علی پورچٹھہ:سیم نالہ گندگی سے بھر گیا ‘انتظامیہ تماشائی
مون سون سے قبل صفائی نہ ہونے پر اربن فلڈنگ کا خطرہ، شہریوں کا اظہا رتشویش
علی پورچٹھہ (تحصیل رپورٹر)علی پورچٹھہ کا سیم نالہ گندگی سے بھر گیا،مون سون سے قبل صفائی نہ ہونے پر اربن فلڈنگ کا خطرہ ،انتظامیہ تماشائی بن گئی ۔ گورنمنٹ گرلز کالج کے سامنے سے گزرنے والا سیم نالہ 3سال سے زیر تعمیر ہے ، منصوبے کے بعض حصوں کو تو پختہ کر دیا گیا تاہم رسولنگر چونگی سے الزہرہ ہسپتال تک کا حصہ ادھورا چھوڑ دیا گیا ہے یہی مقام شہر کے وسط میں واقع ہونے کے باعث ہر وقت کوڑا کرکٹ، سیوریج کے پانی اور تعفن کا مرکز بنا رہتا ہے جہاں سے اٹھنے والی بدبو شہریوں، مریضوں، طالبات اور راہگیروں کیلئے اذیت کا باعث بن چکی ہے ۔ اسی طرح ریلوے لائن سے شروع ہونے والا سیم نالہ گنجان آبادیوں سے گزرتا ہوا حافظ آباد روڈ تک پہنچتا ہے ۔ شہریوں کے مطابق دونوں اطراف غیر منصوبہ بند تعمیرات کے باعث کئی مقامات پر نالہ سکڑ چکا ہے جبکہ برسوں سے باقاعدہ صفائی نہ ہونے کی وجہ سے اس میں مٹی، جھاڑیاں اور کوڑا کرکٹ جمع ہو چکا ہے۔ ، بعض مقامات پر شہری بھی گھریلو کچرا نالے میں پھینک دیتے ہیں جس سے پانی کا بہاؤ مزید متاثر ہو رہا ہے ۔ اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ مون سون کے دوران جب بارش ہوتی ہے تو سیم نالہ اضافی پانی برداشت نہیں کر پاتا، نتیجتاً شہر کے بازار، گلیاں اور رہائشی علاقے کئی کئی فٹ پانی میں ڈوب جاتے ہیں۔متعدد محلوں میں گندے سیوریج کا پانی گھروں میں داخل ہو جاتا ہے جس سے شہریوں کو مالی نقصان کے ساتھ ساتھ مختلف وبائی امراض کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ شہریوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ اگر کبھی صفائی کا عمل شروع بھی کیا جاتا ہے تو نالے سے نکالا گیا گند اور کوڑا کناروں پر ہی چھوڑ دیا جاتا ہے جو چند دن بعد دوبارہ نالے میں گر کر صفائی کے تمام دعو ئو ں کو بے معنی بنا دیتا ہے ۔ شہریوں نے ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ و وزیرآباد، اسسٹنٹ کمشنر، میونسپل کمیٹی، محکمہ انہار اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ مون سون کی بارشوں سے قبل ہنگامی بنیادوں پر سیم نالے کی مکمل صفائی، تجاوزات کا خاتمہ، ادھورے تعمیراتی کام کی تکمیل اور نکاسی آب کے نظام کو فعال بنایا جائے ۔