اردو یونیورسٹی کا مالی بحران سنگین، ایسوسی ایشنز کا ہنگامی اجلاس

 اردو یونیورسٹی کا مالی بحران سنگین، ایسوسی ایشنز کا ہنگامی اجلاس

ناکافی گرانٹ پر تشویش، بیل آؤٹ پیکیج کا مطالبہ، جدوجہد جاری رکھنے پر اتفاق شیخ الجامعہ سے ملاقات، ٹریژرار سے مالیاتی کارکردگی رپورٹ فراہم کرنیکا مطالبہ

کراچی(سٹی ڈیسک)وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کو درپیش سنگین مالی بحران کے پیشِ نظر کراچی کیمپس کی تمام منتخب ایسوسی ایشنز کا ایک ہنگامی مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں یونیورسٹی کی موجودہ مالی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں اساتذہ اور ملازمین کو درپیش معاشی مسائل، زیرِ التواء واجبات اور بڑھتے ہوئے مالی دباؤ پر تفصیلی غور کیا گیا اور آئندہ مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت جدوجہد جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس کے شرکاء نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے دی جانے والی موجودہ گرانٹ ناکافی ہے ،جبکہ دیگر جامعات کی طرح وفاقی اردو یونیورسٹی کیلئے بھی بیل آؤٹ پیکیج دیا جانا ناگزیر ہو چکا ہے ۔ شرکاء نے صدرِ پاکستان، وفاقی وزیرِ تعلیم اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)سے فوری مالی معاونت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

کہا کہ 3 جامعات کے لیے مختص بیل آؤٹ فنڈ میں سے صرف ایک جامعہ کو فنڈ دینا وفاقی جامعہ کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے ۔ہنگامی اجلاس کے بعد مشترکہ ایسوسی ایشنز کے نمائندہ وفد نے شیخ الجامعہ وفاقی اردو یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وفد نے یونیورسٹی کی مجموعی مالی حالت پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ٹریژرار سے گزشتہ دو برسوں کی مالیاتی کارکردگی کی مکمل اور تفصیلی رپورٹ طلب کی۔وفد نے خاص طور پر سولہ ماہ سے واجب الادا سیلنگ الاؤنس اور تین ماہ کی تنخواہوں کے ڈیفیسٹ کی نشاندہی کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ان واجبات کی ادائیگی کے لیے کون سا واضح اور قابلِ عمل منصوبہ موجود ہے اور یہ مالی بحران کس مدت میں حل کیا جائے گا۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں