چھالیہ ٹیرف ،عدالت کا حکومت سے تحریری جواب طلب
اضافی ڈیوٹی کے باعث 200کنسائنمنٹس بندرگاہوں پرموجود، تاجرپریشانکمیٹی کی ایک بار استثنیٰ کی تجویز، سمری وزیراعظم کو بھجوا دی ،سرکاری وکیل
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے چھالیہ کی درآمدات پر ٹیرف میں اضافے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے سرکاری وکیل سے تحریری جواب طلب کرلیا جبکہ کیس کی مزید سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ چھالیہ کی درآمد سے متعلق ٹیرف میں اضافے کے باعث تاجروں کے تقریباً 200 کنسائنمنٹس بندرگاہوں پر کھڑے ہیں جنہیں کلیئر نہیں کیا جا رہا ۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل محسن شاہوانی نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کو تاجروں کی پریشانی کا مکمل احساس ہے ،اس معاملے پر ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ کمیٹی نے اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں جن میں یہ تجویز دی گئی کہ ایک مرتبہ تاجروں کو اضافی ٹیرف سے استثنیٰ دیا جائے تاکہ زیر التواء کنسائنمنٹس کلیئر ہو سکیں۔
سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعظم کی مصروفیات کے باعث کمیٹی کی سفارشات کی منظوری التواء کا شکار ہے تاہم حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے ۔درخواست گزار کمپنی سلور انٹرپرائز کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ چھالیہ کی درآمد پر ٹیرف میں اضافے کی باقاعدہ کوئی اطلاع نہیں دی گئی جبکہ کسٹمز حکام یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے سنا ہے کہ ٹیرف میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ وکیل درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ ٹیرف میں غیر یقینی صورتحال سے تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوں گی اور درآمد کنندگان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔