بورڈ آف پیس میں شمولیت اخلاقی اعتبار سے ناقابل دفاع، مجلس وحدت

بورڈ آف پیس میں شمولیت اخلاقی اعتبار سے ناقابل دفاع، مجلس وحدت

مسلط انتظامی ڈھانچہ فلسطینیوں کاحقِ خود ارادیت چھیننے کی سازش ہے ، مقررینجارحانہ عزائم والے کوعالمی فورم کا حصہ بنانا عالمی ضمیر کیساتھ مذاق ہے ، خطاب

کراچی (اسٹاف رپورٹر)ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس میں شمولیت کا حکومتی فیصلہ نہ صرف اصولی اور پالیسی سطح پر بلکہ اخلاقی اعتبار سے بھی ناقابلِ دفاع ہے ۔ جنگ کے بعد غزہ کے لیے بیرونی مسلط انتظامی ڈھانچے کا تصور دراصل فلسطینی عوام سے ان کا بنیادی حقِ خود ارادیت چھیننے کی سازش ہے ، جس شخص کا سیاسی کیریئر جنگی دھمکیوں، عالمی جرائم و تنازعات کو ہوا دینے اور مظلوم اقوام کیخلاف جارحانہ پالیسیاں ہو، اسے امن کے نام پرکسی عالمی فورم کا حصہ بنانا عالمی ضمیر کے ساتھ مذاق ہے ۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں نے بعد نماز جمعہ خوجا جامع مسجد کے باہر مظاہرے سے خطاب میں کیا۔ احتجاج میں علامہ رفاقت علی نجفی،ناصر الحسینی،نوشاد علی سمیت مظاہرین کی بڑی تعداد موجود تھی۔

مظاہرین نے امریکہ و اسرائیل کیخلاف شدید نعرے بازی کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس سے فوری علیحدگی کا اعلان کرے ۔ مقررین نے کہا کہ تعمیرِ نو، سلامتی اور سیاسی نگرانی کو بیرونی قوتوں کے حوالے کرنا ایک واضح نوآبادیاتی سوچ کی عکاسی ہے ۔ پاکستان ہمیشہ اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی قوانین پر انحصار کرتا آیا ہے ، خصوصاً کشمیر جیسے معاملات میں جہاں پاکستان عالمی قانونی حیثیت کی بالادستی پر زور دیتا ہے ۔ ایک طرف اقوامِ متحدہ کی مرکزیت کا دفاع اور دوسری طرف ایسے اقدامات میں شمولیت جو اسی ادارے کو کمزور کریں، ایک ناقابلِ فہم تضاد ہے ۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر اس فیصلے کو واپس لے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں