فلم گھوسٹ اسکول سے مناظر حذف کرنے کا سینسر بورڈ فیصلہ کالعدم

فلم گھوسٹ اسکول سے مناظر حذف کرنے کا سینسر بورڈ فیصلہ کالعدم

اظہار رائے کی آزادی پر پابندی کے لیے ٹھوس وجوہات ضروری ہیں،عدالت

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے فلم گھوسٹ اسکول سے مختلف الفاظ اور مناظر حذف کرنے کا سینسر بورڈ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، عدالت نے فلم سازوں کی جانب سے ایک قابل اعتراض جملہ حذف کرنے پر رضامندی کے بعد باقی تمام اعتراضات ختم کردیے۔ جسٹس یوسف علی سعید اور جسٹس عدنان اقبال چوہدری پر مشتمل بینچ نے قرار دیا کہ سندھ بورڈ آف فلم سینسرز نے فلم سے الفاظ اور مناظر حذف کرنے کی وجوہات بیان نہیں کیں، محض قانونی شق کا حوالہ دینا کافی نہیں، اظہار رائے کی آزادی پر پابندی کے لیے ٹھوس وجوہات ضروری ہیں۔

سینسر بورڈ نے فلم سے مخصوص الفاظ سمیت کتابیں اور اسکول جلانے کے مناظر حذف کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ فلم کو وفاقی اور پنجاب کے سینسر بورڈز پہلے ہی بغیر کسی کٹ کے نمائش کی اجازت دے چکے ہیں، تاہم سندھ کا بورڈ اپنے اعتراضات کی وجوہات بتانے کا پابند تھا۔ عدالت نے حکم دیا کہ فلم سازوں کی جانب سے متنازع جملہ حذف کرنے کے بعد دس روز میں فلم کی دوبارہ منظوری کا فیصلہ کیا جائے ، بورڈ مزید کٹ لگائے بغیر فلم کو نمائش کا سرٹیفکیٹ جاری کرے یا کسی اعتراض کی صورت میں فلم سازوں کو ذاتی سماعت کا موقع دے کر وجوہات کے ساتھ فیصلہ کرے اور فلم کے لیے کم سے کم پابندی والی مناسب کیٹیگری مقرر کرے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...