جھنگ روڈ پر چائلڈ لیبر ، کمسن بچوں سے مشقت جاری

جھنگ روڈ پر چائلڈ لیبر ، کمسن بچوں سے مشقت جاری

شہریوں اور سماجی حلقوں کی محکمہ لیبر کی مبینہ خاموشی پر شدید تشویش

پینسرہ (نمائندہ دنیا )جھنگ روڈ کے برلبِ سیم نہر کے قریب قائم فیکٹریوں، کارخانوں، وائنڈر مشینوں اور دیگر صنعتی یونٹس میں چائلڈ لیبر قوانین کی مبینہ خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ مقامی شہریوں اور سماجی حلقوں نے محکمۂ لیبر کی مبینہ خاموشی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے ۔علاقہ مکینوں کے مطابق مختلف فیکٹریوں اور ورکشاپوں میں کمسن بچوں سے مشقت لی جا رہی ہے ۔ یہ بچے خطرناک مشینری کے قریب کام کرنے پر مجبور ہیں اور بعض مقامات پر انہیں طویل اوقات تک مزدوری کرائی جاتی ہے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کم عمری میں بھاری مشقت بچوں کی جسمانی و ذہنی نشوونما، تعلیم اور مستقبل پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے ۔

مقامی افراد نے بتایا کہ جھنگ روڈ کے اطراف قائم صنعتی علاقوں میں روزانہ بڑی تعداد میں کم عمر بچے مختلف نوعیت کے کام کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ وائنڈر مشینوں، ورکشاپوں اور چھوٹے صنعتی یونٹس میں بچوں کی موجودگی مبینہ طور پر معمول بن چکی ہے ، تاہم متعلقہ اداروں کی جانب سے مؤثر کارروائی نظر نہیں آتی۔شہریوں اور سماجی کارکنوں کے مطابق حکومتِ پنجاب کی جانب سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے متعدد قوانین اور مہمات موجود ہیں، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر متعلقہ محکمے باقاعدہ معائنہ کریں تو خلاف ورزیوں کی بڑی تعداد سامنے آ سکتی ہے ۔سماجی حلقوں نے محکمۂ لیبر سے مطالبہ کیا ہے کہ جھنگ روڈ اور برلبِ سیم نہر کے صنعتی علاقوں کا فوری سروے کیا جائے۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، کمشنر فیصل آباد اور ڈپٹی کمشنر فیصل آباد سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں