سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی لاپروائی : اتائیوں کے خلاف کارروائیاں رک گئیں
کراچی (رپورٹ: کفیل الدین فیضان) سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے شہر میں قائم غیر قانونی کلینکس میں بیٹھے اتائیوں کے خلاف کارروائی گزشتہ دو ماہ سے رک گئی ہے۔۔
جس کے سبب مریض شہر کے مضافاتی علاقوں میں قائم غیر قانونی کلینکس سے علاج کرانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے گزشتہ دو ماہ سے اتائیوں کے خلاف کارروائی کا عمل رک گیا ہے، جس کی وجہ کمیشن کی ناقص کارکردگی کے ساتھ ساتھ سست روی بتائی جا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے سالانہ کارکردگی رپورٹ تو پیش کردی گئی ہے، لیکن گزشتہ تین ماہ میں کمیشن کی جانب سے کیا اقدامات کئے گئے،کتنے اتائیوں کے کلینکس بند کئے گئے، کتنے اسپتالوں کو لائسنس کا اجرا کیا گیا اور کسی اسپتال یا پھر کلینک کی جانب سے کوئی غلطی کی گئی ہو تو اسے انتباہی نوٹس یا پھر محکمہ جاتی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے اس کی تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی عدم دلچسپی و لاپروائی کے باعث شہر کے مختلف علاقوں کے ساتھ مضافاتی علاقوں میں صحت کی صورتحال بہتر انداز میں نہیں چلائی جارہی ہے۔ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے ہر پندرہ دن یا پھر ایک ماہ کے دوران مضافاتی علاقوں سمیت شہری علاقوں میں بھی اتائیوں کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ ڈاکٹروں کے سرٹیفکیٹ کو چیک کئے جانے کا عمل کیا جاتا تھا، تاہم اب اس قسم کے اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں۔ واضح رہے کہ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کے باعث اس اہم کام کی ذمہ داری ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس کورنگی کے سینیٹری انسپکٹر اور ڈرائیور نے اٹھالی ہے اور قوانین کے خلاف ڈاکٹروں کے کلینکس پر چھاپے مارنا اور انہیں نوٹسز جاری کرنا شروع کر دیئے ہیں، جس سے کورنگی، لانڈھی، شیرپاؤ، قائدآباد اور ملیر میں پریکٹس کرنے والے مستند ڈاکٹروں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔