ہیلمٹ کے بغیر موٹر سائیکل ضبط ہو گی
کراچی (اسٹاف رپورٹر)ملیر بار کی جانب سے کراچی میں ٹریفک کے نظام کی بہتری، جدید ٹریفک نظام کے نفاذ اور حادثات سے بچاؤ کے حوالے سے بار روم میں ایک تقریب منعقد کی گئی۔۔۔
تقریب میں ڈی آئی جی ٹریفک کراچی پیر محمد شاہ، ایس ایس پی ملیر سید افتخار حسین شاہ اور دیگر افسران کے علاوہ ملیر بار کے جنرل سیکریٹری ایاز چانڈیو سمیت وکلاء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اور سوالوں کے جواب دیتے ہوئے ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے کہا کہ کراچی میں 70 لاکھ گاڑیاں ہیں جبکہ صرف پانچ ہزار ٹریفک پولیس اہلکار ہیں۔ ہم ٹریفک کے نظام کی بہتری کے لیے حکمت عملی بنا رہے ہیں۔ کراچی میں 22 ہزار بڑی گاڑیاں روزانہ سڑکوں پر چلتی ہیں، جنہیں رجسٹر کیا جا رہا ہے ۔ ہر بڑی گاڑی میں ٹریکر نصب کیا جائے گا جس سے گاڑی کی اسپیڈ اور حادثات کی معلومات حاصل کی جا سکیں گی۔ اب تک 12 ہزار بڑی گاڑیاں رجسٹر ہو چکی ہیں۔ ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے کہا کہ کراچی میں روزانہ 2 افراد حادثات کے باعث موت کا شکار ہوتے ہیں جن میں سے ایک موٹرسائیکل سوار ہوتا ہے ۔ موٹرسائیکل چلانے والوں کے لیے ہیلمٹ لازمی ہوگا، بصورت دیگر موٹرسائیکل ضبط کر لی جائے گی اور ہیلمٹ لانے کے بعد ہی بائیک واپس کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ انسانی جانوں کو بچانے کیلئے حفاظتی اقدامات پر عمل کرنا ضروری ہے ۔ کراچی کی سڑکیں اور راستے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، جس کے باعث حادثات ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون پر عمل کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے ۔ ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے کہا کہ ’’اسمارٹ ٹریفک مینجمنٹ‘‘کا نظام ایک بہترین قدم ہے ۔ اب ٹریفک اہلکار نہ چالان کریں گے اور نہ ہی کسی گاڑی کو روکیں گے ۔ ہم ایک ایسا جدید سسٹم لا رہے ہیں جس کے تحت قانون توڑنے والے کو ایپ کے ذریعے چالان موصول ہوگا۔ ہمارے پاس لاہور سے بھی زیادہ جدید نظام موجود ہے ۔