نہروں میں زہریلا پانی شامل ہونے کا سلسلہ نہ رک سکا
سیوریج نالوں اور تالابوں سے جمع کیا گیا گندا پانی ستھرا پنجاب کی ٹینکیوں میں بھر کر نہروں میں ڈالا جا رہا ،فصلیں متاثرہونے کاخدشہ ،مؤثر اقدامات کیے جائیں:شہری
فیصل آباد (خصوصی رپورٹر) محکمہ انہار اور محکمہ ماحولیات کی مبینہ غفلت کے باعث نہروں میں سیوریج اور فیکٹریوں کا کیمیکل زدہ پانی شامل ہونے کا سلسلہ نہ رک سکا۔ سیوریج نالوں اور تالابوں سے جمع کیا گیا گندا پانی ستھرا پنجاب کی بڑی ٹینکیوں میں بھر کر نہروں میں ڈالا جا رہا ہے ، جس سے آبی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔تفصیلات کے مطابق فیصل آباد کے مختلف علاقوں میں صنعتی یونٹس قائم ہیں، تاہم ان میں ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس موجود نہ ہونے کے باعث کیمیکل زدہ پانی بغیر صفائی کے نہروں میں شامل ہو رہا ہے ۔ اس کے علاوہ مختلف نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز اور آبادیوں کا سیوریج بھی نہروں میں چھوڑا جا رہا ہے ، جس سے آبی حیات بری طرح متاثر ہو رہی ہے ۔ماہرین کے مطابق صنعتی یونٹس سے خارج ہونے والے کیمیکل زدہ پانی کے باعث آبی حیات کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہو چکی ہے ۔ آلودہ پانی میں موجود کیمیکل مچھلیوں کے لیے مہلک ثابت ہوتے ہیں اور ان کی افزائش نسل بھی متاثر ہوتی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آلودہ پانی سے متاثرہ مچھلی کھانے کے انسانی صحت پر بھی مضر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
نہروں میں شامل ہونے والا سیوریج اور کیمیکل زدہ پانی زرعی زمینوں تک بھی پہنچتا ہے ، جس سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔ ایسے پانی سے سیراب ہونے والی زرعی اجناس میں مضر مادے شامل ہو سکتے ہیں، جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ دیہی علاقوں میں مویشی بھی نہروں سے پانی پیتے ہیں، اس لیے آلودہ پانی ان کی صحت کو بھی متاثر کر سکتا ہے ۔شہریوں نے شکایت کی ہے کہ متعلقہ ادارے اس مسئلے کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ادارے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر بری الذمہ ہونے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ آبی آلودگی میں اضافے سے ماحول، انسانی صحت، فصلوں اور مویشیوں کو خطرات لاحق ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نہروں میں سیوریج اور صنعتی فضلے کے اخراج کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments