آئی جی سندھ کی زیر صدارت اجلاس : انسداد ہوائی فائرنگ مہم چلانے کا فیصلہ

آئی  جی  سندھ  کی  زیر  صدارت  اجلاس  :  انسداد  ہوائی  فائرنگ  مہم  چلانے  کا  فیصلہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر)آئی جی سندھ رفعت مختار راجہ کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے آن لائن/ویڈیو لنک اجلاس میں 5 ایجنڈوں کو زیر بحث لاتے ہوئے صوبائی سطح پر امن وامان کی صورتحال اور مختلف نوعیت کے جرائم کے خلاف پولیس ایکشن و اقدامات کا ذریعہ بریفنگ جائزہ لیا گیا ۔۔

اور مزید ضروری ہدایات دی گئیں۔اجلاس ایجنڈے میں شامل (SVAS) اسمارٹ ویری فکیشن الرٹ سسٹم، تھانوں کا اچانک معائنہ،ہوائی فائرنگ کے واقعات اور پولیس ایکشن، پولیس پکٹنگ اور حالات پر مجموعی کنٹرول اور منظم جرائم میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمانہ ایکشن جیسے اقدامات کی تفصیلات کا احاطہ کیا گیا۔آئی جی سندھ نے کہا کہ اسمگلنگ اور غیر قانونی اسلحہ کی روک تھام کے ضمن میں سندھ میں دیگر صوبوں سے داخل ہونیوالے روٹس کے داخلی اور خارجی پوائنٹس پر اسمارٹ ویری فکیشن الرٹ سسٹم (SVAS) کو قابل عمل بنانے کے حوالے سے خاطر خواہ اقدامات کیے جائیں جسکا مقصد اسنیپ چیکنگ کو ہر لحاظ سے مربوط اور موثر بنانا ہے ۔انہوں نے ضلعی ایس ایس پیز کو احکامات دیئے کہ تھانہ جات کے اچانک معائنے اور اس حوالے سے باقاعدہ رپورٹ کی ترتیب کے لیے متعلقہ ایس ڈی پی اوز،ڈی ایس پیز کو پابند بنایا جائے اور ان سے فالواپ رپورٹس بھی لی جائیں۔آئی جی سندھ نے کہا کہ شادی بیاہ و دیگر تقاریب سعید کے مواقع پر ہوائی فائرنگ جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے اضلاع و تھانہ جات کی سطح پر قرار واقعی اقدامات کیے جائیں اور اس ضمن میں معززین علاقہ اور معروف شخصیات کو اعتماد میں لیکر انسداد ہوائی فائرنگ کے حوالے سے مہم کا آغاز کیا جائے ۔مساجدمیں اعلانات کے ساتھ ساتھ تشہیربھی کی جائے ۔انہوں نے اجلاس میں شریک اعلیٰ پولیس افسران سے کہا کہ جرائم کی روک تھام اور جرائم میں ملوث عناصر،گروہوں اور انکے کارندوں پر قانون کی گرفت یقینی بنانے کے لیے پولیس پکٹنگ,ریکی اور کڑی نگرانی جیسے اقدامات کو مزید منظم اور مربوط بنایا جائے ۔انہوں نے سختی سے ہدایات دیں کہ منظم جرائم میں ملوث پولیس اہلکاروں کو کسی بھی طور معاف نہ کیا جائے بلکہ ٹھوس شواہد اور علاقہ سروے کے دوران سامنے آنیوالے ثبوتوں کی روشنی میں انکے خلاف سخت محکمانہ اور قانونی کارروائیوں کو یقینی بنایا جائے ۔اجلاس میں تمام ڈی آئی جیز اور ضلعی ایس ایس پیز نے شرکت کی۔ یاد رہے کہ اندھی گولیاں خواتین، بزرگوں، بچوں کو زخمی کرنے اور انکی اموات کا سبب بنتی ہیں۔ پولیس کی جانب سے اسلحہ لائسنس کی منسوخی کے لیے محکمہ داخلہ کو تفصیلات بھیجی جائیں گی۔

 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں