جرائم کی لہر پھر تیز، شہری جان و مال کے تحفظ کیلئے پریشان

جرائم کی لہر پھر تیز، شہری جان و مال کے تحفظ کیلئے پریشان

صنعت کار کے قتل سمیت سنگین وارداتیں، پولیس اور سیف سٹی کی کارکردگی پر سوالات،مؤثر اقدامات کیے جائیں :شہری، جرائم پر قابو پانے کیلئے متحرک:سی پی او

فیصل آباد (عبدالباسط سے ) پاکستان کے تیسرے بڑے صنعتی شہر فیصل آباد میں ڈکیتی، چوری، راہزنی اور قتل کی وارداتوں میں مبینہ اضافے نے شہریوں کو ایک بار پھر تشویش میں مبتلا کر دیا ہے ۔ ضلعی پولیس، کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ، سی آئی اے ، پولیس کی دیگر شاخوں اور خفیہ اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ وارداتوں کے دوران شہری زیورات، نقدی، موبائل فونز، موٹر سائیکلوں، گاڑیوں اور دیگر قیمتی سامان سے محروم ہو رہے ہیں، جبکہ مزاحمت یا تعاقب کے دوران شہریوں کے جاں بحق اور زخمی ہونے کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔چند روز قبل معروف صنعت کار ریحان اشرف کے قتل کے واقعے میں ملوث ملزمان کا تاحال سراغ نہ لگنے پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

سیف سٹی اتھارٹی کی جانب سے شہر میں بڑی تعداد میں کیمرے نصب کیے جانے اور ان کی مسلسل نگرانی کے دعوؤں کے باوجود ملزموں تک رسائی میں تاخیر نے شہریوں کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔ذرائع کے مطابق گزشتہ عرصے میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کے نتیجے میں ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم کی وارداتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جس سے شہریوں نے سکھ کا سانس لیا تھا۔ تاہم حالیہ دنوں میں ڈکیتی، چوری، راہزنی اور لوٹ مار کی وارداتوں میں دوبارہ اضافے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ روزانہ پیش آنے والی وارداتوں میں شہریوں کو کروڑوں روپے مالیت کے زیورات، نقدی، موبائل فونز، موٹر سائیکلوں، گاڑیوں اور دیگر قیمتی سامان سے محروم ہونا پڑ رہا ہے ۔17 اکتوبر کی رات فیصل آباد کے معروف صنعت کار ریحان اشرف اپنے بھائیوں اور دوستوں کے ہمراہ چناب کلب میں کھانا کھانے پہنچے ۔ اس دوران نامعلوم ملزمان مبینہ طور پر ان کی گاڑی چوری کرکے جڑانوالہ روڈ کی جانب فرار ہو گئے ۔ ریحان اشرف اور ان کے ساتھیوں نے ٹریکر کی مدد سے گاڑی کا تعاقب کیا تو ملزمان نے مبینہ طور پر فائرنگ کر دی، جس کی زد میں آ کر ریحان اشرف موقع پر جاں بحق ہو گئے ۔

ذرائع کے مطابق فیصل آباد میں سیف سٹی اتھارٹی کے زیر انتظام ہزاروں کیمرے نصب ہیں اور ان کی مسلسل نگرانی کا دعویٰ کیا جاتا ہے ۔ حکام کی جانب سے چہروں کی مدد سے ملزمان کی شناخت اور ان کا سراغ لگانے کے لیے جدید سافٹ ویئر اور نظام کی موجودگی کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، تاہم ان کی عملی افادیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ صنعت کار کے قتل کے واقعے کو کئی روز گزرنے کے باوجود پولیس، کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ، سیف سٹی اتھارٹی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزمان کا سراغ لگانے میں کامیاب نہیں ہو سکے ۔جرائم کی وارداتوں میں مبینہ اضافے کے باعث شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔دوسری جانب سٹی پولیس آفیسر تنویر حسین کے مطابق فیصل آباد پولیس جرائم پر قابو پانے اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے مسلسل متحرک ہیں ۔

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...