شکایات پر فرضی کاروائی، 10 اداروں کے سربراہوں کو شو کاز
متعلقہ افسرز تمام شکایات کی جامع جانچ اور تصدیق کریں اور رپورٹ تین روز کے اندر پیش کریں :ڈپٹی کمشنر کا فرضی حل شدہ شکایات کی ازسرنو جانچ کا حکم
فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے ) اداروں کی جانب سے شکایات کا حقیقی ازالہ کرنے کے بجائے فرضی کارروائیاں ظاہر کرنے کا انکشاف ہوا ہے ۔ سپیشل برانچ کی نشاندہی پر شکایات کو حل کیے بغیر ہی حل شدہ ظاہر کرنے اور ان کا درجہ زیر التوا سے کلیئرڈ کرنے کا معاملہ سامنے آنے پر ڈپٹی کمشنر فیصل آباد نے پنجاب کے پہلے آئی ایس او سرٹیفائیڈ میونسپل کارپوریشن کے چیف آفیسر عثمان غنی سمیت 10 اداروں کے سربراہان اور فوکل پرسنز کو شوکاز نوٹس جاری کر د یئے ۔تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر کی جانب سے چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن فیصل آباد عثمان غنی سمیت مختلف اداروں کے فوکل پرسنز کو جاری کیے گئے شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ سپیشل برانچ فیصل آباد کی نشاندہی کے بعد معلوم ہوا کہ مختلف محکموں کو تفویض کی گئی بعض شکایات کو حل کیے بغیر ہی حل شدہ ظاہر کر دیا جاتا ہے اور ان کا درجہ زیر التوا سے کلیئرڈ میں تبدیل کر دیا جاتا ہے ۔
معاملے کو انتہائی سنجیدہ قرار دیتے ہوئے چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن فیصل آباد عثمان غنی،منیجنگ ڈائریکٹر فیصل آباد ستھرا پنجاب، چیف آفیسر ضلع کونسل، چیف ایگزیکٹو آفیسر تعلیم، منیجنگ ڈائریکٹر واسا، ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ اور میونسپل کمیٹیوں سمندری، جڑانوالہ، کھڑلیانوالہ اور ڈجکوٹ کے چیف آفیسرز کے فوکل پرسنز کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔سپیشل برانچ فیصل آباد کی جانب سے سپیشل برانچ پورٹل کے ذریعے موصول ہونے والی بعض شکایات کے بارے میں نشاندہی کی گئی کہ انہیں متعلقہ محکموں کی جانب سے مناسب تصدیق اور حقیقی ازالے کے بغیر ہی حل شدہ قرار دے دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسروں کو ہدایت کی ہے کہ ان کے محکموں کے فوکل پرسنز کی جانب سے مکمل قرار دی جانے والی تمام شکایات کی جامع جانچ اور تصدیق کی جائے ۔ ہر شکایت کی اصل صورتحال، متعلقہ ریکارڈ اور معاون ثبوت کے ساتھ تفصیلی رپورٹ تین روز کے اندر ڈپٹی کمشنر آفس میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments