پاکستانی جامعات شدید مالی ،انتظامی بحران کا شکار
تدریسی معیار، تحقیقی سرگرمیاں، اعلیٰ تعلیم کا مجموعی نظام بری طرح متاثر ہو رہا، فاپواسا
اسلام آباد (خصوصی رپورٹر) فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشنز (فاپواسا) نے صدرِ پاکستان، وزیرِ اعظم، چیئرمین سینیٹ، سپیکر قومی اسمبلی، وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور وفاقی وزیر خزانہ کو خط کے ذریعے پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی شعبے کو درپیش سنگین مسائل کے فوری حل کا مطالبہ کیا ہے۔ فاپواسا کے وفاقی صدر پروفیسر ڈاکٹر عامر علی نے اپنے خط میں حکومت کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرائی ہے کہ پاکستان کی جامعات اس وقت شدید مالی اور انتظامی بحران کا شکار ہیں، جس کے نتیجے میں تدریسی معیار، تحقیقی سرگرمیاں، اساتذہ کا پیشہ ورانہ استحکام اور اعلیٰ تعلیم کا مجموعی نظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان مسائل کے حل کو قومی ترجیح قرار دیا جائے۔ فاپواسا نے سب سے پہلے اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے بجٹ میں نمایاں اضافے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ جامعات، تحقیقی منصوبوں، وظائف، تجربہ گاہوں اور تعلیمی ڈھانچے کو درپیش مالی مشکلات کا مؤثر حل نکالا جاسکے۔ 2018-2017 سے اعلیٰ تعلیم کا بجٹ تقریباً 65ارب روپے پر جمود کا شکار ہے ، جبکہ اس دوران سرکاری جامعات کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے ۔ اس صورتحال میں جاری اور ترقیاتی مدات کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے ۔