کنڈن سیان خواتین کالج سے محروم، 1994 میں اراضی محکمہ کو منتقلی کے باوجود معاملہ جوں کا توں
علاقہ کی سینکڑوں طالبات ہرسال حصول تعلیم کیلئے دوسرے شہروں کارخ کرنے پر مجبور، مہنگی ٹرانسپورٹ کے باوجود اکثر والدین تعلیمی اخراجات پورے کرنے سے قاصر ،میٹرک کے بعد تعلیم خواب
ہیڈبمبانوالہ(نامہ نگار )درجنوں دیہات کا مرکز کنڈن سیان گرلز کالج سے محروم، 1994 میں اراضی محکمہ تعلیم کے نام منتقل ہونے کے باوجود معاملہ جوں کا توں ہے ۔ درجنوں دیہات کا مرکز اور 1960 سے یو نین کو نسل کا درجہ رکھنے والا قصبہ جدید تعلیمی دور میں بھی گرلز کالج سے محروم ہے جس کی وجہ سے علاقہ بھر سے سینکڑوں طالبات ہر سال حصول تعلیم کیلئے دور در از مختلف شہروں کا رخ کر رہی ہیں جس کیلئے والدین دیگر تعلیمی اخراجات کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ کے مہنگے کرایوں کا بوجھ بھی اٹھانے پر مجبور ہیں جبکہ متوسط طبقہ کے لوگ مہنگائی کے دور میں معاشی حالات سے تنگ ہونے اور تعلیمی اخراجات پورے نہ کرنے کی وجہ سے بچیوں کو میٹرک سے آگے تعلیم نہیں دلوا سکتے‘1994میں ڈاکٹر ظفر اعوان اور دیگر معززین کی کاوش سے اپنی مدد آپ کے تحت 4 کنال 2 مرلہ اراضی خرید کر گورنمنٹ گرلز مڈل سکول کنڈن سیان کی اپ گریڈیشن ہائر سیکنڈری سکول منظور کر انے کیلئے محکمانہ ڈیمانڈ کے مطابق اراضی محکمہ تعلیم کے نام منتقل کرا دی لیکن 3دہائیاں گزر جانے کے با وجود کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔