تاریخ پر تاریخ ،کریم آباد انڈر پاس کی تعمیر ڈھائی سال سے تاخیر کا شکار

تاریخ پر تاریخ ،کریم آباد انڈر پاس کی تعمیر ڈھائی سال سے تاخیر کا شکار

لاگت 1.35ارب سے بڑھ کر 3.81ارب روپے تک جا پہنچی، منصوبہ چار بار نئی تاریخوں کے باوجود مکمل نہ ہو سکا طویل تعمیراتی کام اور سڑکوں کی بندش سے تاجروں کا کاروبار تباہ ہوگیا، کئی دکاندار دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گئے

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)کا کریم آباد انڈر پاس فروری2026 کے پہلے ہفتے میں کھولنے کے اعلان کے باوجودانڈر پاس منصوبہ ڈھائی سال گزرنے کے بعد بھی تاخیر کا شکار ہے ۔23 دسمبر 2023 میں شروع ہونے والا 1.35 ارب کا منصوبہ بڑھ کر 3ارب 81 کروڑ 7لاکھ 47 ہزار روپے تک جا پہنچا ہے ۔کریم آباد انڈر پاس منصوبے کو مکمل کرنے کی تاریح پہلے ستمبر2024 پھر ستمبر2025 پھر فروری 2026 اور اب وزیر اعلی سندھ کی جانب سے انڈر پاس کے تکمیل کی چوتھی بار نئی تاریخ جون2026سامنے آئی ہے ۔سندھ حکومت او ر میئر کراچی کریم آباد انڈر پاس کو جلد مکمل کرنے کے بجائے تاریخ پر تاریخ دیے جارہے ہیں۔کریم آباد انڈر پاس کی تکمیل میں تاخیر کے باعث دکانداروں کا کاروبار تباہ ہوگیا ۔دوسری جانب رمضان المبارک کی آمد آمد ہے تاہم سال2026میں بھی کریم آباد انڈر پاس کی تعمیرات میں تاخیر کے باعث رمضان کے دوران تاجراور دکاندار اپنا کاروبار نہیں چلاسکیں گے ۔ انڈر پاس کی تکمیل کی تاریخ جون 2026 تک مؤخر ہونے کے بعد کئی کاروباری مالکان سوال کر رہے ہیں کہ آیا وہ ایک اور سال آمدنی کے نقصان کے ساتھ برداشت کر پائیں گے یا نہیں۔کریم آباد کے مرکز میں خواتین کے ملبوسات کے تاجر عبدالکریم عابد نے بتایا کہ منصوبے کی تاخیر نے ان کا کاروبار کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔

انڈر پاس کی تعمیر میرے لیے سب کچھ تباہ کر گئی۔تقریباً ڈھائی سال سے یہ انڈر پاس منصوبہ مارکیٹ کی رونق متاثر کر رہا ہے جس کے باعث میرے جیسے کئی کاروباری مالکان دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔کریم آباد جو درمیانے طبقے کیلئے مشہور خریداری کا مرکز ہے کبھی ایک پررونق حب ہوا کرتا تھا، خاص طور پرسردیوں اور گرمیوں کے سیزن کے دوران یہ مارکیٹ خریداروں سے بھری ہوتی تھی، تاہم منصوبے کے آغاز کے بعد سے ٹریفک میں کمی اور گاہکوں کی آمد گھٹ گئی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ وہ خواتین جو موسم کے مطابق ملبوسات خریدنے آتی تھیں، اب یہاں نہیں آتیں،یہ صورتحال علاقے کے دیگر دکانداروں کے لیے بھی یکساں ہے ۔ہر کاروبار طویل تعمیراتی کام اور سڑکوں کی بندش سے شدید متاثر ہے ۔ برائیڈل ویئر کے تاجر ارسلان حسین نے کہا کہ یہ ہمارے لیے یہ مشکلات موت کے مترادف ہے ۔مہنگائی پہلے ہی صارفین کے بجٹ پر دباؤ ڈال رہی ہے اور نقصان زدہ سڑکوں پر گزرنے کی اضافی مشکلات کے سبب کئی گاہک قریبی اور آسان مارکیٹوں کا رخ کر رہے ہیں۔ اب ایک ایسا خوابِ میں بدل گئی ہے جو ان کی روزی روٹی کو خطرے میں ڈال رہی ہے ۔دکانداروں کو اپنی دکان کا کرایہ اور سیلز مین کی ماہانہ تنخواہ نکالنا مشکل ہو گیا ہے ۔ ایک دکاندار نے مزید بتایا کہ ہماری دکان میں 6 سیلزمین تھے جس میں سے چار سیلز مین دکان سے فارغ کر دیے ،ہمیں اپنی دکان کا کرایہ نکالنا مشکل ہوگیا ہے ۔دکانوں کے کرائے 80 ہزار روپے تک ہیں جب ہمارے پاس کسٹمر نہیں آئے گے تو ہماری دوکانداری کیسے چلے گی؟کریم آباد انڈر پاس کی تعمیرات کے باعث ہمارا کاروبار مکمل طور پر ٹھپ ہوگیا ہے ، ہمارے گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت آگئی ہے ۔ دکاندار اور مقامی رہائشی اس سوچ میں مبتلا ہیں کہ وہ اس صورتحال کو کتنے عرصے تک برداشت کرسکیں گے ۔ منصوبے کی بروقت تکمیل اور مارکیٹ تک رسائی کی بحالی کے بغیر کئی افراد خوفزدہ ہیں کہ نقصان ناقابلِ تلافی ہوسکتا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں