی غفلت : زیر زمین پانی کی سطح مزید کم ہونے لگی
سروس سٹیشنز پر 11سال قبل واٹر ریسائیکلنگ پلانٹس لگانے پر پابندی لگائی گئی مگر عملدرآمد نہ ہوسکا،پانی صاف کرکے قابل ِاستعمال بنانے کامنصوبہ کاغذی کارروائیوں تک محدود
فیصل آباد(ذوالقرنین طاہر سے )زیر زمین تیزی سے کم ہوتی پانی کی سطح کو بچانے کیلئے کوئی اقدامات نہ ہوسکے ۔ حکومتی عدم توجہ اور واساکی غفلت کے باعث زیر زمین پانی کی کمی مزید بڑھنے لگی۔11سال قبل سروس سٹیشنز پر واٹر ریسائیکلنگ پلانٹس نصب کرنے کی پابندی لگائی گئی تھی مگر تاحال عملدرآمد شروع نہ ہوسکا۔ فیصل آباد کے ایک بھی سروس سٹیشن نے ریسائیکلنگ پلانٹ نہ لگایا تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے 11 سال قبل زمینی پانی کی کمی سے بچنے کیلئے نشیبی علاقوں میں زیر زمین بور کرکے چھوڑنے اور سروس سٹیشنز پر واٹر ریسائیکلنگ پلانٹس نصب کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تاکہ پانی کو صاف کرکے دوبارہ استعمال کیا جاسکے واسا کی جانب سے سروس سٹیشنز کو نوٹسز بھی بھجوائے گئے لیکن عملدرآمد نہ کروایا جاسکا پانی کی کمی سے بچنے کیلئے عملی اقدامات کرنے کی بجائے کاغذی کارروائیوں پر ہی اکتفا کرلیا گیا پانی کی کمی سنگین مسئلہ بنتی جارہی ہے مگر حکومت یا متعلقہ ادارے توجہ دینے کو ہی تیار نہیں ہیں دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی آبادی اور گلوبل وارمنگ کے باعث زیر زمین پانی کی سطح کم ہورہی ہے زیر زمین پانی کی سطح میں کمی ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی پانی کے بے دریغ استعمال اور پانی کے بچائو کیلئے اقدامات نہ ہونے سے زیر زمین پانی مزید گہرا ہوتا جارہا ہے جسکی مختلف وجوہات ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں گلوبل وارمنگ کے باعث سردی کا دورانیہ کم اور گرمی کا دورانیہ زیادہ ہورہا ہے گرمی کے مہینوں میں بارشیں بھی کم ہورہی ہیں جس کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح مزید گہری ہورہی ہے ملک بھر کی طرح فیصل آباد میں بھی گلیشئیرز سے آنے والے نہری پانی کی بجائے زمین میں بور کرکے بذریعہ ٹیوب ویل پانی نکال زرعی رقبہ جات کو سیراب کرنے ،کچی زمینوں کو تیزی سے ختم کرکے سیمنٹ تارکول اور کنکریٹ سے قدرتی پانی کے زمین میں جانے کا راستہ بند کرنے اور پانی کو ری سائیکل نہ کرنے کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح مزید گہرائی میں جارہی ہے ۔ فیصل آباد میں زمینی پانی نکالنے کیلئے سینکڑوں فٹ گہرا بور بھی کرنا پڑتا ہے بور کرنے والے کاریگروں کا کہنا ہے کہ مختلف علاقوں میں بور کی گہرائی مختلف ہوتی ہے لیکن دس سال قبل جہاں 40 سے 50 فٹ گہرا بور کرنا پڑتا تھا اب وہیں 80 سے 90 فٹ گہرا پر بور کریں تو پانی نکلتا ہے بعض علاقوں میں الیکٹرک مشین کے ساتھ 400فٹ تک گہرا بور بھی کرنا پڑتا ہے مستقبل قریب میں زیر زمین پانی مزید گہرا ہونے کے امکانات ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت یا سرکاری ادارے دور رس نتائج کے بارے میں نہ تو کوئی پالیسی بناتے ہیں اور نہ ہی اس سے متعلق کوئی اقدامات کیے جاتے ہیں لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے 24 مارچ 2021 کو صوبہ بھر کے بلدیاتی سربراہان سے واٹر کنزرویشن ایکٹ کے تحت پانی کی بچت سے متعلق منصوبہ بندی کی تفصیلی رپورٹ مانگی تھی مگر یہ حکم نامہ بھی کاغذی کاروائی ثابت ہوا ماہرین کے مطابق اگر زمینی پانی کو بچانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر عملی اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی چند دہائیوں میں زمین سے پینے کے قابل پانی حاصل کرنا ناممکن ہوجائے گا موجودہ حکومت نے بھی اس معاملے پر کاغذی کارروائی تو کی مگر عملدرآمد یا عملی اقدامات نہ ہوسکے ۔