پنشن اور واجبات کی عدم ادائیگی : ذمہ دار کے ڈی اے افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کا حکم
چیف سیکرٹری کو ڈی جی کے ڈی اے ، ڈائریکٹر فنانس، سیکرٹری کے ڈی اے اور دیگر کے خلاف تحقیقات کرانے کی ہدایت غیر قانونی تعمیرات نہ روکنے پر سندھ ہائیکورٹ ایس بی سی اے پرسخت برہم،عمارت کا معائنہ اور رپورٹ پیش کرنے کاحکم
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے ادارہ ترقیات کراچی(کے ڈی اے ) کے ریٹائرڈ افسران کو پنشن اور دیگر واجبات کی عدم ادائیگی کے معاملے پر سماعت کی اور ڈی اے حکام پر برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے ذمہ دار افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ 27 جنوری کو طلب کر لی۔ عدالت نے چیف سیکرٹری سندھ کو ہدایت کی کہ وہ ڈی جی کے ڈی اے ، ڈائریکٹر فنانس، سیکرٹری کے ڈی اے اور دیگر افسران کے خلاف تحقیقات کروائیں۔ عدالت نے ڈی جی کے ڈی اے اور دیگر افسران کی تنخواہیں بھی روکنے کا حکم دیا تھا۔ درخواست گزار خلیق الزمان کے مطابق 27 افسران 2020 میں ریٹائرڈ ہوئے تھے۔
وکیل ریاض معین صدیق نے عدالت کو بتایا کہ عدالت نے پہلے ہی ریٹائرڈ افسران کو پینشن اور ریٹائرمنٹ کے تمام فوائد دینے کا حکم دیا تھا اور بقایاجات نہ ادا کرنے پر ڈی جی کے ڈی اے اور دیگر کی تنخواہیں منجمد کرنے کا بھی حکم جاری کیا گیا تھا تاہم عدالتی احکامات کے باوجود عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔ علاوہ ازیں سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے نارتھ کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے )کی جانب سے غیر قانونی تعمیرات نہ روکنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ مذکورہ عمارت کا ایک ہفتے کے اندر معائنہ کیا جائے اور رپورٹ پیش کی جائے۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگر کوئی غیر قانونی تعمیرات ہو رہی ہیں تو انہیں ایک ہفتے کے اندر ختم کرایا جائے ۔ جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیے کہ ایس بی سی اے حکام کے پاس اپنا کوئی دماغ نہیں ہے اور ان کے پاس غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کوئی قوانین موجود نہیں ہیں۔ عدالت نے سوال کیا کہ اگر کسی کو تعمیرات کی اجازت دی جاتی ہے تو کیا اس کی نگرانی کا کوئی طریقہ کار موجود ہے ، اور اگر کوئی غیر قانونی تعمیرات کر رہا ہے تو اسے روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی جاتی۔ جسٹس عدنان الکریم میمن نے مزید کہا کہ غیر قانونی تعمیرات میں ملوث افسران کو معطل کیا جائے گا۔ درخواست گزار کے مطابق پلاٹ نمبر سی 37، سیکٹر 16 بی، نارتھ کراچی پر غیر قانونی تعمیرات کی جارہی ہیں۔