پی ایم اے کا ایف بی آر زیادتیوں کیخلاف مزاحمت کا اعلان
اجلاس میں ڈاکٹروں کو ہراساں کرنے ، چھاپوں پر زیرو ٹالرینس کا اظہارپی او ایس نفاذ مسترد، طبی پریکٹس تجارتی سرگرمی نہیں ،مرکزی کونسل
کراچی(این این آئی)پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے )کی مرکزی کونسل نے ایف بی آر کی بڑھتی ہوئی زیادتیوں کے خلاف شدید مزاحمت شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔یہ فیصلہ اتوارکو پی ایم اے ہاؤس کراچی میں منعقدہ ہنگامی اجلاس میں کیاگیا۔پی ایم اے کی صوبائی اور مرکزی قیادت نے ایف بی آر کے حالیہ اقدامات کوجو صحت کی دیکھ بھال کے پیشہ ور افراد کو ڈرانے اور طبی عمل کے تقدس کو پامال کرنے کے مترادف قرار دیدیا ۔ پی ایم اے کی مرکزی کونسل نے ڈاکٹروں کو منظم طریقے سے ہراساں کیے جانے ، خاص طور پر پنجاب میں اس وقت سامنے آنے والے جارحانہ ہتھکنڈوں کیلئے شدید غم و غصے اور زیرو ٹالرینس کا اظہار کیا۔انہوں نے مداخلت کرنے والے چھاپوں اور طبی سہولتوں کی رازداری کی خلاف ورزی کرنے والے زبردستی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے ایف بی آر حکام کے طرز عمل کی شدید مذمت کی، ان کارروائیوں کو نہ صرف انتظامی حد سے تجاوز کے طور پر دیکھا جاتا ہے بلکہ صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والوں کی ذہنی تندرستی پر براہ راست حملے اور مریضوں کی دیکھ بھال میں خطرناک مداخلت کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔پی ایم اے نے پوائنٹ آف سیل سسٹم کے نفاذ اور دفعہ 175سی کے تعزیری اطلاق کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹر زندگی بچانے والے ہیں، خوردہ دکاندار نہیں، طبی پریکٹس تجارتی سرگرمی نہیں ہے ، ہنگامی ماحول میں پی او ایس سسٹم مسلط کرنا تکنیکی طور پر مضحکہ خیز اور پیشہ ورانہ طور پر توہین آمیز ہے ۔